Saturday , September 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دوسرے وقف سروے سے وقف جائیدادوں کی مزید تباہی

دوسرے وقف سروے سے وقف جائیدادوں کی مزید تباہی

شاہی مسجد نامپلی کی اراضی پر محکمہ ہارٹیکلچر کا قبضہ، عارضی مندر میں پوجا پاٹ کا آغاز
حیدرآباد۔/14نومبر، ( سیاست نیوز) اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے سلسلہ میں حکومت بھلے ہی لاکھ دعوے کرلے لیکن ایسا محسوس ہوتا ہے کہ دوسرے وقف سروے کے ذریعہ اوقافی جائیدادوں کے تحفظ کے بجائے انہیں مزید تباہ کرنے کی سازش تیار کی گئی ہے۔ دوسرے وقف سروے کا کام ابھی جاری ہے لیکن وقف بورڈ کے عہدیداروں کو یہ جان کر حیرت ہوئی کہ پہلے سروے کے مقابلہ میں دوسرے سروے میں کئی اداروں کے تحت موجود اراضی کو کم ظاہر کیا گیا ہے جبکہ پہلے سروے میں اراضی کا رقبہ کافی زیادہ ہے۔ اس طرح کی ایک تازہ مثال شہر حیدرآباد کی تاریخی شاہی مسجد کے تحت موجود اوقافی اراضی کے بارے میں منظر عام پر آئی ہے۔ وقف ریکارڈ اور گزٹ کے مطابق شاہی مسجد باغ عامہ کے تحت موجود اراضی کا رقبہ 13811 مربع گز ہے لیکن دوسرے سروے میں صرف 10499 مربع گز اراضی ظاہر کی گئی ہے۔ اس طرح 3361مربع گز اراضی پر محکمہ ہارٹیکلچر نے عملاً قبضہ کرلیا ہے۔ وقف بورڈ اور اقلیتی بہبود کی جانب سے 3361مربع گز اراضی کے تحفظ کے سلسلہ میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے کیونکہ اس معاملہ میں ریاستی حکومت کو کوئی دلچسپی نہیں ہے اور محکمہ ہارٹیکلچر کے عہدیداروں نے اراضی کا دوبارہ سروے کرنے سے انکار کردیا ہے۔ شاہی مسجد باغ عامہ جس کا وقف گزٹ میں نام ’ مسجد عثمانیہ ‘ درج ہے اس کے تحت 13811 مربع گز اراضی کی موجودگی کا انکشاف گزٹ نوٹیفکیشن نمبر 32-A مورخہ 30اگسٹ 1984 میں کیا گیا ہے۔ وقف گزٹ میں مسجد کے تحت دو نیاز خانے، دو مکانات، گودام، حجرہ چوکیداران، باورچی خانہ، بیت الخلاء اور طہارت خانہ درج کیا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دوسرے سروے میں جب اراضی کا جائزہ لیا گیا تو 3362مربع گز اراضی کم پائی گئی۔ عہدیداروں کا کہنا ہے کہ یہ اراضی اسمبلی کے احاطہ کی توسیع اور سڑک کی تعمیر کیلئے حاصل کرلی گئی ہے جبکہ مسجد سے متصل اراضی محکمہ ہارٹیکلچر کے کنٹرول میں ہے اور اس اراضی کے تحفظ کیلئے انہوں نے نہ صرف حصاربندی کرلی بلکہ وہاں ملازمین کیلئے ایک عارضی کمرہ تعمیر کردیا۔ اس کمرہ میں باقاعدہ پوجا پاٹ کا آغاز ہوچکا ہے اور اگر حکام فوری توجہ نہ دیں تو آنے والے دنوں میں یہ مستقل مندر کی شکل اختیار کرسکتی ہے۔ مسجد کے مصلیان کی جانب سے اس سلسلہ میں حکام کو بار بار توجہ دہانی کے باوجود کوئی کارروائی نہیں کی گئی۔ محکمہ اقلیتی بہبود جو مسجد کے اُمور کا نگرانکار ہے اس کی اجازت کے بغیر حکومت نے کس طرح اراضی کو حاصل کرلیا۔ مصلیان مسجد کا کہنا ہے کہ نہ صرف اس اراضی کو دوبارہ حاصل کیا جائے بلکہ مسجد کے دونوں جانب موجود نیاز خانوں کو مسجد کی توسیع میں شامل کرلیا جائے۔ نیاز خانوں کیلئے مخصوص یہ عمارتیں انتہائی خستہ حالت میں ہیں۔ اگر اس احاطہ کو مسجد میں شامل کرلیا گیا تو نماز جمعہ اور عیدین کے موقع پر مصلیوں کو سہولت ہوگی۔ واضح رہے کہ سروے کمشنر وقف اور کمشنر ہارٹیکلچر کو اراضی کے بارے میں کلکٹر کی جانب سے توجہ دلائی گئی لیکن ساری اراضی کا آج تک دوبارہ سروے نہیں کیا گیا۔ مسجد کی 3361 مربع گز اراضی کو حاصل کرتے ہوئے از سر نو حد بندی کی ضرورت ہے۔ مسجد سے متعلق وقف بورڈ میں موجود گزٹ اور کتاب الاوقاف میں مسجد کی اراضی اور اس سے متصل مکانات اور نیاز خانوں کی صراحت موجود ہے۔ مصلیان مسجد نے سکریٹری اقلیتی بہبود سے اپیل کی ہے کہ وہ اس سلسلہ میں فوری کارروائی کرتے ہوئے شہر کی اس تاریخی مسجد کی اراضی کا تحفظ کریں۔ اسمبلی سے متصل شہر کے مرکزی مقام پر موجود اس اوقافی اراضی کا یہ حال ہے تو دیگر مقامات کی اراضیات کے تحفظ میں عہدیداروں کی سنجیدگی کا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ اس مسجد میں مختلف محکمہ جات کے کئی اعلیٰ عہدیدار اور عوامی نمائندے نماز کی ادائیگی کیلئے آتے ہیں لیکن کسی نے اراضی کے تحفظ پر توجہ نہیں دی۔

TOPPOPULARRECENT