Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / دلت طلبہ کی تحریک کہیں مودی کیلئے منڈل کمیشن موومنٹ نہ بن جائے

دلت طلبہ کی تحریک کہیں مودی کیلئے منڈل کمیشن موومنٹ نہ بن جائے

سیلش سنگھ
یونیورسٹی آف حیدرآباد کے ریسرچ اسکالر روہت ویمولا کی خودکشی نے نہ صرف ملک بلکہ عالمی توجہ اپنی جانب مبذول کرائی ہے ۔ پورے ہندوستان میں اور خصوصاً یونیورسٹیوں کے کیمپس میں لگاتار احتجاجی مظاہرے جاری ہیں ۔ جہاں جہاں بھی دلت اسٹوڈنٹس زیر تعلیم ہیں ، وہاں وہاں روہت ویمولا کی خودکشی کے معاملے پراحتجاج مظاہرے کئے جارہے ہیں اور ویمولا کے ساتھ انصاف کئے جانے کا مطالبہ کیا جارہا ہے ۔ خاص طور پر ہندوستان کی اس مشہور حیدرآباد یونیورسٹی میں یہ احتجاج زوروں پر ہے ۔ جہاں تعلیم و تدریس کا سلسلہ ہفتوں تک منقطع ہورہا ۔ میں چند روز قبل یونیورسٹی آف حیدرآباد گیا تھا وہاں جس چیز نے مجھے سب سے زیادہ چونکایا وہ یہ تھا کہ اس وقت جو کچھ پورے ملک اور حیدرآباد یونیورسٹی میں چل رہا ہے اس نے 1990 میں وی پی سنگھ حکومت کے زمانے میں منڈل کمیشن کی سفارشات کے خلاف طلبہ تحریک کی یاد دلادی ۔
اب ہم اس ماضی کے دور (1990) کی جانب اپنی توجہ مبذول کرتے ہیں ۔ اس وقت جب منڈل کمیشن سفارشات کے خلاف طلبہ کی تحریک جاری تھی اس کا مرکز دہلی یونیورسٹی تھا ۔ اس تحریک کو بیشتر اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے طلبہ گروپس کی حمایت حاصل تھی ۔ لیکن یہ تحریک اسٹوڈنٹس کے مختلف گروپس کے نظریاتی اختلاف کا شکار ہوگئی ۔ وی پی سنگھ کو مسیحا سمجھنے والی طلبہ برادری ان کے سحر سے دور ہوگئی ۔ وہ تحریک غیر منظم تھی، جس میں لیڈرشپ کی کمی تھی ، جس طرح آج کے دلت موؤمنٹ کی حالت ہے ۔ اس کا بھی حشر وہی ہونے والا ہے جو منڈل کمیشن کا ہوا تھا ۔
حیدرآباد یونیورسٹی کیمپس میں جو کچھ میں نے دیکھا ، اس سے یہی نتیجہ اخذ کرسکتا ہوں کہ یہ تحریک امبیڈکر اسٹوڈنٹس اسوسی ایشن کے بینر تلے شروع ہوئی لیکن اس میں کوئی لیڈرشپ نہیں ہے اور نہ ہی آپس میں کوئی  تال میل ہے ۔ متعدد قومی سیاسی قائدین نے اس کیمپس کا دورہ کیا اور طلبہ کے ساتھ اپنی ہمدردی کا اظہار کیا ۔ ان میں سے کچھ نے اپنے سیاسی مفاد کی خاطر ویمولا کی خودکشی کے ایشو کو اٹھایا ۔ کچھ سیاسی قائدین نے اس احتجاج میں حصہ لیا ۔ کچھ کو مین گیٹ سے واپس جانا پڑا کیونکہ وہاں سخت سیکورٹی بندوبست کے باعث وہ یونیورسٹی کیمپس میں داخل نہیں ہوسکے، کچھ کو طلبہ کی مخالفت کا سامنا کرتے ہوئے یونیورسٹی کے باب الداخلہ سے ہی واپس ہوجانا پڑا ۔ ڈونیشن باکس کی تنصیب احتجاجی مقام پر عمل میں لائی گئی ہے ، لیکن بہت سے بیرونی افراد یونیورسٹی گیٹ پر سخت سیکورٹی چیکس کی وجہ سے اندر نہیں جاسکتے ۔ یہ احتجاج غیر منظم ہے جس میں طلبہ کے درمیان کوئی تال میل نہیں ہے ۔ حالانکہ اب بھی ان میں غم و غصہ پایا جاتا ہے اور یونیورسٹی کیمپس میں خوف و ہراس کا ماحول موجود ہے ۔
1990 میں اونچی ذات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے ذریعہ چلائی جارہی منڈل کمیشن کی تحریک کامیاب نہ ہوسکی جو کمیشن کے سفارشات کے نفاذ کی مخالفت کررہی تھی ۔ جس میں نیچی ذات سے تعلق رکھنے والے طلبہ کے حق کی بات کہی گئی تھی ۔ آج بھی ٹھیک وہی حالت ہے کہ جہاں مودی حکومت کی جانب سے فوری طور پر ان طلبہ کی راحت رسانی کے اقدامات کئے گئے خاص طور پر ان کے مطالبے پر غور کرنے کی بات حکومت نے کہی کہ وہ ان کے مطالبے پر سنجیدگی سے غور و خوض کررہی ہے۔ یہ موؤمنٹ مودی کی امیج کو بگاڑ سکتی ہے جس طرح سے منڈل احتجاج نے اس وقت کے وزیراعظم وی پی سنگھ کی شبیہ بگاڑ کر رکھ دی تھی ۔
فی الوقت دلت اسٹوڈنٹس کی تحریک میں جو شدت پیدا ہوئی ہے ، اس کی وجہ سے آر ایس ایس کا وہ خواب چکنا چور ہوسکتا ہے ، جس کا خواب وہ اعلی تعلیمی اداروں میں دیکھ رہی ہے ۔ مودی حکومت کے ذریعہ وہ تمام اعلی تعلیمی اداروں میں اپنے آئیڈیالوجی کو تھوپنا چاہتی ہے اور وہاں ہندوتوا کے پرچم کو لہرانے کا ارادہ رکھتی ہے ۔ لیکن اگر دلت موومنٹ کامیاب ہوجاتا ہے تو ہندوستان کے تعلیمی سیکٹرس میں اونچی ذات والوں کی بالادستی پر سوالیہ نشان کھڑا کرسکتا ہے ۔ وہاں ان اونچی ذات والے طلبہ اور اساتذہ کی بالادستی داؤ پر لگ سکتی ہے ۔
دلت اسٹوڈنٹس موبلائزیشن جو مساوات اور انصاف کے لئے ہے ، اب اس کا پوری طرح آغاز ہوچکا ہے ۔ اب یہ ایک تحریک کی شکل اختیار کرچکا ہے اور روہت ویمولا کی المناک موت نے انھیں فوری طور پر ایک پلیٹ فارم فراہم کردیا ہے ، جس کے ذریعہ وہ پورے ملک میں دلت تحریک کو مضبوط بنانے کا کام کرسکتے ہیں ۔ اس موومنٹ کا ہم کو شکریہ ادا کرنا چاہئے کیونکہ اس کے ذریعہ سنگھ پریوار کا دلتوں کو ہندوتوا کے دائرے میں لانے کا خواب چکنا چور ہوسکتا ہے ۔ وہ اس کی وجہ سے سخت مشکلات میں مبتلا ہوسکتے ہیں ۔ سیاسی طور پر دلت طلبہ کا احتجاج آگے اونچی ذات والے طلبہ کو مودی کے آس پاس لانے میں مددگار ثابت ضرور ہوسکتا ہے لیکن ٹھیک اسی وقت ان کی اس کوشش پر پانی پھیر سکتا ہے جس کے ذریعہ وہ (مودی) پورے ملک کے ہندوؤں خصوصاً نوجوانوں کا مسیحا بننے کا خواب دیکھ رہے ہیں ۔
مودی کے وزراء کا راست طور پر روہت ویمولا خودکشی معاملے میں ملوث ہونے کی بات منظرعام پر آنے کے بعد یونیورسٹی آف حیدرآباد میں ذات پات کی سیاست کو فروغ دینے کا موقع مل گیا ہے جس کے باعث مودی کی امیج بگڑنے لگی ہے ۔ وہ نوجوانوں کے آئیڈیل کے طور پر ابھر کر سامنے آنا چاہتے تھے ۔ دلت اسٹوڈنٹس احتجاج منڈل ایجی ٹیشن کی طرح ملک کو ایک بار پھر تقسیم کرنے کے خطرات سے دوچار کردیا ہے ۔ خاص طور پر تعلیمی اداروں کو ذات پات کی بنیادوں پر منقسم کرنے کا کام شروع کردیا ہے ۔ اس کی وجہ سے دلت نوجوانوں کا مودی کا ووٹ بینک بننے والا فارمولا ناکام ہوگیا ہے ۔ ساتھ ہی نوجوانوں میں مودی کی مقبولیت میں بھی کمی آئی ہے ۔ جس طرح سے وی پی سنگھ منڈل کمیشن کے مسیحا کے طور پر اپنی امیج بگاڑلی تھی ، اس طرح اب مودی کی اپیل کی بھی نوجوانوں اور طلبہ میں کوئی خاص اہمیت نہیں رہ گئی ہے ۔ مودی نے روہت ویمولا خودکشی کے معاملے میں اپنا ردعمل ظاہر کرنے میں پانچ دن لگائے لیکن اب وقت آگیا ہے کہ وہ تیزی کے ساتھ اس معاملے پر اقدام کریں ، ورنہ اس معاملے کو سلجھانے میں جس قدر بھی تاخیر ہوگی ، وہ تاخیر مودی حکومت اور مودی کے لئے ناسور بن سکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT