Tuesday , September 26 2017
Home / Health / دماغ کے اسٹیم خلیوں کی افزائش نو میں ہلدی کے مرکب سے اضافہ

دماغ کے اسٹیم خلیوں کی افزائش نو میں ہلدی کے مرکب سے اضافہ

سائنس دانوں نے پتہ چلایا ہے کہ ایک حیاتیاتی سرگرم مرکب جو معمولی سمجھی جانے والی ہلدی میں پایا جاتا ہے دماغ میں اسٹیم خلیوں کے درمیان فرق و امتیاز اور ان کے پھیلاؤ میں اہم کردار ادا کرتا ہے ۔ امکان ہے کہ اسے اعصابی امراض کے علاج میں استعمال کیا جاسکے ۔ دماغ پر حملے اور رعشہ و نسیان کے علاج کیلئے اس کا امکان ہے ۔ اس تحقیق میں خوشبودار ٹرمرون کے داخلی غیرجانبدار اسٹیم خلیوں پر اثرات کا جائزہ لیا گیا ہے ۔ غیرجانبدار اسٹیم خلیے نیورانس میں فرق و امتیاز کرتے ہیں۔ خودکار مرمت اور اعصاب کو ناکارہ کردینے والے امراض سے دماغ کی کارکردگی کو چھٹکارا دلانے اور اس کو بحال کردینے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ ٹرمرون کے سابق مطالعے ظاہر کرتے ہیں کہ یہ مرکب مائیکرو جیلیا خلیوں کو متحرک کرنے کا انسداد کرتے ہیں۔ یہ خلیے متحرک ہوجاتے ہیں تو یہ اعصاب میں جلن پیدا کرتے ہیں جو مختلف اعصابی امراض سے متعلق ہیں۔ تاہم ارٹرمرون ازخود مرمت کرنے کی دماغ کی صلاحیت پر اثرانداز ہوتی ہے جو نامعلوم تھا ۔ جرمنی کے شہر جولچ میںادارہ برائے اعصابی علوم و ادویہ کے محققین نے ارٹرمرون کے این ایس سی کے پھیلاؤ مران میں فرق و امتیاز کرنے کے اثرات کا جائزہ لیا ۔ چوہوں کے فیئل این ایس سی کو کلچر کیا گیا اور 72 گھنٹے میں چھ مختلف ارتکاز کے تحت ان کی نشوونما کی گئی ۔ بعض ارتکاز پر ارٹرمرون نے خلیوں کے پھیلاؤ میں 80 فیصد تک اضافہ کیا ۔ بنسبت ان خلیوں کے جن کے ساتھ یہ عمل نہیں کیا گیاتھا ۔ خلیوں میں فرق و امتیاز کرنے کی صلاحیت ارٹرمرون استعمال کرنے والے خلیوں کی بنسبت جن خلیوں کو یہ استعمال نہیں کروایا گیا، ان میں کم ہوتی ہے ۔ محققین کی قیادت کرنے والے اڈیل روجر نے کہاکہ دماغ میں اسٹیم خلیوں کے پھیلاؤ کو فروغ دینے والی کئی اشیاء ہیں۔ بہت کم دوائیں ایسی ہیں جو نیورانس میں اسٹیم خلیوں میں فروغ دے سکتی ہیں۔ یہ صلاحیت دوبارہ توانائی بخشنے والی دواؤں کا بڑا مقصد ہے ۔ خوشبودار ٹرمرون ہمیں اس مقصد کے حصول کی سمت ایک قدم آگے بڑھاتا ہے ۔ ارٹرمرون دو بڑے حیاتیاتی سرگرم کمتر مطالعہ کئے ہوئے مرکبات میں لازمی طورپر پایا جاتا ہے ۔ دوسرا مرکب کرکیومن ہے جو اپنی انسداد جلن ، اور اعصاب کاتحفظ کرنے والی خصوصیت کیلئے معروف ہے ۔ یہ تحقیق رسالہ ’’اسٹیم خلیہ تحقیق و علاج‘‘ میں شائع ہوچکی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT