Wednesday , August 16 2017
Home / Top Stories / دنیا میں 95 فیصد دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار سی آئی اے : پوٹن

دنیا میں 95 فیصد دہشت گرد حملوں کا ذمہ دار سی آئی اے : پوٹن

سینٹ پیٹرس برگ میں انتہائی خفیہ اور بند کمرے میںاعلیٰ سطحی عہدیداروں کے اجلاس سے خطاب

سینٹ پیٹرس برگ ۔ 21 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) روسی صدر ولادیمیر پوٹن ان دنوں یعنی جب سے امریکہ میں صدارتی انتخابی مہمات کا زور تھا اور اس کے بعد سینٹ پیٹرس برگ حملوں اور جمعرات کو پیرس میں ہوئے حملوں تک مسلسل شہ سرخیوں میں ہیں۔ انہوں نے کل بھی کریملن میں ایک غیرمعمولی اجلاس طلب کرتے ہوئے جو ریمارکس کئے وہ یقینی طور پر کریملن کو دہلادینے کیلئے کافی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا میں جتنے بھی دہشت گرد حملے کئے گئے ہیں یا کئے جاتے ہیں ان میں 95 فیصد حملوں کو سی آئی اے کی پشت پناہی حاصل ہے۔ اس ریمارک کے بعد یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ پوٹن آخر امریکہ کے خیرخواہ ہیں یا بدخواہ؟ امریکہ میں ایسے کئی قائدین ہیں جو پوٹن کی دوستی کا دم بھرتے ہیں۔ یہاں تک کہ صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے بھی  اپنی انتخابی مہم کے دوران پوٹن کے تئیں نرم گوشہ رکھنے کی بات کہی تھی اور پوٹن نے بھی کہا تھا کہ وہ ہلاری کلنٹن کی بجائے ڈونالڈ ٹرمپ کو امریکی صدر کے روپ میں دیکھنا پسند کریں گے۔ سینٹ پیٹرس برگ میں  ایک انتہائی خفیہ اور بند کمرے میں منعقد کئے گئے اجلاس میں جہاں صرف اعلیٰ سطحی سرکاری عہدیدار اور اسٹاف موجود تھا، جہاں ان سے سینٹ پیٹرس برگ کے میٹرو اسٹیشن پر ہوئے بم دھماکے سے متعلق سوال کیا گیا تھا کہ آخر دنیا میں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں کے پس پشت کون کارفرما ہے جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے امریکہ کو ہی موردالزام ٹھہراتے ہوئے کہا کہ وہ اسلامی انتہاء پسندوں کو اسپانسر کرتے ہوئے دنیا کے اہم خطوں میں تباہی اور عدم استحکام پھیلانے کا ذمہ دار ہے۔

صدر پوٹن کے انتہائی قریبی ذرائع نے بتایا کہ اجلاس کے دوران پوٹن نے زور سے میز پر ہاتھ مارتے ہوئے کہا کہ اگر سی آئی اے کے ہاتھ روسی خون سے رنگے ہوئے ہیں تو وہ اس بات پر ضرور افسوس کریں گے کہ انہوں نے روسی شیر کو نیند سے کیوں جگایا۔ انہوں نے کہا کہ سینٹ پیٹرس برگ دھماکہ کی تحقیقات میں مزید شدت پیدا کی جائے گی۔ جب ایک اعلیٰ سطحی عہدیدار نے پوچھا کہ کیا 95 فیصد کا عدد بالکل درست ہے تو انہوں نے ایک زوردار سانس لیتے ہوئے اور اپنی عادت کے مطابق گھورتے ہوئے کہا کہ ہمیں یہ دیکھنا ہیکہ دنیا حقیقت میں کس طرح چلائی جاتی ہے۔ ہمیں وہ نہیں دیکھنا ہے جو ہمیں دکھایا  جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی اے امریکہ کا مستحکم حصہ ہے لیکن اس کے باوجود ہم اسے ’’امریکن‘‘ نہیں کہہ سکتے۔ انہوں نے کہا کہ سی آئی اے کی تمام معاملتوں کے بارے میں انہیں (پیوٹن) پوری معلومات ہے۔ جب پوٹن سے یہ پوچھا گیا کہ کیا سینٹ پیٹرس برگ دھماکے انہیں (پیوٹن) اقتدار سے بیدخل کرنے کیلئے کئے گئے تھے جیسا کہ میڈیا میں پیش کیا جارہا ہے جس کا جواب دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ان کے ساتھ کوئی چالاکی نہیں کرسکتا۔ کوئی کیسی بھی ترکیب کرلے میں اپنی پلکیں جلد نہیں جھپکتا۔ انہوں نے اظہارتاسف کرتے ہوئے کہا کہ آج ’’انسانیت کو میڈیا اور سیاست نے‘‘ بے حس کردیا ہے۔ دنیا میں چاہے جو کچھ ہوجائے اس کا ردعمل ایک دو روز دکھایا جاتا ہے اور بعدازاں لوگ اسے بھول جاتے ہیں۔ اس سلسلہ میں انہوں نے حالیہ وکی لیکس کے کئی انکشافات کا تذکرہ کیا جس کے بعد بھی عوام بے حس ہی رہے۔

TOPPOPULARRECENT