Saturday , August 19 2017
Home / مضامین / دودھ تو ڈبّے کا ہے ،تعلیم ہے سرکار کی

دودھ تو ڈبّے کا ہے ،تعلیم ہے سرکار کی

محمد مصطفی علی سروری
صبح ساڑھے آٹھ بجے کا وقت ہوا تھا شہر حیدرآباد کے ایک مشہور و معروف مسلم انتظامیہ کے تحت چلائے جانے والے لڑکیوں کے اسکول میں اسمبلی شروع ہوچکی تھی ،حمد ہوئی قومی ترانہ پڑھا گیا اور خلاف معمول اسمبلی کے بعد اسکول کے کرسپانڈنٹ نے مائک سنبھالا ۔ اسکول کے پرنسپل بھی بڑے خوش تھے انکے ہاتھوں میں چند مومنٹوز اور سرٹیفیکٹ تھے جس سے لڑکیوں کو اندازہ ہوگیا تھا کہ ضرور اسکول کی ٹیم نے کسی مقابلہ میں کامیابی حاصل کی اور انعام سے نوازے گئے اس خوش خبری کو اسمبلی میں سارے اسکول کی طالبات کی روبرو سنایا جانے والا تھا ۔ پہلے تو اسکول کے کرسپانڈنٹ نے خود پرنسپل کو بچوں سے بات کرنے کو کہا ۔ پرنسپل نے اپنی تقریر میں ان لڑکیوں کو مبارکباد دی ۔ جنھوں نے انٹر اسکول مقابلوں میں انعامات حاصل کئے ۔ انھوں نے یہ بھی کہا کہ اس اسکول میں پڑھنے والی ساری طالبات خوش قسمت ہیں کہ انہیں ایک ایسا اسکول ملا جہاں پر کھیلنے اور کودنے کے لئے بھی گراؤنڈ ہے اور ایسے کرسپانڈنٹ ملے جو لڑکیوں کو تعلیم کے ساتھ ساتھ کھیل کود کے میدان میں بھی آگے بڑھنے کی ترغیب دلاتے ہیں ۔

5 منٹ میں اسکول کے پرنسپل نے اپنی تقریر مکمل کی اور اب کرسپانڈنٹ نے مائک سنبھالا ۔ ساری اسمبلی میں جمع طالبات نے زور دار تالیوں کے ساتھ ان کا خیرمقدم کیا پھر کرسپانڈنٹ نے انعامات حاصل کرنے والی سبھی لڑکیوں کو اپنی طرف سے پھول پہنائے اور ان کو مبارکباد دی اسکے بعد انھوں نے جب تقریر شروع کی تو معمول کی اسمبلی سے 10منٹ زائد وقت ہوچکا تھا ۔ ادھر کرسپانڈنٹ کی تقریر چل رہی تھی ادھر گراؤنڈ میں جمع لڑکیوں میں سے ایک لڑکی دھڑام سے نیچے گرجاتی ہے ۔ اسکول کا چست اسٹاف فوری طور پر اس لڑکی کو اٹھا کر آفس میں لیکر جاتا ہے ۔ وہاں پر لڑکی کو پہلے تو لٹایا جاتا ہے اور پھر پانی پلانے کی کوشش کی جاتی ہے ابھی اس لڑکی کی طبیعت سنبھل بھی نہیں پاتی کہ ایک اور لڑکی کو اسٹاف کے ممبرس اور ٹیچرس اٹھا کر آفس میں لاتے ہیں وہ لڑکی بھی کھڑے کھڑے اسمبلی میں اچانک نیچے گرجاتی ہے ۔ تقریباً 15منٹ کے پروگرام میں جو کہ اسمبلی کے بعد اضافی وقت میں چلایا گیا جملہ تین لڑکیاں چکر کھا کر گرچکی تھی ۔ آخر اسمبلی میں ایسا کیا ہوگیا کہ یکے بعد دیگرے جملہ تین لڑکیاں نیچے گرگئی ؟ معلومات کرنے پر پتہ چلا کہ جب بھی اسکول میں اسمبلی 15 منٹ سے ذرا بھی دیر تک چلی تو اکثر ایسا ہوات ہے کہ اسمبلی کے دوران قطار بنا کر ٹھہرنے والی لڑکیاں چکر کھا کر گرجاتی ہیں اور یہ کیس بیماری کے سبب نہیں بلکہ اسکول کے کرسپانڈنٹ خود کہتے ہیں کہ ’’دراصل ہمارے اسکول میں اکثر ایسی لڑکیاں اسمبلی میں ہوتی ہیں جو صبح گھر سے آتے وقت ناشتہ نہیں کرتی ہیں اور اسمبلی کا وقت ذرا بھی بدل جائے یا بڑھ جائے تو بھوک سے نڈھال ہوکر چکراتی ہیں اور اگر پڑتی ہیں ‘‘ ۔ کرسپانڈنٹ سے جب پوچھا گیا کہ ’’ماشاء اللہ سے آپ کا اسکول تو معیاری مانا جاتا ہے پھر آپ کے ہاں بھی اتنے غریب طلبہ پڑھتے ہیں کہ صبح اسکول انے کے لے ناشتہ نہیں کرسکتے تو آپ کو ہی کچھ کرنا چاہئے نا؟‘‘۔
اس سوال پر اسکول کے کرسپانڈنٹ نے جو جواب دیا وہ ہمارا منہ بند نہیں کرپایا اور ہم اپنا منہ کھلا رکھے حیرت میں پڑگئے انھوں نے کہا کہ ’’جناب یہ جو لڑکیاں صبح کا ناشتہ بغیر کئے اسکول آتی ہیں یہ کسی غریب گھرانے سے تعلق نہیں رکھتی بلکہ ان کے ہاں تو اپنا کھانا کھانے کے پیسے بھی ہوتے ہیں اور بعض کے ہاں صبح کا ناشتہ ان کے ٹفن کے ڈبوں میں بند ہوتا ہے جو آتے وقت کسی ہوٹل سے یا دکان سے لیکر Pack کرکے انکے ٹفن باکس میں رکھا ہوتا ہے‘‘ ۔
یہ دراصل وہ لڑکیاں تھی جن کی مائیں صبح اسکول جاتے وقت ان کو ناشتہ نہیں کھلاتی بلکہ یا تو پیسے دیتی ہیں کہ اسکول کی کینٹین سے خرید کر کھالیں یا راستہ سے کھانے کی چیزیں خرید کر short break میں کھائیں ۔
اسکول اوروں کا نہیں بلکہ ایسا اسکول ہے جس کا انتظامیہ خود دعوی کرتا ہے کہ ’’اسلامی اخلاقی ماحول میں عصری تعلیم کا مرکز‘‘ اور اس اسکول میں ننانوے فیصد لڑکیاں بھی مسلمان ہیں ۔ پرانے شہر کا نہیں بلکہ نئے شہر کا یہ اسکول ہے ۔ کیایہ صرف اس اسکول کا مسئلہ ہے ، نہیں ۔ جب دیگر اسکولس کے ذمہ داروں سے بات کی گئی تو یہ ایک تلخ حقیقت سامنے آئی کہ مسلم سماج میں بغیر ناشتہ کروائے یا برائے نام ناشتہ کے ساتھ بچوں کو اسکول بھیجنے کی وباء عام ہوگئی ہے ۔ اللہ مغفرت کرے مرحوم ڈاکٹر مجید خان صاحب کی یقیناً وہ اس مسئلے کو زیادہ بہتری کے ساتھ سمجھاپاتے اور کس کی غلطی اور کس کی اصلاح کا بھی تعین کرتے ؟
میں کیا کروں مجید خان صاحب اب ہم میں نہیں رہے اس لئے خاموش رہوں ؟ یا اپنی ذات سے بھی کچھ کروں ۔ میں کیا کرسکتا ہوں ۔ ہاں میں کوشش تو کرسکتا ہوں ؟ اس ضمن میں ، میں نے مختلف احباب سے بات کی ۔
محترمہ صفیہ بیگم صاحبہ صفدریہ گرلز ہائی اسکول کی ہیڈ مسٹریس ہیں ۔ وہ کہتی ہیں کہ ’’یہ سچ ہے کہ بچے اسکول کو صبح کا ناشتہ نہیں کرکے آتے ہیں‘‘ خود ان کے اپنے صفدریہ گرلز اسکول میں یہ عام شکایت ہے ۔ انکے مطابق ’’لڑکیاں اتنی بڑی تعداد میں صبح کا ناشتہ بغیر کئے اسکول آجاتی ہیں کہ انھیں صبح کے short break کے دوران ہی سرکاری کھانا بچیوں کو کھلانے کا انتظام کرنا پڑتا ہے‘‘ ۔

آخر کیا وجہ ہے کہ بچے صبح بغیر ناشتہ کئے اسکول کو آجاتے ہیں ۔ اس سوال پر صفیہ میڈم کہتی ہیں کہ ’’اکثر لڑکیوں کی مائیں صبح صبح دوسروں کے گھروں میں کام کرنے کے لئے چلی جاتی ہیں اور خود اپنے گھر میں کھانا پکانے کا انھیں وقت ہی نہیں ملتا‘‘ ۔گورنمنٹ ماڈل اپر پرائمری اسکول نامپلی کے انچارج اکبر علی قریشی ٹیچر کے مطابق 70 فیصدی اسکول طلبہ صبح بغیر ناشتہ کئے اسکول کو آتے ہیں جس کے سبب وہ خالی پیٹ تعلیم پر بھی صحیح توجہ نہیں دے سکتے مجبوراً اسکول کے ٹیچروں کو ’’دوپہر کا کھانا‘‘ دوپہر سے پہلے ہی بچوں کو کھلادینا پڑتا ہے ۔ ورنہ وہ بچے کلاس میں بھی اونگھتے رہتے ہیں یا صحیح طرح سے تعلیم پر توجہ مرکوز کرنے سے قاصر رہتے ہیں ۔ اقراء مشن اسکول جہاں نما نواب صاحب کنٹہ کے پرنسپال و کرسپانڈنٹ محمد ساجد علی صاحب بچوں کے بھوکے پیٹ اسکول آنے کے مسئلے کو پورے مسلم سماج کا مسئلہ قرار دیتے ہیں ان کے مطابق یہ نئے شہر یا پرانے شہر کا مسئلہ نہیں ہے ۔ساجد علی صاحب کے مطابق ہر تین اسکولی طالب علموں میں سے ایک طالب علم بھوکے پیٹ اسکول کو آتا ہے ۔ اور ہر تین طلبہ میں سے دو طلبہ برائے نام ناشتہ کرکے اسکول پہنچتے ہیں ۔
آخر کیا وجہ ہے کہ بچے اسکول کو بغیر ناشتہ یا کم تغذیہ والا ناشتہ کرکے آتے ہیں ۔ اس سوال کا ساجد صاحب بڑا ہی درست تجزیہ کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ اکثر گھرانوں میں اسکول کے وقت سے پہلے کھانا پکتا ہی نہیں تو ناشتہ کرنے کا سوال ہی نہیں اٹھتا ۔ دوم جن گھروں میں ناشتہ ہوتا ہے ان میں سے اکثر ناشتہ سے مراد چائے اور بن یا چائے اور بسکٹ ہوتا ہے ۔ ان کے مطابق خالی پیٹ دی جانے والی تعلیم دماغ تک نہیں پہنچتی ۔ اس لئے بھی ٹیچرس اور اسکول کو ناشتہ کے حوالے سے کافی فکر ہوتی ہے ۔
پرانے شہر حیدرآباد کے اسکول کے ایک بزرگ واچ مین کہتے ہیں کہ ’’ارے صاحب رات میں ٹی وی دیکھنے سے فرصت ہوئی تو مائیں جلدی سوئیں نا ۔ 12 تا ایک بجے رات کو سو کر صبح اٹھنا ہمارے گھروں کا معمول نہیں ہے ۔ آپ ٹفن کی بات کریں یہاں تو پورے کا پورا معاملہ چوپٹ ہے‘‘ ۔
آخر ہماری مائیں کیوں دیر تک سونے لگی ہیں اور ان کے لئے اپنے ہی بچوں کے لئے ناشتہ بنانا مسئلہ بن گیا ہے ۔ غریب بچوں کی مائیں خود دوسروں کے گھروں میں جا کر پکانے کا یا دوسرا کام کرتی ہیں ۔ تاکہ گھر کے گذر بسر کا سامان ہوسکے مگر جو ماں گھر میں ہی ہوتی ہے اور نیند سے جلد بیدار ہونا نہیں چاہتیں تاکہ اپنے بچوں کو گھر میں ہی پکا کر کھانا کھلاسکے ان کو میں کیا بولوں ؟
ڈاکٹر مجید خان کا نظریہ بڑا درست تھا کہ لڑکی کے والدین کو چاہئے کہ وہ اپنی لڑکیوں کی شادی سے زیادہ ان کی تربیت کی فکر کریں اور لڑکیوں کے ساتھ لڑکوں کو بھی شادی سے پہلے کونسلنگ کی ضرورت ہے وہ خود پر پڑنے والی ذمہ داریوں سے نمٹنے کے لئے کس قدر تیار ہیں ۔ اگر آپ کو اپنے ہی بچوں کے ناشتے کی فکر نہیں تو میرا جی چاہتا ہے کہ آپ سے سوال کروں کہ آخر آپ کو کس چیز کی فکر ہے ۔ ہمارے بچے رات میں گھروں سے باہر چبوتروں پر بیٹھیں تو ان کو گھر واپس بھجوانا پولیس کی ذمہ داری ہے ۔ سارے بچے دن میں اسکول و کالج کے بجائے حقہ پارلر یا اسنوکر کلب کو چلے جائیں تو ان کو دیکھنا پولیس کی ذمہ داری ہے ۔ ہماری اجازت کے بغیر ہمارے بچے اگر ہماری گاڑیاں لیجا کر سڑکوں پر دوڑائیں تو ان کو روک کر ان کی کونسلنگ کرنا پولیس کی ذمہ داری ہے ؟
ٹھیک ہے بہت سارے کام کرنا پولیس والوں کی ذمہ داری ہے ہمارے محکمہ اقلیتی بہبود کی جانب سے ایس ایس سی کوچنگ کے لئے بھی پولیس کا تعاون حاصل کیا گیا ہے کیا اب ہمارے بچوں کے ناشتے کے حوالے سے بھی ہم پولیس سے مدد لیں گے ؟؟

یا خاتون پولیس عہدیداروں سے ہماری ان ماؤں کی کونسلنگ کا انتظام کروائیں جو اپنے بچوں کو صبح ناشتہ نہیں کرواتی ہیں ؟ میں کون ہوتا ہوں کوئی فیصلہ یا علاج تجویز کروں جب آپ کو خود کی فکر نہ ہو ۔ محترمہ شاہجہاں صدیقی گورنمنٹ ڈگری کالج حسینی علم کی لکچرار ہیں وہ کہتی ہیں کہ بچوں کو ناشتہ نہ کروانا ہر گھر کا مسئلہ نہیں ہے ۔ اپنے بچوں کو خود صبح کا ناشتہ کرواتی ہوں اور اسکے بعد خود ناشتہ کرکے کالج کے لئے جاتی ہوں ۔ ہم بہانہ تلاش کرنے والے لوگ ہیں ہم نے فوری پوچھ لیا آپ کو سرکاری ملازم ہیں آپ کو تو نوکر کھانے پکانے کے لئے رہتے ہیں تو انھوں نے واضح کردیا کہ ایسا نہیں ہے ۔ اپنے گھر کا سارا کام وہ خود ہی کرتی ہیں ایک تو خود کالج میں لکچرار ہیں ۔ دوسرا وہ کسی اور کی شکایت کو دیکھ کر ماں کی حیثیت سے اپنے رول کو بخوبی نبھانے کی کوشش کرتی ہیں ۔
اب بھی مجھے امید نہیں اسکول انتظامیہ لاکھ کوشش کرے مائیں سدھرنے والی نہیں ہیں اس لئے میری تجویز تو یہ ہے کہ ریاستی حکومت بچوں کو دوپہر کے کھانے کے ساتھ صبح کا کھانا بھی فراہم کرے اور جو بچے خانگی اسکولوں میں پڑھتے ہیں ان کو کھانا کھلانے کیلئے الگ سے فیس وصول کرے اور پولیس والوں کو ہمارے بچوں کو کھانا کھانے کی بھی اضافی ذمہ داری سونپ دے ۔
کیونکہ ہمارے بچوں کی صحیح تربیت کے لئے جب پولیس اتنا سارا کام کررہی ہے تو صبح کے کھانے کے ماہانہ پیسے لے کر بچوں کو کھانا بھی کھلانے کا انتظام کردے ۔ اللہ تعالی سے دعا ہے کہ وہ ہم سبھی کو نیک توفیق دے اور ہمارے بچوں کے ساتھ ساتھ ہماری ماؤں کی تربیت کا سامان فرما (آمین)۔
طفل میں کیونکر ہو خو ماں باپ کے اطوار کی
دودھ تو ڈبّے کا ہے ، تعلیم ہے سرکار کی
[email protected]

TOPPOPULARRECENT