Wednesday , April 26 2017
Home / شہر کی خبریں / دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو کی بے اعتنائی

دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو کی بے اعتنائی

سابق ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل دور درشن جناب منظور الامین کے انتقال کی نشریات نظر انداز
حیدرآباد ۔ 6 ۔ مارچ : ( سیاست نیوز ) : دور درشن کے ارباب مجاز کی جانب سے اپنے سابق عہدیداروں و ممتاز سربرآوردہ شخصیتوں کے سلسلہ میں پائی جانے والی بے حسی کا ایک منہ بولتا ثبوت اس وقت ملا ، آل انڈیا ریڈیو حیدرآباد سے اپنے نشریاتی کیرئیر کا 1949 ء میں آغاز کرنے والے جناب منظور الامین سابق ایڈیشنل ڈائرکٹر جنرل دور درشن ( دہلی ) جنہوں نے ملک کے کم و بیش تمام اہم دور درشن کیندروں میں کئی ایک اہم عہدوں پر اپنی گرانقدر خدمات انجام دیتے ہوئے وظیفہ حسن خدمت پر سبکدوش ہوئے تھے ۔ عالمی شہرت کے حامل جناب منظور الامین کی ہمہ جہت شخصیت سے میڈیا کا ہر فرد بخوبی واقف ہے ۔ لیکن ان کے 2 مارچ کو رات دیر گئے رحلت کرجانے کی خبر تاحال دور درشن کے کسی بھی کیندر نے پیش نہیں کئے ۔ معلوم ہوا ہے کہ مبینہ طور پر حیدرآباد دور درشن کیندر اور آکاش وانی حیدرآباد کی جانب سے بھی نشر نہیں کی گئی ۔ جب کہ اپنے وقت کے سابق وزرائے اعظم آنجہانی اندرا گاندھی ، راجیوگاندھی اور سابق وزیر اطلاعات و نشریات مسٹر ایل کے اڈوانی جیسی نمائندہ شخصیتوں کے ساتھ خدمات انجام دیتے ہوئے وزارت اطلاعات و نشریات کے ایک اہم اور ناقابل نظر انداز پالیسی ساز عہدیدار کی حیثیت سے کم و بیش چار دہائیوں تک نمایاں خدمات انجام دینے والے جناب منظور الامین مرحوم کے ساتھ اس طرح کا متعصبانہ رویہ سرکاری میڈیا کی کھلی تعصب پسندی کا بین ثبوت ہے ۔ جناب منظور الامین کے انتقال کی اطلاع اگرچیکہ ملک کے کئی ایک اخبارات میں جلی سرخیوں کے ساتھ 4 مارچ کی اشاعت میں شامل رہی لیکن سوائے ایک خانگی قومی ٹی وی چیانل کے جس نے صبح ہی سے ’ اسکرولنگ ‘ کے ذریعہ ان کے رحلت کر جانے کی خبر کے ساتھ ساتھ ایک تفصیلی خبر نشر کی تھی ۔ تاہم ملک بھر میں کارکرد دور درشن کے دو سوسے زائد کیندروں میں سے کسی ایک نے بھی اس خبر کو نشر نہ کرتے ہوئے اس بات کا ثبوت فراہم کردیا کہ ان کے پاس اپنے سابق اعلیٰ عہدیدار کی کیا اہمیت ہے ؟ باور کیا جاتا ہے کہ ایک دن قبل ہی انتقال کر جانے والے ایک ممتاز مسلم رکن پارلیمان جناب سید شہاب الدین کے سانحہ ارتحال کی خبر کو بھی سرکاری الیکٹرانک میڈیا کی جانب سے اپنے تعصب کا نشانہ بنایا گیا ۔ جب کہ جناب منظور الامین کی طرح جناب سید شہاب الدین کے انتقال کی خبر سوشیل میڈیا کے ذریعہ دنیا بھر میں آج بھی موضوع بحث بنی ہوئی ہے اور لوگ ان دونوں سربرآوردہ شخصیات کو فیس بک ، واٹس اپ اور دیگر ذرائع سے اپنا خراج عقیدت پیش کررہے ہیں ۔ عالمیانہ کے زمانے میں دور درشن اور آل انڈیا ریڈیو جیسے اداروں کے تساہل اور غیر جانبداری پر ایک سوالیہ نشان ہے ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT