Thursday , August 24 2017
Home / Health / دل کی تیز دھڑکن ، ذیابیطس کے خطرہ کی نقیب

دل کی تیز دھڑکن ، ذیابیطس کے خطرہ کی نقیب

جن افراد کے قلب کی دھڑکنیں تیز ہوتی ہے ، انھیں ذیابیطس لاحق ہونے کے خطرہ میں اضافہ ہوجاتا ہے ۔ ۔ دل کی دھڑکن کی شرح اور ذیابیطس میں تعلق کے بارے میں ایک نئی تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ آئندہ ذیابیطس لاحق ہونے کے خطرہ کا اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔اس چار سالہ تحقیق میں 37,357 چینی بالغوں نے حصہ لیا تھا ۔ محققین نے کہا کہ دل کی تیز دھڑکن بھوک کی حالت میں گلوکوز کی سطحوں سے اور ایسے افراد کو ذیابیطس لاحق ہونے کے خطرہ سے مربوط ہے ۔ تقریباً ایک لاکھ چینیوں کے دل کی تیز دھڑکن کے بارے میں تحقیق کی گئی اور انھیں چار سال تک زیرنگرانی رکھا گیا ۔
اسوسی ایٹ پروفیسر تغذیاتی علوم ژیانگ گاؤ نے کہاکہ جن افراد کے دلوں کی دھڑکن تیز رفتار اور خودکار کارکردگی کمتر ہوتی ہے ، انھیں ذیابیطس لاحق ہونے کا زیادہ خطرہ ہوتا ہے ۔دل کی دھڑکن کی شرح میں فی منٹ دس کا اضافہ ، ذیابیطس کے خطرہ میں 23 فیصد اضافہ کرتا ہے ۔
یہ جسم کے حجم میں اضافہ کے اشاریہ میں 3 کیلوگرام فی مربع میٹر اضافہ کے مماثل ہے ۔ محققین نے اپنی تحقیق کے نتائج کا سابق سات تحقیقوں کے نتائج سے تقابل کیا جو شائع ہوچکی تھیں اور 97,653 مرد و خواتین کے بارے میں تحقیق کی ۔ جن افراد کے دلوں کی دھڑکن تیز رفتار تھی انھیں سست رفتار دل کی دھڑکن والے افراد کی بنسبت ذیابیطس کا خطرہ 59 فیصد زیادہ تھا ۔
مرض کی نشاندہی کرنے والی علامات صرف نشاند ہی کرتی ہیں ، مرض کی وجہ  نہیں ہوتیں۔ ذیابیطس شکری عالمگیر سطح پر ایک وبا کی شکل اختیار کرگئی ہے ۔ چینی بالغ افراد کا تقریباً 12 فیصد ذیابیطس کا خطرہ رکھتا ہے اور ان میں سے 50 فیصد ماقبل ذیابیطس مرحلہ میں ہیں۔ امریکی ذیابیطس ایسوسی ایشن کے بموجب ماقبل ذیابیطس حالت خون میں گلوکوز کی سطحیں معمول سے زیادہ ہونے کو کہتے ہیں لیکن یہ سطحیں ذیابیطس کے مریضوں کی سطحوں کے مساوی بلند نہیں ہوتیں۔
محققین نے 2006-07 کے دوران بنیادی امتحانی طورپر دل کی دھڑکن کی شرح کے بارے میں تحقیق کی ۔ پانچ منٹ کے آرام کے بعد انھوں نے 12 جست کے الیکٹرو کارڈیو گرامس کے ذریعہ دل کی دھڑکن کی شرحیں درج کیں۔ تحقیق میں شریک تمام افراد چت لیٹے ہوئے تھے ۔ بعد میں چار سال تک مشاہدہ کے دوران محققین نے شناخت کی کہ 17,463 افراد ماقبل ذیابیطس حالت میں تھے اور 4649 افراد کو ذیابیطس ہوچکی تھی ۔ 2006 ء سے تحقیق کا آغاز کیا گیا اور ہر دو سال کے وقفہ سے گلوکوز کی سطحوں کی پیمائش کی گئی ۔ یہ تحقیق بین الاقوامی رسالہ برائے وبائی امراض اور ان کا علاج میں      شائع ہوچکی ہے۔
سیاست
سہاجہ
عوامی

TOPPOPULARRECENT