Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دواخانہ عثمانیہ سے متعلق حکومت کے متضاد بیانات ‘شہریوں میں الجھن کا سبب

دواخانہ عثمانیہ سے متعلق حکومت کے متضاد بیانات ‘شہریوں میں الجھن کا سبب

سیول سوسائٹی کے افراد کا دواخانہ کا دورہ ۔ پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال ۔ ہلکی سے کشیدگی
حیدرآباد۔4اگست(سیاست نیوز) حکومت تلنگانہ کے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے متعلق متضاد بیانات شہریوں کی الجھن میںاضافہ کا سبب بن رہے ہیں۔ بالخصوص شہر حیدرآباد کے سینئر سٹیزنس اور سیول سوسائٹی کے ذمہ داران جنھوں نے نظام حکومت کا دور بھی دیکھا تھاان کے دور میں تعمیر کردہ ہاسپٹل کی نایاب ونادار تعمیرات کو منہدم کرنے کے متعلق چیف منسٹر تلنگانہ ریاست کے سی آر کے بیان پر برہم نظر آرہے ہیں۔اس سلسلے میںآج معمرشہریوں اور سیول سوسائٹی میں شامل سینکڑوں افراد عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو پہنچے جہاں پر بھاری پولیس کا پہلے ہی سے بندوبست کیا گیا تھا۔عوام میں سینئر کمیونسٹ قائد وتنظیم انصاف کے قومی صدر جناب سید عزیز پاشاہ سابق رکن پارلیمان راجیہ سبھا‘ صدر نشین ایچ اے ایس انڈیا مولانا سید طار ق قادری‘ ممتاز مورخ جناب سجاد شاہد‘ صدر ہلپ حیدرآباد جناب جی ایم میجر قادری‘صدر سول جسوین جیرات‘ فورم فار بیٹر حیدرآباد شریمتی سنگا میترا ملک‘ مسٹر او ایم دبیرہ‘ ڈاکٹر گوپال کشن‘ پروفیسر ویشو یشور رائو‘ کنونیر ایس سی‘ ایس ٹی ‘ بی سی ‘ مسلم فرنٹ جناب حیات حسین حبیب ‘ سی پی آئی ساوتھ زون کنونیر ای ٹی نرسمہا‘ محمدافضل ‘ محمد بلال ‘ ایس کیو مقصود‘ عبدالرحیم بیگ ٹیپو اور دیگر اپنے حامیوں کے ہمراہ دواخانہ عثمانیہ پہنچے جہاں پر انہیں پولیس نے دواخانہ کی قدیم عمارت میںداخل ہونے سے روکدیا جس کے بعد کچھ دیر کے لئے کشیدگی کا ماحول پیدا ہوگیا۔مذکورہ قائدین نے پولیس سے انہیں دواخانے کے اندر جانے کا اصرار کیاتو دوسری طرف پولیس نے مورچہ سنبھال رکھا تھا۔نہتے قائدین اور مصلح پولیس کے درمیان کے ماحول سے ایسا معلوم ہورہا تھا کے پولیس کے ساتھ ان قائدین کی بے باکی دیگر کے لئے ایک مثال بن گئی ہے۔عوامی قائدین پر مشتمل اس بڑا وفد نے وہاں پر موجود میڈیا کے نمائندوں کو بتایا کے تلنگانہ میں ٹی آر ایس حکومت جب سے اقتدار پر فائز ہوئی تب سے لیکر آج تک سوائے بڑے بڑے وعدوں کے کچھ نہیں کیا ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر کو تین چار اس طرح کے بیانات سے ہزیمت اٹھانی پڑی تھی۔ اس کے باوجود انہو ںنے عوامی جذبات کو نظر انداز کرتے ہوئے پھر ایک مرتبہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے مسئلے کوچھیڑا تو انہیں پھر ایک مرتبہ عوامی پھٹکار پر اپنے فیصلے سے دستبردار ہونے پر مجبور ہونا پڑا۔سینئر سٹیزنس اور عوامی قائدین نے عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کے مسئلے پر اپنے ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اندرون دیڑھ سال تلنگانہ بجٹ ختم ہوگیااور ریاست کے کئی طلباء وطالبات اپنے تعلیمی سال کو جاری رکھنے کے لئے فیس ری ایمبرسمنٹ اور اسکالرشپ کے مسئلے کو لیکر پریشان حال ہیں۔کئی لوگوں کو راشن کارڈ سے محروم کررہے ہیںکروڑہا روپئے کے خرچ سے سماجی سروے کیا گیا جوبے فیض اور نامکمل ثابت ہوا اور مذکورہ سروے کی بنیاد پر قدیم راشن کارڈ منسوخ کردئے گئے جبکہ مہنگائی آسمان کو چھونے لگی ہے اور پیاز کی قیمتیں لوگوں کو رونے پر مجبور کررہی ہیں۔ پرانے شہر کی ترقی کویکسر نظر انداز کردیا گیا اور پرانے شہر کے ہنگامی دورہ کے دوران چیف منسٹر کی جانب سے کئی اعلانات کئے گئے تھے جس پر اب تک عمل نہیں ہوا۔ برقی شرحوں میںبے تحاشہ اضافہ تو دوسری طرف برقی کی سربراہی میں مسلسل کٹوتی کا سلسلہ جوں کا توں برقرار ہے بلدی ملازمین کے ساتھ لاپرواہی کا مظاہرہ کرنے پر مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان المبارک میں مشکل پیش آئی ۔ تقررات‘ملازمین‘بے روزگاری‘ امکنہ جات اور دیگر اس طرح کے بے شمار مسائل التواء کا شکار ہیں تو دوسری جانب چیف منسٹر عوامی کو حل کرنے کے بجائے طرح طرح کی ذہنی اختراع پر عمل کررہے ہیں۔ سینئر کمیونسٹ قائد وسابق رکن پارلیمنٹ جناب سید عزیز پاشاہ صدر قومی تنظیم انصاف نے حکومت کو سخت انتباہ دیتے ہوئے کہاکہ عثمانیہ جنرل ہاسپٹل کو منہدم کرنا تو دور کی بات ہے عمارت میں ایک انچ کے ردوبدل کو بھی برداشت نہیںکیاجائے گا۔انہوں نے تجویز پیش کی کہ دواخانے کی مرمت اور درستگی عمل میں لائی جائے اور علاج و معالجہ کا سلسلہ یہیںپر جاری رکھیں۔انہو ں نے کہاکہ چیف منسٹر کو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کوئی غلط مشورے دے رہے ہیں جس کے باعث وہ خود اپنے ہاتھوں بدنامی کا شکار ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہاکہ دواخانہ کی قدیم عمارت کا مشاہدہ کرنے کی بات سے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ جان بوجھ کر اس طرح کی صورتحال پیدا کی گئی ہے حکومت کا کام ہے کہ ڈسٹرکٹ میڈیکل اینڈ ہیلت آفیسر کے ڈائرکٹر کمشنر محکمہ صحت وطبابت ‘ وزارت صحت کو چاہئے کہ وہ دواخانہ عثمانیہ کی اس طرح صورتحال پیدا کرنے والو ں کے خلاف تحقیقات کرواتے ہوئے انہیں کیفرکردار تک پہنچائے۔جناب سیدعزیز پاشاہ نے اس بات کا ادعا کیاکہ انہیں دواخانے کے ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ حکومت ہاسپٹل کی ترقی کے لئے دی جانے والی رقم میں دس فیصد رقم سے کوئی کام تک نہیںکروایا گیا جبکہ اس بات کا بھی ثبوت ہے کہ حکومت کی جانب دواخانہ کی صاف صفائی اور دیگر کام کاج کی انجام دہی کے لئے جاری کی جانے والی رقومات کے بلز کی منظوری مسلسل ہوتی جارہی ہے۔انہو ںنے حکومت سے مطالبہ کیا کہ بلز کی بنیاد پر جاری کی گئی او رہاسپٹل کی منظورہ رقم کہا ںپر خرچ کی گئی اس کی بھی تحقیقات کروائی جائیں۔ صدرنشین ایچ اے ایس انڈیا مولانا سیدطارق قادری نے کہاکہ عمارت کی مخدوش حالت کا بہانہ بناکر مریضوں کو علاج کرانے کی کوششوں سے روکاجارہا ہے جبکہ مریض لاچار اور بے یارومددگار ہوکریہاں وہاں بھٹکنے پر مجبور ہیں۔انہوں نے مزیدکہاکہ آصف جاہی دور حکومت کی فن شاہکار عمارت کو منہدم کرنے کی سازشیں رچنے والا دواخانہ عثمانیہ کے عملے کا ایک حصہ عمارت کو مزید مخدوشی کاشکار بناسکتا ہے۔ انہوں نے کہاکہ دواخانہ کی قدیم عمارت کو جوں کا تو ں برقرار رکھنے اور عمارت کی آہک پاشی اوردرستگی کے عمل کو جلد از جلد پورا کرنے کے مطالبات پر بضد ڈاکٹرس کو سازشوں سے سنگین خطرات لاحق ہیں ان کے مطابق وہ عمارت کی دیواروں میںمصنوعی شگاف ڈالنے کاکام بھی کرسکتے ہیں۔ مولانانے اس قسم کی سازشوں سے چوکنا رہنے اور قدیم ہریٹیج عمارت کو تحفظ فراہم کرنے کے لئے اپنی جدوجہد میںمزید تیزی پیدا کرنے کا سیول سوسائٹی کو مشورہ دیا۔میجر قادری نے کہا ٹی آر ایس کی برسراقتدار تلنگانہ حکومت کا بیان کہ وہ ہاسپٹل کو منہدم کرنے سے دستبرداری ہوگئے ہے جبکہ دوسری طرف ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمو دعلی کا یہ اعلان کہ چیف منسٹر نے ہاسپٹل کو منہدم کرنے کا قطعی فیصلہ کرلیاہے اس سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ دونوں کے باتوں میں تضاد ہے۔ انہوں نے حکومت کو مشورہ دیا کہ اس طرح کے متضاد اور ایک دوسرے کو منسوب کرنے کی باتوں سے پرہیز کریں ۔ انہوں نے مزید کہاکہ حکومت کے ذمہ داران کی جانب سے جاری ہونے والے بیانات کے سبب شہریوں میں الجھن او ربے چینی پیدا ہورہی ہے۔میجر قادری نے کہاکہ عوام کو گمراہ کرنے کے بجائے صحیح باتوں کو منظر پر لائیں ۔

TOPPOPULARRECENT