Monday , September 25 2017
Home / مذہبی صفحہ / دنیا پرست کا انجام

دنیا پرست کا انجام

مرسل : ابوزہیر نظامی

حضرت سیدنا عیسیٰ علیہ السلام ایک سفر میں روانہ ہوئے تو آپ کے ہمراہ ایک یہودی بھی ہولیا۔ اس یہودی کے پاس دو روٹیاں تھیں اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے پاس ایک روٹی تھی۔ آپ نے فرمایا ’’آؤ دونوں مل کر روٹی کھائیں‘‘۔ یہودی نے مان لیا، مگر جب اس نے دیکھا کہ آپ کے پاس صرف ایک روٹی ہے اور میرے پاس دو روٹیاں ہیں تو پچھتانے لگا کہ میں نے شرکت کا وعدہ کیوں کرلیا۔ چنانچہ جب کھانے کا وقت ہوا تو یہودی نے ایک ہی روٹی نکالی۔ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا ’’تمہارے پاس تو دو روٹیاں تھیں، ایک کہاں گئی؟‘‘۔ یہودی نے کہا ’’میرے پاس تو ایک ہی روٹی تھی، دو کب تھیں؟‘‘۔ کھانا کھانے کے بعد جب آگے بڑھے تو راستے میں ایک اندھا ملا۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے اس کے لئے دعاء کی تو وہ بینا ہو گیا۔ یہ معجزہ دِکھاکر آپ نے یہودی سے کہا ’’تجھے اُس اللہ کی قسم! جس نے میری دعاء سے اس اندھے کو بینا کردیا، سچ سچ بتا دوسری روٹی کہاں گئی؟‘‘۔ یہودی نے کہا ’’مجھے اسی اللہ کی قسم! میرے پاس تو صرف ایک ہی روٹی تھی‘‘۔ پھر جب اور آگے بڑھے تو ایک ہرن دکھائی دیا، آپ نے ہرن کو بلایا تو وہ آگیا۔ آپ نے اسے ذبح کیا، بھونا اور کھایا اور پھر اُس کی ہڈیوں سے کہا ’’قم باذن اللّٰہ‘‘۔ وہ ہرن زندہ ہو گیا۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے یہودی سے کہا ’’تجھے اس اللہ کی قسم! جس نے ہمیں یہ ہرن کھلایا اور اسے پھر زندہ کردیا، سچ سچ بتاؤ کہ وہ دوسری روٹی کہاں گئی؟‘‘۔ مگر یہودی نے روٹی کی موجودگی کا اقرارنہیں کیا۔ پھر اور آگے بڑھے تو ایک قصبہ آگیا، آپ نے وہاں قیام فرمایا۔ یہودی نے موقع پاکر حضرت عیسی علیہ السلام کا عصا چرالیا اور خوش ہوا کہ میں اس سے مردہ زندہ کروں گا۔ چنانچہ قصبہ میں اعلان کردیا کہ ’’جس کو مردہ زندہ کروانا ہو کروالے‘‘۔ لوگ اسے حاکم شہر کے پاس لے گئے، جو بڑا سخت بیمار تھا۔ یہودی سے کہا یہ ہمارا بیمار ہے، اسے اچھا کردو۔ یہودی نے پہلے اس حاکم کے سرپر عصا مارا، جس سے وہ مرگیا۔ پھر لوگوں سے کہنے لگا ’’دیکھو! اب میں اسے زندہ کرتا ہوں‘‘۔ چنانچہ اس نے پھر اس ڈنڈے سے اس حاکم کو مارا اور کہا ’’قم باذن اللّٰہ!‘‘ مگر وہ زندہ نہ ہوا۔ لوگ یہودی کو پکڑکر پھانسی پر لٹکانے لگے کہ اتنے میں حضرت عیسی علیہ السلام پہنچ گئے اور فرمایا ’’تمہارا حاکم میں زندہ کردیتا ہوں، اسے چھوڑ دو‘‘۔ چنانچہ آپ نے ’’قم باذن اللّٰہ!‘‘ کہا اور وہ حاکم زندہ ہوگیا۔ لوگوں نے یہودی کو چھوڑ دیا۔ حضرت عیسی علیہ السلام نے کہا ’’تجھے اسی خدا کی قسم! جس نے تیری جان بچائی، سچ سچ بتا وہ دوسری روٹی کہاں گئی؟‘‘۔ پھر بھی اس نے دوسری روٹی کا اقرار نہ کیا۔ آگے بڑھے تو سونے کی تین اینٹیں ملیں، آپ نے فرمایا ’’ایک اینٹ میری، دوسری تیری اور تیسری اس کی جس نے تیسری روٹی کھائی ہے‘‘۔ یہودی نے کہا ’’خدا کی قسم! تیسری روٹی میں نے ہی کھائی تھی‘‘۔ آپ نے وہ تینوں اینٹیں یہودی کو دے دیں اور فرمایا ’’اب تو میرا ساتھ چھوڑ دے‘‘۔ چنانچہ وہ اینٹوں کو لے کر خوشی خوشی روانہ ہوا، لیکن راستے ہی میں اللہ تعالیٰ نے اسے اینٹوں سمیت زمین میں دھنسا دیا‘‘۔(نزہۃ المجالس)
[email protected]

TOPPOPULARRECENT