Saturday , August 19 2017
Home / شہر کی خبریں / دلسکھ نگر دھماکے کیس میں فیصلہ 13 ڈسمبر تک ملتوی

دلسکھ نگر دھماکے کیس میں فیصلہ 13 ڈسمبر تک ملتوی

حیدرآباد 21 نومبر ( پی ٹی آئی ) قومی تحقیقاتی ایجنسی ( این آئی اے ) کی تحقیقات والے مقدمات کی سماعت کرنے والی خصوصی عدالت نے فبروری 2013 کے دلسکھ نگر جڑواں بم دھماکوں کے مقدمہ کا فیصلہ 13 ڈسمبر کو مقرر کیا ہے ۔ 7 نومبر کو اس مقدمہ میں قطعی سماعت خصوصی عدالت میں مکمل ہوگئی تھی جو چرلہ پلی سنٹرل جیل میں قائم ہے ۔ اس وقت عدالت نے فیصلہ 21 نومبر کو سنانے کا اعلان کیا تھا ۔ تاہم آج عدالت نے فیصلہ 13 ڈسمبر کو سنانے کا اعلان کیا ہے ۔ چونکہ اس مقدمہ کے اصل ملزم انڈین مجاہدین کا بانی ریاض بھٹکل ہنوز مفرور ہے اس لئے اس کے خلاف مقدمہ الگ کردیا گیا ہے ۔ پانچ دوسرے ملزمین انڈین مجاہدین کے شریک بانی یسین بھٹکل ‘ پاکستانی شہری ضیاء الرحمن عرف وقاص ‘ اسد اللہ اختر عرف ہادی ‘ تحسین اختر عرف مونو اور اعجاز شیخ کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ یہ سب فی الحال چرلہ پلی جیل ہی میں قید ہیں۔ تمام پانچ ملزمین آج بھی جج کے روبرو حاضر ہوئے جس کے بعد فیصلہ 13 ڈسمبر کو سنانے کا اعلان کردیا گیا ۔ دلسکھ نگر میں 21 فبروری 2013 کو کونارک اور وینکٹادری تھیٹرس کے قریب ہوئے دو ہلاکت خیز دھماکوں میں 18 افراد ہلاک ہوگئے تھے ۔ یہ پہجوم تجارتی علاقہ ہے ۔ ملزمین کے خلاف انسداد غیر قانونی سرگرمیاں قانون 1967 اور دوسرے دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا تھا ۔ این آئی اے کے بموجب سازش کی تحقیقات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ریاض بھٹکل نے دھماکو مادے فراہم کئے تھے اور اسد اللہ اختر اور ضیاء الرحمن کو منگلور میں ہدایت دی تھی کہ وہ دھماکو مادے حاصل کرلیں۔ دھماکو مادے اور ریاض بھٹکل کی جانب سے حوالہ اور دیگر چینلس سے روانہ کردہ رقومات حاصلکرنے کے بعد اسد اللہ اختر اور وقاص حیدرآباد پہونچے اور تحسین اختر سے ملاقات کی جو یہاں روپوش تھا ۔ سب نے عصری دھماکو مادے دوسرے ضروری سامان حاصل کرنے کے بعد تیار کئے اور دو سائیکلیں بھی حاصل کئے تاکہ یہ مادے لگا سکیں۔ تیاریاں کرنے کے بعد ملزمین نے 21 فبروری 2013 کو دلسکھ نگر میں دو مقامات پر رکھ دئے جس کے نتیجہ میں طاقتور دھماکہ ہوا ۔

TOPPOPULARRECENT