Wednesday , August 16 2017
Home / مضامین / دنیا سیلفی کی گرفت میں

دنیا سیلفی کی گرفت میں

محمد ریاض احمد
تاریخ کا اگر بغور جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ لوگوں نے زر ، زن ، زمین کیلئے اپنی جانیں دے دیں ۔ اس میں اقتدار اور عشق بھی شامل ہے جس کے لئے دنیا میں ہزاروں لاکھوں بلکہ کروڑہا انسانوں نے اپنی جانیں گنوائیں لیکن آجکل جانیں قربان کرنے کا ایک نیا رجحان بڑی تیزی سے زور پکڑرہا ہے اور وہ ہے تصاویر ! ہاں موجودہ دور نے اتنی ترقی کرلی ہے کہ لوگوں نے عجیب و غریب انداز میں اپنی تصاویر لینے کی خاطر جانیں دینی شروع کردیں ہے ۔ اس انداز کو سیلفی Selfie کہا جاتا ہے ۔ اب دیکھتے ہیں کہ آخر سیلفی کیا ہے جو بڑی تیزی سے ساری دنیا کو اس طرح اپنی لپیٹ میں لے رہی ہے جس طرح اسلحہ کی دوڑ نے دنیا کے بیشتر ممالک کو اپنی گرفت میں لے رکھا ہے ۔ سیلفی دراصل ایسی تصویر ہے جو کسی موبائل فون کے کیمرہ یا ڈیجیٹل کیمرہ سے لی جاتی ہے ۔ باالفاظ دیگر اسے ہم خود سے خود کی تصویر کشی کرنا کہہ سکتے ہیں ۔ اسے ہاتھ میں فون تھامے یا پھر فون کو Selfie Stick میں نصف کرکے لی جاتی ہے ۔ سیلفی فوٹوگرافی کے ذریعہ لی جانے والی تصاویر لاکھوں کی تعداد میں یومیہ سوشیل نٹ ورکنگ سرویس جیسے فیس بک ، انسٹاگرام اور ٹیوٹر وغیرہ پر شیئر کی جارہی ہیں ۔ یہ ایک طرح سے ایک دوسرے سے تصاویر کے تبادلے اور سستی شہرت کا خطرناک ذریعہ بن گیا ہے ۔ جہاں تک دنیا میں سیلفی (خود تصویر کشی) کے آغاز کا سوال ہے اس کا آغاز صدیوں قبل اسی وقت شروع ہوگیا تھا جب مصریوں نے پورٹریٹ پینٹنگ کو بام عروج پر پہنچادیا تھا ۔ اگر دیکھا جائے تو پورٹریٹ پیٹنگ کے ذریعہ بنائی جانے والی تصویر ہی سیلفی کا قدیم نمونہ تھی ۔ 18 ویں صدی میں کیمرہ کی ایجاد نے پورٹریٹ پینٹنگ کو ایک نئی جہت عطا کی ۔ سیلفی کی تاریخ کا جائزہ لینے پر پتہ چلتا ہے کہ باقاعدہ طور پر پہلی سیلفی 1839 میں فوٹوگرافی کے شوقین رابرٹ کارنیلس نے فلاڈلفیا میں لی ، وہ کیمرہ کا لینس ہٹا کر بڑی تیزی کے ساتھ کیمرہ کے سامنے پہنچ گیا ۔ اس طرح کارنیلس کو پہلی مرتبہ اپنی تصویر آپ لینے کا اعزاز حاصل ہوا ۔ تاہم 1900 میں کوڈک براونی باکس کیمرہ کے منظر عام پر آنے کے بعد اس ٹکنیک کو ایک نئی جہت عطا ہوئی ۔ کہا جاتا ہے کہ 1914 میں ایک 13 سالہ روسی لڑکی انتساسیہ نکولیونا نے ایک آئینہ استعمال کرتے ہوئے اپنی خود کی تصویر لے کر اسے مکتوب کے ساتھ اپنی ایک دوست کو روانہ کی اس کے باوجود سیلفی کی اصطلاح کا کسی  نے استعمال نہیں کیا ۔ سال 2002 میں لفظ سیلفی سنا اور استعمال کیا گیا ۔ یہ اصطلاح آسٹریلیائی انٹرنیٹ فورم اے بی سی آن لائن میں 13 ستمبر 2002 کو منظر عام پر آئی ۔ بعد میں مائی اسپیس ، فیس بک ، فلکر اور ٹوئیٹر انسٹاگرام پر خود کی لی ہوئی تصاویر (سیلفی) اپ لوڈ کرتے ہوئے شیئر کی جانے لگیں ۔ اگر دیکھا جائے تو 2010 میں آئی فون 4 کے سامنے کے کیمرہ ، موبائل فون ایپلیکشن جیسے انسٹاگرام اور اسناپ چیاٹ حقیقی طور پر Selfie کی مقبولیت کا باعث بنے ۔ چنانچہ 2012 تک سیلفی کی مقبولیت میں بے تحاشہ اضافہ ہوا ۔ 2013 کے ایک سروے میں یہ انکشاف کیا گیا کہ 18-35 سال عمر کی حامل ایک تہائی آسٹریلیائی خواتین سیلفی کی عادی ہوگئیں ۔ ان کا مقصد اپنی سیلفیز کو سماجی رابطے کی سائٹس بالخصوص فیس بک پر پوسٹ کرتے ہوئے اپنے حسن ، ذوق لباس ، انداز ، مسکراہٹ کی نمائش کرکے لوگوں کی واہ واہ بٹورنا تھا ۔

اسمارٹ فونس اور کیمرہ بنانے والی مشہور و معروف کمپنی سمسنگ کے ایک سروے کے مطابق 18 تا 24 سال عمر کی لڑکیوں و خواتین نے جو تصاویر لئے ان میں 30 فیصد تصاویر سیلفی کی تھیں ۔ 2013 میں آکسفورڈ انگلش ڈکشنری میں لفظ SELFIE کو نہ صرف شامل کیا گیا بلکہ اسے سال کا اہم ترین لفظ بھی قرار دیا ۔ جبکہ سیلفی کی بڑھتی ہوئی مقبولیت کو دیکھتے ہوئے 2014 کو سیلفی کا سال قرار دیا گیا ۔ اب بات کرتے ہیں سیلفی لینے کے رجحان کو آگے بڑھانے میں اہم رول ادا کرنے والی سیلفی اسٹیک کی ۔ 1983 میں دو جاپانیوں یوجیروی اور ہیروشیما دوئیدا نے سیلفی اسٹک ایجاد کی ۔ جس کو استعمال کرتے ہوئے نہ صرف ایک دو فرد اپنی سیلفی لے رہے ہیں بلکہ ایک بڑے گروپ کا سیلفی لینے میں بھی یہ معاون ثابت ہوتی ہے ۔ جیسا کہ ہم نے سطور بالا میں لکھا ہے کہ آپ فون ہاتھ میں تھامے سیلفی لیں یا پھر سیلفی اسٹک کے ذریعہ اپنی تصویر کو کیمرہ میں قید کرلیں ۔ ہر حال میں ایک خطرناک اور جان لیوا عمل ہے ۔ سیلفی اسٹیک زندگیوں کیلئے کتنی خطرناک ہے اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ وادی سلیکان میں ایک سروے کیا گیا اس میں ٹکنالوجی کی دنیا کے 101 سورماؤں سے سوال کیا گیا کہ دنیا میں جو ایجادات ہوئی ہیں ان میں سے کن چیزوں کی ایجاد نہیں ہونی چاہئے تھی ؟ ان ماہرین میں سے اکثر نے جواب دیا کہ Selfie Stick اور نیوکلیئر ہتھیار کی ایجاد نہیں ہونی چاہئے تھی ۔ انفارمیشن ٹکنالوجی کے ان سورماؤں کا جواب اس لئے بھی درست ہے کیونکہ دنیا کو اگر کسی چیز سے تباہی و بربادی کا خطرہ ہے تو وہ جوہری اسلحہ ہیں ۔ ہیرشیما ناگاساکی جوہری اسلحہ سے ہونے والی تباہی و بربادی کی بدترین مثالیں ہیں ۔ ساری دنیا اس بات کو لیکر خوفزدہ ہے کہ اگر جوہری اسلحہ دہشت گردوں کے ہاتھوں میں پہنچ جائیں تو دنیا کا کیا ہوگا ۔ حقیقت یہ ہے کہ جوہری اسلحہ تیار کرکے ان کے ذخائر کرنے والے انسان دراصل اپنی تباہی و بربادی کا سامان کررہے ہیں ۔ جہاں تک سیلفی اسٹیک سے درپیش خطرات کا سوال ہے  اس کے ذریعہ سیلفی لینے کی کوششوں میں ہرر وز دنیا بھر میں بے شمار طلباء و طالبات اور مرد  و خواتین پہاڑوں کی چوٹیوں ، ٹاورس کی بلندیوں ، عمارتوں ، ٹرینوں ، بسوں اور کاروں کی چھتوں ، سمندروں ،  تالابوں اور جھیلوں کے کناروں سے گر کر اپنی زندگیوں سے محروم ہورہے ہیں یا پھر شدید زخمی ہو کر مفلوج زندگیاں گزار رہے ہیں ۔ سیلفی لینے کے شوق میں کئی گروپ اور ادارے بلند و بالا سیلفی اسٹیک نصب کروا کر گروپ سیلفی لینے کے ریکارڈس قائم کررہے ہیں ۔ چنانچہ90 فیٹ اونچی سیلفی اسٹیک حال ہی میں نیویارک سٹی میں نصب کی گئی ہے ۔ سیلفی لینے کے شوق میں لوگ ایک طرح سے پاگل پن کا شکار ہورہے ہیں ۔ وہ خطرناک سے خطرناک مقامات پر سیلفی لینے کو اپنے لئے اعزاز اور زندگی کا سب سے بڑا کارنامہ تصور کررہے ہیں اس طرح ماضی میں جو کہا جاتا تھا کہ کیمرہ تصاویر کو قید کرلیتا ہے (Camera Captures Pictures) اب وہ اس طرح ہوگیا ہے Camera Captures Lives (کیمرہ زندگیوں کو قید (موت کے حوالے) کرتا ہے)  خاص طور پر نوجوان لڑکے لڑکیوں میں سیلفی لینے کا خبط سوار ہے بعض ماہرین نے اس جوکھم بھرے شوق کو ذہنی بیماری سے تعبیر کیا ہے ۔ دنیا میں 20-25 ایسے مقامات یا عجوبے ہیں جہاں لوگ سیلفی لینا بہت بڑا کارنامہ سمجھتے ہیں ۔ ان میں دنیا کی سب سے بلندو بالا عمارت دوبئی کا برج الخلیفہ سرفہرست ہے ۔ برج خلیفہ دنیا کے ان تین سرفہرست سیاحتی مقامات میں پہلے مقام پر ہے جہاں سیلفی لینا ہر کسی کی تمنا ہوتی ہے ، برطانیہ کی ایک فرم Attractiontix نے اکتوبر 2010 اور جنوری 2015 کے درمیان انسٹاگرام پر پوسٹ کئے گئے 219 ملین پوسٹس کا جائزہ لیا جس میں بتایا گیا کہ دنیا میں سب سے زیادہ سیلفی دوبئی کی 830 میٹر (2714 فٹ بلند) برج الخلیفہ ، پیرس کے ایفل ٹاور اور ڈزنی لینڈ فلوریڈا میں لی گئی ہیں ۔ یادگار محبت تاج محل کے سامنے بھی سیلفی لینے کو مقامی اور غیر مقامی سیاح ایک بڑا اعزاز گرداتنے ہیں ۔ ہندوستان کے کونے کونے میں بھی چھوٹی موٹی تقاریب سے لیکر شادیوں وغیرہ میں بھی لوگ سیلفی لیتے نظر آرہے ہیں ۔ حد تو یہ ہے کہ لوگ سیاسی لیڈروں فلمسٹاروں ، مشہور شخصیتوں کے ساتھ ساتھ گھروں میں داخل ہونے والے جانوروں اور اجنبیوں کے ساتھ بھی سیلفی لے رہے ہیں ۔

سیلفی کے عادی افراد کیلئے خوبصورت اور خطرناک مقامات پسندیدہ ہوتے ہیں ۔ وہ سیلفی کے چکر میں یہ بھول جاتے ہیں کہ اس عمل کے دوران ان کی زندگیوں کے چراغ بجھ بھی سکتے ہیں ۔ سیلفی کو ایک ذہنی بیماری قرار دیئے جانے کے باوجود حکمرانوں ، سیاستدانوں ، فلمسٹارس ، سائنسدانوں ، فوجی و سیول حکام اور عام آدمی ہر کوئی سیلفی کی لت میں مبتلا ہے ۔ اس میں برطانیہ کی ملکہ ایلزبتھ ، امریکی صدر بارک اوباما سے لیکر ہمارے وزیراعظم نریندر مودی بھی شامل ہیں ۔ نریندر مودی کو سیلفی کے شوق نے اس قدر اپنی گرفت میں لے رکھا ہے کہ وہ احمدآباد کے ایک پولنگ بوتھ سے لیکر امریکی سڑکوں پر بھی سیلفی لیتے دکھائی دیئے ہیں ۔ اقتدار پر فائز ہوئے 18 ماہ کے دوران انھوں نے امریکہ ، برطانیہ ، متحدہ عرب امارات کے بشمول 28 ممالک کا دورہ کیا ۔ پہلے سال انھوں نے 20 دورہ کئے جس پر 37.22 کروڑ روپئے کے مصارف آئے ۔ اس 18 ماہ کے دوران انھوں نے صرف اپنے مطلب کی بات کی ملک میں عدم رواداری کی آگ بھڑکنے کے باوجود وہ ایک بے بس گائے کی طرح خاموش رہے لیکن سیلفی لینا اورٹوئیٹس کرنا نہیں بھولے ۔ چیف منسٹر گجرات اور وزیراعظم کی حیثیت سے انھوں نے اب تک 9721 ٹوئیٹس کئے ہیں اور ٹوئیٹر پر مودی جی نے اپنے ہزاروں سیلفی بھی پوسٹ کئے ۔ سیلفی سے ہمارے وزیراعظم کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ دہلی اسمبلی انتخابات میں بی جے پی نے مودی کے ساتھ سیلفی مہم شروع کی تھی اور اس پر 1.6 کروڑ روپئے کے مصارف آئے تھے لیکن نتائج کے بعد مودی اور بی جے پی اس مہم کا نام لینے سے بھی گھبرانے لگے ۔ تب ہی تو بہار میں مودی کے ساتھ سیلفی مہم نہیں چلائی گئی ۔ آپ کو بتادیں کہ سیلفی اپنے نام کی طرح لوگوں میں Selfish پن ، خود غرضی پیدا کرتی ہے ۔ وہ چاہتے ہیں کہ دنیا ان کی تعریف و ستائش کرے ۔ آپ کو بتادیں کہ سیلفی مغربی ممالک کے ساتھ ساتھ ترقی پذیر ممالک بشمول ہندوستان میں بھی درجنوں اموات کا باعث بن رہی ہے ۔ جس کے باعث حکومتیں اور غیر سرکاری تنظیمیں عوام کو سیلفی کے خطرات سے واقف کرانے خصوصی مہم چلارہے ہیں ۔ بہرحال سیلفی کے چکر میں اپنی زندگیوں کو جوکھم میں ڈالنا اور یہ سمجھنا کہ دنیا پرخطر مقامات پر لی گئی آپ کی سیلفی سے متاثر ہو کر واہ واہ کرے گی بیوقوفی کے علاوہ کچھ نہیں ۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT