Thursday , August 24 2017
Home / Top Stories / دور حاضر کی دنیا ، بدترین عدم رواداری کیخلاف جدوجہد میں مصروف

دور حاضر کی دنیا ، بدترین عدم رواداری کیخلاف جدوجہد میں مصروف

NEW DELHI, NOV 21 (UNI):- President Pranab Mukherjee presents First Distinguished Indologist Award to Prof. Emeritus Heinrich Freiherr Von Stietencron of Germany during the inauguration of International Conference of Indologists, in New Delhi on Saturday. UNI PHOTO-41U

جدید ہند میں تنوع کو فروغ دینے والے اقدار پانے کی ضرورت ، پرنب مکرجی کا خطاب
نئی دہلی ۔ /21 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) صدرجمہوریہ پرنب مکرجی نے اس تاثر کا اظہار کیا کہ دور حاضر میں دنیا بدترین عدم رواداری کا سامنا کررہی ہے اور یہی وقت ہے کہ ان اقدار کو نافد کیا جائے ۔ جس نے عصر حاضر کے ہندوستان کو تنوع کو باقی و برقرار رکھا ہے اور ان اقدار کو دنیا بھر میں فروغ دیا جائے ۔ ہندوستانی علوم کی پہلی بین الاقوامی کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے صدرپرنب مکرجی نے سوامی ویویکا نند کے اس پیغام کا حوالہ دیا کہ ’’دنیا کو ہندوستان سے ہنوز بہت کچھ سیکھنا ہے ‘‘ ۔ نظریہ صرف رواداری کا ہی نہیں ہے بلکہ بات ہمدردی کی بھی ہے ‘‘ ۔ انہوں نے عوام کو وہ اقدار یاد دلانے کی کوشش کی جن کے لئے یہ ملک ساری دنیا میں پہچانا جاتا ہے ۔ صدر پرنب مکرجی نے کہا کہ ’’آج ہم ایسے واقعات دیکھ رہے ہیں جن کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی اور ساری دنیا اس وقت عدم رواداری کی بدترین شکل سے نمٹنے کی جدوجہد میں مصروف ہے اور ایسی نفرت کا دور دورہ ہے جس کو بنی نوع انسان نے شائد ہی پہلے کبھی د یکھا ہے ‘‘ ۔

انہوں نے مزید کہا کہ ’’ ایک ایسے وقت اس سے بہتر کوئی مداوا نہیں کہ ہم اپنی اعلیٰ ترین اقدار کو یاد کریں ۔ مندرجہ اور غیر درج شدہ سمسکار (روایات) ، فرائض اور اس طرز حیات کو بھی یاد کیا جائے جو ہندوستان کا مزاج ہیں ‘‘ ۔ انہوں نے ان تمام تہذیبی اقدار کو اپنانے پر زور دیا جنہوں نے جدید ہندوستان کے متنوع معاشرہ کو متحد رکھا ہے ۔ ان اقدار کو ہمارے عوام اور ساری دنیا میں فروغ دیا جانا چاہئیے ۔ واضح رہے کہ دادری میں ایک عمر رسیدہ مسلمانوں کو جنونی ہجوم کے ہاتھوں مار مار کر ہلاک کئے جانے اور مابعد پیش کرکے مختلف واقعات کے بعد صدرجمہوریہ بارہا مرتبہ رواداری اور تکثیری معاشرہ کے فروغ کی اپیل کرچکے ہیں ۔ صدر ہند نے اس تین روزہ کانفرنس میں شرکت کرنے والے ماہرین اور اسکالرس پر زور دیا کہ وہ محض زمانہ قدیم کے واقعات پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے یا پھر ہندوستان کے عظیم ماضی کے بارے میں عوام کو پرانی یادوں میں گم کرنے کے بجائے اس بات کو اجاگر کریں کہ ہمہ تہذیبی معاشرہ ، تکثیر و تنوع آیا کس طرح ہندوستانی روح و مزاج کا اساسی حصہ ہیں ۔ صدر مکرجی نے کہا کہ ’’ مجھے یقین ہے کہ آئندہ تین دن کے دوران ہونے والے مذاکرات ہمہ تہذیبی معاشرہ ، تکثیر و تنوع سے متعلق ہندوستان کے مزاج کو اجاگر کریں گے ۔ وہ یقیناً ہماری موجودہ معلومات میں اضافہ کریں گے ‘‘ ۔ صدرجمہوریہ نے جرمن کے اعزازی مہمان پروفیسر عین ایچ فریہر کو پہلا باوقار انڈولوجسٹ ایوارڈ پیش کیا جنہوں نے ہندوستانی تہدیب ، تاریخ ، مذاہب اور زبانوں پر عرق ریزی کے ساتھ گرانقدر تحقیق کی ہے ۔ ایوارڈ پیشکشی تقریب میں وزیر خارجہ سشما سواراج بھی موجود تھیں ۔

TOPPOPULARRECENT