Tuesday , August 22 2017
Home / Top Stories / دوسری میعاد نہیں چاہئے ، گورنر آئی بی آئی راجن کا فیصلہ

دوسری میعاد نہیں چاہئے ، گورنر آئی بی آئی راجن کا فیصلہ

ممبئی ؍ نئی دہلی ، 18 جون (سیاست ڈاٹ کام) گورنر ریزرو بینک آف انڈیا رگھورام راجن نے اپنے عہدہ کی ممکنہ دوسری میعاد کو آج اپنی طرف سے نفی کردیا۔ یہ فیصلہ مخصوص سیاسی گوشے کی طرف سے مسلسل تنقید اور اُن کی برقراری کے بارے میں لگاتار قیاس آرائی کے درمیان ہوا ہے۔ اس حیران کن فیصلے کو انڈسٹری اور اپوزیشن پارٹیوں نے قوم کا نقصان قرار دیا۔ اس بات پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے کہ افراطِ زر پر قابو پانے اور بینکوں کے کھاتوں کو صاف ستھرا بنانے سے متعلق اُن کا کام ’’ہنوز تکمیل طلب‘‘ ہے، 53 سالہ گورنر راجن نے کہا: ’’یوں تو میں نے ان اقدامات کو مناسب جائزہ اور حکومت کیساتھ مشاورت کے بعد روبہ عمل لانے کیلئے کھلے ذہن سے کام کیا، لیکن میں آپ کو واقف کرا دینا چاہتا ہوں کہ 4 سپٹمبر 2016ء کو جب گورنر کی حیثیت سے میری میعاد اختتام پذیر ہوجائے تو میں علمی زندگی کی طرف واپس ہوجاؤں گا۔‘‘ اس تبدیلی پر مرکز کی طرف سے ردعمل میں وزیر فینانس ارون جیٹلی نے آج کہا کہ حکومت آر بی آئی گورنر راجن کے ’’اچھے کام‘‘ کی قدر کرتی ہے اور جلد ہی اُن کے جانشین کے بارے میں فیصلہ کرے گی۔ اسٹیٹ بینک آف انڈیا کی سربراہ اروندھتی بھٹاچاریہ نے گورنر راجن کو نہایت قابل شخص قرار دیتے ہوئے کہا کہ انھوں نے سنٹرل بینک کو اعتبار دلایا ہے۔ نائب صدر کانگریس راہول گاندھی نے راجن کے بیان پر این ڈی اے حکومت پر سخت چوٹ میں کہا کہ وزیراعظم نریندر مودی کو راجن جیسے ماہرین کی کچھ ضرورت نہیں کیونکہ وہ ’’ہر چیز جانتے‘‘ ہیں۔ راہول نے آر بی آئی گورنر کو سراہا کہ انھوں نے ’’مشکل وقتوں‘‘ میں ہندوستانی معیشت کو سنبھالا۔ سابق وزیر فینانس پی چدمبرم نے راجن کے فیصلے پر دکھ کا اظہار کیا جبکہ بی جے پی ایم پی سبرامنیم سوامی نے کہا کہ آر بی آئی گورنر حکومتی ملازم ہے اور اسے عوامی مقبولیت کی اساس پر منتخب نہیں کیا جاسکتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT