Wednesday , October 18 2017
Home / شہر کی خبریں / دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے کے فیصلے کے خلاف جدوجہد جاری رہیگی

دواخانہ عثمانیہ کو منہدم کرنے کے فیصلے کے خلاف جدوجہد جاری رہیگی

حیدرآباد۔4ستمبر(سیاست نیوز) 105 سال تعمیر کردہ دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت سے سالانہ 8 لاکھ مریض استفادہ کرتے ہیں ۔ 54 ہزار سے زائد مریض ان پیشنٹ کی حیثیت سے دواخانہ سے مستفید ہورہے ہیں مگر حکومت تلنگانہ ‘ تاریخی او ر قدیم دواخانہ عثمانیہ کی عمارت کو خستہ حالی کا نام پر منہدم کرنے کا اعلان کر رہی ہے جبکہ ماہرین کی رپورٹ کے مطابق عمارت کی موجود ہ حالت حالیہ عرصہ میں عثمانیہ دواخانہ کی احاطہ میںتعمیر کردہ عمارتوں سے مضبوط ومستحکم ہے۔اُردو گھر مغل پورہ میں حیدرآباد سیول سوسائٹی کے زیر اہتمام دواخانہ عثمانیہ کو مہندم کرنے کے فیصلہ کے خلاف منعقدہ کل جماعتی احتجاجی جلسہ عام سے صدراتی خطاب میں سینئر کمیونسٹ قائدوسابق رکن راجیہ سبھا جناب سیدعزیز پاشاہ ان خیالات کا اظہار کررہے تھے۔ مہمان خصوصی کی حیثیت سے کانگریس رکن اسمبلی پرگی مسٹر رام موہن ریڈی کے علاوہ صدر جماعت اسلامی تلنگانہ آندھرا و اڈیشہ مولانا حامد محمد خان‘ صدر دکن وقف پروٹکشن سوسائٹی جناب عثمان بن محمد الہاجری‘ صدر نشین ایچ اے ایس انڈیا مولانا سید طارق قادری‘ مولانا حامد حسین شطاری کارگذار صدر سنی علما بورڈ‘عثمانیہ میڈیکل کالج کے فارغ التحصیل ماہرین طب ڈاکٹر اوایس ورما‘ ڈاکٹر گوپال‘ شریمتی لکشمی دیوی راج‘ شریمتی جسوین جیرات‘ محترمہ سارہ متیھوز‘ ممتاز تاریخ داں جناب سجاد شاہد‘ ڈاکٹر اقبال جاوید‘ہرٹیج جہدکار سنگا مترا ملک’ الحاج سید سلیم‘ جناب مشتاق ملک‘ جناب مظہر حسین‘ جناب عبدالقدوس غوری‘ جناب خالد رسول خان‘ ڈاکٹر ونئے کمار‘جناب ثناء اللہ خان‘ جناب نعیم اللہ شریف‘ جناب سید کلیم الدین عسکر ‘ ڈی جی نرسمہا سی پی آئی ایم جنرل سکریٹری کے علاوہ دیگر قائدین نے خطا ب کیا ۔ جناب پاشاہ نے کہاکہ جے این ٹی یو انجینئرس نے چیف منسٹر کے موڈ کی مناسبت سے رپورٹ تیار کرکے عمارت کو مخدوش اور خستہ حال قراردیا جو سراسر جھوٹ ہ ہے ۔ عزیز پاشاہ نے کہاکہ جبکہ انٹیک کے ماہرتعمیرات کی رپورٹ کو غیر جانبداری کے ساتھ تیار کی گئی اس سے ظاہرہوتا ہے کہ عثمانیہ دواخانہ کی عمارت کو مہندم کرنے پر جتنا پیسہ خرچ ہوگا اُس سے کم پیسوں میںعمارت کی مرمت اور درستگی کاکام انجام دیا جاسکتا ہے۔ جناب سیدعزیز پاشاہ نے دواخانہ عثمانیہ کی قدیم عمارت کے تحفظ میںاٹھائے جانے والے ہر اقدام کی تائید وحمایت کا اعلان کیا ۔ کانگریس رکن اسمبلی رام موہن ریڈی نے عثمانیہ دواخانہ کی عمارت کومہندم کرنے کے متعلق حکومت کے فیصلے پر برہمی کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ پردیش کانگریس دواخانہ کی قدیم عمارت کی حفاظت کیلئے جدوجہد میںسیول سوسائٹی کے ساتھ ہے۔ انہوں نے کہاکہ سابق حکمرانوں کی نشانیوں کو تباہ کرنے اور وہاں پر نئے تعمیر عمل میں لاکر چیف منسٹر آنے والی نسلوں کویہ تاثر پیش کرنے کی کوشش کررہے ہیں کہ شہر کی تاریخ کے سی آر کا کارنامہ ہے۔ جناب حامد محمد خان نے عثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت پر پچھلے 60 سالوں سے جاری ناانصافی کا تذکر ہ کیا۔ انہوں نے کہاکہ ہوا کیلئے جو راہدداریاں عمارت کے اندرونی حصوں میںتعمیر کی گئی تھی وہاں پر ماہرین کی رائے حاصل کئے بغیر ہی بیت الخلا کی تعمیرکردی گئی اور آلودہ پانی کی موثر انداز میںنکاسی کا بھی انتظام نہیں کیا گیا ۔ حامد محمد خان نے کہاکہ عثمانیہ دواخانہ کی 27ایکڑ اراضی ہے دوایکڑ پر ناجائز قبضے بھی ہوئی ہیں جبکہ بڑا حصہ کھلا ہے۔ عثمانیہ میڈیکل کالج سے فار ع التحصیل معمر ڈاکٹر او ایس ورما نے عثمانیہ دواخانہ کو ہندوستان کی شان قراردیا۔ انہو ںنے دواخانہ کی عمارت کا آکسفورڈ یونیورسٹی سے تقابل کرتے ہوئے کہاکہ دنیا بھر میںہندوستان کے ڈاکٹرس کوقدروقیمت کی نظر سے دیکھا جاتا ہے اور شعبہ طب میں ہندوستان کی اس مایہ ناز کامیابی میں عثمانیہ دواخانے کی اس قدیم عمارت کا اہم رول ہے جس کو حکومت تلنگانہ مہندم کرنے کا ذہن بنارہی ہے۔ڈاکٹرورما نے ہر حال میںعثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت کو تحفظ فراہم کرنے کا منتظمین جلسہ سے اپیل کی ۔شریمتی لکشی دیوی راج نے عثمانیہ دواخانہ کی عمارت کو ریاست حیدرآباد کی مشترکہ تہذیب کا حصہ قراردیا جس کو مہندم کرنے گویا تلنگانہ کی مشترکہ تہذیب کو مہندم کرنے کے مترادف ہوگا۔ انہوں نے ہرٹیج عمارتو ں کے تحفظ میںریاستی اور مرکزی حکومتوں کو ناکام قراردیا ۔ انہوں نے ہر حال میںعثمانیہ دواخانہ کی قدیم عمارت کو تحفظ فراہم کرنے کی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ ممتاز تاریخ داں سجا دشاہد نے دوٹوک انداز میں ہرٹیج عمارتوں کے تحفظ کیلئے کسی بھی حد سے گذر جانے کا اعلان کیا۔ انہوں نے کہاکہ تاریخ اس با ت کی شاہد ہے کہ جو قدیم ہرٹیج عمارتوں کو مہندم کرتا ہے اس کانام تاریخ کے اورقوں میںبھی نہیںملتا۔جناب عثمان بن محمد الہاجری نے حکومت تلنگانہ کو تمام محاذوں میںناکام قراردیا۔ انہوں نے کہاکہ تلنگانہ میںبھی ہرٹیج او روقف جائیدادیں حکومت کی توجہہ دہانے کے باوجود تباہی کے دہانے پر ہیں۔ انہوں نے ریاست تلنگانہ کے ہرٹیج کو بچانے کیلئے جدوجہد کو لازمی قراردیا۔

TOPPOPULARRECENT