Monday , August 21 2017
Home / Health / دل کی تیز دھڑکن ہوتی ہے خطرے کی علامت !

دل کی تیز دھڑکن ہوتی ہے خطرے کی علامت !

ہوسکتا ہے یہ پڑھ کر آپ کی دل کی دھڑکن کچھ تیز ہوجائے کہ دھڑکن کی رفتار کو آئندہ دو دہائیوں میں موت کے امکانات کی پیشنگوئی کیلئے استعمال کیا جاسکتا ہے۔یہ دعویٰ چین میں ہونے والی ایک نئی طبی تحقیق میں سامنے آیا ہے۔
تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ جن افراد کی دل کی دھڑکن فی منٹ 80 ہوتی ہے ان میں اگلے 20 برسوں میں کسی بھی وجہ سے موت کا خطرہ 45 فیصد تک بڑھ جاتا ہے۔
چنگ ڈاؤ یونیورسٹی کی تحقیق کے مطابق بیشتر افراد کی دل کی دھڑکن کی رفتار 60 سے 100 فی منٹ ہوتی ہے مگر پیشہ ور ایتھلیٹس کا دل فی منٹ 40 بار دھڑکتا ہے۔دل کی سست دھڑکن کو طبی ماہرین زیادہ صحت مند اور فٹ دل کی علامت قرار دیتے ہیں۔
محققین نے دریافت کیا ہے کہ دل کی دھڑکن کی رفتار میں فی منٹ 10کا اضافہ بھی موت کا خطرہ 9 فیصد تک بڑھ جاتا ہے، جبکہ ہارٹ اٹیک یا فالج کے امکان میں آٹھ فیصد اضافہ ہوجاتا ہے۔محققین نے دل کی دھڑکن اور موت کے درمیان تعلق کو دریافت کرنے کیلئے 12 لاکھ افراد پر ہونے والی 45 طبی مطالعوں کا جائزہ لیا۔محققین نے کہا ہے کہ دل کی دھڑکن سب سے سست رات کو ہوتی ہے جب جسم سکون کی حالت میں ہوتا ہے اور اس وقت ہی درست ترین ریڈنگ ممکن ہوتی ہے۔ان کا کہنا ہے کہ نتائج سے معلوم ہوتا ہے کہ لوگوں کو اپنی صحت کے حوالے سے دل کی دھڑکن کی رفتار پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے اور جسمانی سرگرمیوں کی اہمیت کو سمجھنا چاہئے جو دھڑکن کی رفتار کو سست کرتی ہیں۔
خیال رہے طبی ماہرین کے مطابق 18 سے 35 سال کے مردوں میں 56 سے 61 بار دل کا دھڑکنا مناسب ترین ہوتا ہے جبکہ 80 سے اوپر جانا خطرے کی علامت ہوسکتا ہے۔اسی طرح خواتین میں یہ تعداد 61 سے 65 بہترین کیلئے ہے جبکہ 83 سے اوپر خطرناک ثابت ہوسکتی ہے۔یہ تحقیق طبی جریدے کینیڈین میڈیکل ایسوسی ایشن جرنل میں شائع ہوئی۔
آٹھ گھنٹے کی نیند صحت اور شخصیت کیلئے ضروری ہوتی ہے مگر اب طبی محققین اس کے ایک اور فائدے کو سامنے لائے ہیں۔
امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ جو لوگ رات کو آٹھ گھنٹے کی نیند لیتے ہیں ان کی یاداشت بھی دیگر افراد کے مقابلے میں نمایاں حد تک بہتر ہوتی ہے۔
برگھم اینڈ ویمن ہاسپٹل کی اس تحقیق میں بتایا گیا ہے کہ نیند کے دوران کئی طرح کی یاداشتیں بہتر ہوتی ہیں مگر ہماری تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اس عادت کو اپنانے سے نئے چہروں اور ناموں کو یاد رکھنے کی صلاحیت بھی بہتر ہوجاتی ہے۔تحقیق کے دوران جب رضاکاروں کو مکمل نیند کا موقع دیا گیا تو ان کے اندر چہرے کے ساتھ نام کو شناخت کرنے کی صلاحیت بھی بڑھ گئی اور وہ اعتماد سے جواب دینے لگے۔
محققین کے مطابق نئی چیزوں کو سیکھنے کے بعد سونا یاداشت کو بہتر بناتا ہے۔اس تحقیق کے دوران نوجوان رضاکاروں کی مدد لی گئی تاہم تحقیقی ٹیم کا کہنا ہے کہ اس کا اطلاق ہر عمر کے افراد پر ہوتا ہے۔
محققین کا کہنا تھا کہ نئی معلومات کو سیکھنے کیلئے نیند بہت اہم ہے اور عمر بڑھنے کے ساتھ نیند کا دورانیہ متاثر ہونے سے لوگوں کو یاداشت کے مسائل کا سامنا ہوتا ہے۔
یہ تحقیق طبی جریدے جرنل نیورولوجی آف لرننگ اینڈ میموری میں شائع ہوگی۔

TOPPOPULARRECENT