Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / دنیا بھر میں اسٹاک مارکٹ میں زبردست گراوٹ ‘ 1,000 پوائنٹس کا نقصان

دنیا بھر میں اسٹاک مارکٹ میں زبردست گراوٹ ‘ 1,000 پوائنٹس کا نقصان

چینی کرنسی کی قدر میں کمی سے عالمی سطح پر ہلچل ۔ امریکہ ‘ برطانیہ ‘ فرانس ‘ سنگا پور میں معاشی اتھل پتھل ‘ ہندوستان پر بھی منفی اثرات

لندن / نیویارک 24 اگسٹ ( سیاست ڈاٹ کام ) دنیا بھر میں آج اسٹاک مارکٹ میں زبردست گراوٹ آئی ۔ اسٹاکس کے اعتبار سے آج کے دن کو ’’ سیاہ پیر ‘‘ قرا ردیا جارہا ہے ۔ یہ اچانک گراوٹ چینی شئیرس کی قدر میں 9 فیصد کی گراوٹ کی وجہ سے آئی ہے جس کے نتیجہ میں ڈالر کی قیمتوں اور بڑی اشیا کی قیمتوں میں بھی کمی درج کی گئی جس کے نتیجہ میں سرمایہ کاروں میں تشویش پیدا ہوگئی ۔ ایشیائی بازاروں میں جو گراوٹ آئی وہ گذشتہ 30 برس میں سب سے زیادہ گراوٹ درج گئی جس کے نتیجہ میں یوروپین بازاروں میں بھی حصص کی قدر میں تین فیصد سے زیادہ کی گراوٹ درج کی گئی ۔ چین کی کرنسی کی شرح میں مسلسل گراوٹ کی وجہ سے یہ اندیشے پیدا ہوگئے ہیں کہ دنیا بھر میں معاشی سرگرمیاںسست روی کا شکار ہوجائیں گی اور کرنسی کی جنگ شروع ہوجائیگی ۔ کہا گیا ہے کہ امریکہ میں بھی اسٹاک مارکٹ میں ایک ہزار پوائنٹس تک کی گراوٹ آئی جس کے نتیجہ میں سرمایہ کاروں کو زبردست دھکا پہونچا ۔ حالانکہ امریکی اسٹاک مارکٹ میں صبح میں ابتدائی خطرناک جھٹکوں کے بعد قدرے بہتری آئی لیکن یہ ہنوز نقصان کا شکار رہی ۔ امریکی اسٹاک مارکٹ ڈو صبح کاروبار کے آغاز کے چار منٹ کے اندر ہی 1,089 پوائنٹ تک گرگئی تھی ۔ تقریبا ہر شعبہ کے شئیرس کی قیمتوں میں مسلسل فروخت کے رجحان کی وجہ سے گراوٹ آتی گئی ۔ تاہم چند منٹ کے اندر اس میں بہتری پیدا ہونی شروع ہوگئی تھی ۔ چین کی معاشی سست روی کی وجہ سے عالمی سطح پر مارکٹوں میں پہلے ہی ہلچل مچی ہوئی ہے ۔ امریکی اسٹاک مارکٹ میں اسکی جوہ سے بہت زیادہ گراوٹ آئی ہے ۔ چینی اسٹاکس میں فروخت کے رجحان کی وجہ سے دنیا بھر میں اس کے اثرات کا سلسلہ جاری رہا ۔ عالمی اسٹاک مارکٹ کی گراوٹ کا ہندوستانی شئیر بازار پر بھی اثر دیکھا گیا اور اس کے اثرات کل بھی جاری رہ سکتے ہیں۔ یوروپی اور امریکی اسٹاکس میں گراوٹ کا اثر یہاں دیکھنے کو مل سکتا ہے ۔ لندن سے پیرس اور نیویارک تک شئیر بازاروں میں آج گراوٹ درج کی گئی ۔ چین کی وجہ سے ایشیائی بازاروں میں بھی زبردست ہلچل اور نقصانات کا سلسلہ جاری رہا ۔ اہم یوروپی اسٹاک اعشاریہ میں تیزی سے گراوٹ آئی اور دوپہر کے بعد کی تجارت تک یہ گراوٹ 8 فیصد تک ہوگئی تھی ۔ امریکی شئیرس بھی نقصانات میں شروع ہوئے اور ڈو انڈیکس تین فیصد سے زیادہ تک گرگیا تھا ۔ ہندوستانی بنچ مارک سنسیکس کو اب تک کا سب سے بڑا جھٹکا لگا اور یہ 1,624.51 پوائنٹس یا 5.94 فیصد کی گراوٹ درج کی گئی اور سنسیکس جملہ 25,741.56 پوائنٹس پر بند ہوا ۔ یہاں توانائی ‘ بینکنگ ‘ آٹو ‘ آئی ٹی ‘ انفرا اسٹرکچر اور رئیل اسٹیٹ جیسے تقریبا تمام شعبہ جات کے حصص اور شئیرس کی قیمتوں میں گراوٹ آئی ۔ اس دوران یوروپین یوروپین اسٹاکس میں فرانس کی مارکٹ کو 7 فیصد کا نقصان ہوا جبکہ لندن کی مارکٹ کو 5 فیصد تک نقصان کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایس اینڈ پی میں دو فیصد تک کی گراوٹ آئی جبکہ نسدق میں تین فیصد تک گراوٹ آئی ۔ شنگھائی میں شئیر بازار کو 8.49 فیصد کے نقصانات ہوئے جبکہ جاپان کی نکئی 225 پوائنٹس تک گر گئی ۔ یوروپین اور امریکی اسٹاکس ہندوستانی مارکٹوں پر کل بھی اثر انداز ہوسکتے ہیں۔ 2008 کے بعد سے عالمی معاشی مارکٹ کا یہ سب سے بڑا بحران سمجھا جا رہا ہے ۔

TOPPOPULARRECENT