Thursday , June 29 2017
Home / ہندوستان / دلت ۔ مسلم اتحاد سے ہی تمام مسائل کا حل ممکن

دلت ۔ مسلم اتحاد سے ہی تمام مسائل کا حل ممکن

پسماندہ طبقات کا بھی تحفظ کیا جاسکے گا ،جسٹس سہیل اعجاز صدیقی کی میڈیا سے بات چیت
نئی دہلی 18 مئی (سیاست ڈاٹ کام) اس استدلال کے ساتھ کہ ملک میں امن انصاف اوربدحال لوگوں کی خوشحالی کے لئے دلت ۔ مسلم اتحاد کی ضرورت کل کے مقابلے میں آج اوربھی زیادہ ہے ۔ آل انڈیا فیڈریشن فار سوشل جسٹس کے صدر جسٹس سہیل اعجاز صدیقی نے کہا کہ اگرچہ ملک کی ہندو اکثریت سیکولر ہے لیکن مسلمانوں کے مسائل کا حل دلتوں کے ساتھ اتحاد میں مضمر ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت ملک کو دیگر چیلنجوں سے کہیں زیادہ ایک ایسے معاشرتی تناؤ کا سامنا ہے جس کا مقابلہ مسلمان، دلت، آدیواسی اور دیگر پسماندہ طبقات نے اگر اپنے اپنے طور پر کرنے کی کوشش کی تو وہ سیاسی شعبدہ بازوں کے ہتھے چڑھ جائیں گے ۔ یہ کام صرف ان کے آپسی اتحاد کے ذریعہ ممکن ہے جس کا بیڑہ فیڈریش نے اٹھایا ہے ۔یہ پوچھے جانے پر کہ کیا اس طرح ایک نیا سیاسی محاذ کھولا جارہا ہے ، نیشنل کمیشن فور مانیٹری ایجوکیشن آف انڈیا کے سابق چیرمین نے اس خیال کو دوٹوک مسترد کرتے ہوئے کہا کہ اگرچہ وہ اس محاذ پر آنجہانی کانشی رام کی خدمات کا احترام کرتے ہیں لیکن فیڈریشن اس کوشش کے حوالے سے قطعی غیر سیاسی پلیٹ فارم ہے جس کا مقصد گاؤں، ضلع ،ریاستوں اور قومی سطح تک ایک ایسی بیداری پیدا کر نا ہے جو دلتوں ، مسلمانوں اور دیگر پسماندہ طبقات کومزید کسی کا آلہ کار بننے سے عملی طور پر بچائے ۔فیڈریشن کے نائب صدر سید قطب الرحمان، مجلس مشاورت کے چیئر مین پروفیسر نفیس احمد، ایڈیشنل سکریٹری انجینئر محمد اسلم کی غیر موجودگی میں جسٹس صدیقی نے میڈیا کے ایک سے زیادہ تیکھے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ انہیں یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ اس ملک میں ایک سے زیادہ مذاہب کی نام نہاد اعلی ذاتیں انسانوں کے ساتھ انسانی معاملات میں تنگ دل ثابت ہوئی ہیں ۔ خاص طور پر مسلمانوں کو نہ تو غیر سمجھا گیا نہ ہی دل سے اپنایا گیا ۔طلاق ثلاثہ سے متعلق جاری مسلکی بحث پر ایک سوال کو غیر متعلق قرار دیکر اس کا راست جواب دینے سے گریز کرتے ہوئے جسٹس صدیقی نے اتنا کہنے پر اکتفا کیا کہ اس وقت مسلمانوں کے بکھراؤ کا یہ عالم ہے کہ ان کی شناخت فسادات میں مارے جانے کے بعد ہی ہوپاتی ہے ۔ عام حالات میں تو وہ اپنی بس ذات اور مسلک سے پہچانے جاتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ اس بھید بھاؤ نے بھی اس ملک میں فرقہ پرستی کو بڑھاوا دیا لیکن وہ اس سے بھی مثبت استفادہ کے حق میں ہیں اور سمجھتے ہیں کہ اتر پردیش میں یوگی حکومت کا قیام دلت مسلم اتحاد کو وہ مہمیز لگا سکتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT