Wednesday , September 20 2017
Home / ہندوستان / دوسپاہیوں کے سرقلم کرنے پر ہندوستان کا پاکستان سے احتجاج

دوسپاہیوں کے سرقلم کرنے پر ہندوستان کا پاکستان سے احتجاج

نعشوں کی بے حُرمتی پر برہمی ‘ پاکستانی ہائی کمشنر عبدالباسط کی دفتر خارجہ میں طلبی
نئی دہلی، 3 مئی (یو این آئی) پاکستانی فوج کی طرف سے جموں و کشمیر میں کنٹرول لائن پر دو ہندوستانی جوانوں کی لاشوں کو مسخ کرنے پر ملک میں غم و غصہ کی لہر کے درمیان خارجہ سکریٹری ڈاکٹر ایس جے شنکر نے آج پڑوسی ملک کے ہائی کمشنر عبدالباسط کو طلب کر کے اس مکروہ کارروائی کے لئے مجرم پاکستانی فوجیوں اور ایریا کمانڈروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ خارجہ سکریٹری نے ہائی کمشنر کو وزارت خارجہ میں طلب کر کے اس وحشیانہ کارروائی پر ہندوستان کا احتجاج درج کیا۔ وزارت خارجہ کے ترجمان گوپال باگلے نے ٹویٹ کر کے بتایا کہ ‘ خارجہ سکریٹری نے پاکستانی ہائی کمشنر کو طلب کیا، انہیں ہندوستان کے احتجاج اور اعتراض سے آگاہ کیا اور اس کارروائی کے لئے ذمہ دار پاک فوج اور ایریا کمانڈروں کے خلاف کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔مسٹرگوپال باگلے نے کہا کہ خارجہ سکریٹری نے پاکستانی ہائی کمشنر کو بتایا کہ بٹل سیکٹر میں یہ واقعہ ہونے سے پہلے کنٹرول لائن کے پار پاکستانی چوکیوں سے انہیں تحفظ دیا گیا تھا۔ انہیں یہ بھی بتایا گیا کہ شہید جوانوں کے خون کے نمونے لئے گئے ہیں، جن کی تحقیقات میں پتہ چلا ہے کہ جائے واردات سے روزہ نالہ تک اسی خون کے نشانات ملیں ہیں جس سے ثابت ہوتا ہے کہ قتل کرنے والے نالہ پار کر کے پاکستان کے قبضے والے علاقے میں لوٹے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ سکریٹری خارجہ نے مسٹر عبدالباسط سے مطالبہ کیا کہ پاکستان اس وحشیانہ کارروائی کے ذمہ دار فوجیوں اور کمانڈروں کے خلاف فوری طور پر کارروائی کرے ۔ فوج کے ذرائع کے مطابق پاکستان نے پیر کو صبح 8 بج کر 40 منٹ پر کنٹرول لائن سے متصل کرشنا وادی سیکٹر میں جنگ بندی کی خلاف ورزی کر کے فارورڈ چوکیوں پر راکٹ اور مارٹر سے حملہ کیا اور اسی دوران ہندوستانی سرحد میں تقریبا 250 میٹر اندر پاکستان کی بارڈر ایکشن ٹیم (بی اے ٹی) نے گشت کر نے والے ہندوستانی جوانوں پر گھات لگا کر حملہ کیا جس میں فوج کے نائب صوبیدار پرم جیت سنگھ اور بارڈر سکیورٹی فورس (بی ایس ایف) کے ہیڈ کانسٹیبل پریم ساگر شہید ہوگئے اور جوان راجندر سنگھ زخمی ہو گیا۔

تمباکو چبانے پر امتناع کیوں نہیں؟ دہلی ہائی کورٹ
نئی دہلی۔3 مئی (سیاست ڈاٹ کام) تمباکو چبانے پر امتناع کیوں عائد نہ کیا جائے؟ ایسا کرنے سے گٹکھا اور پان مسالہ سے لاحق خطرات کو ختم کیا جاسکے گا۔ دہلی ہائی کورٹ نے آج فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹانڈرڈس اتھاریٹی آف انڈیا (FSSAI ) سے یہ سوال کیا اور یہ جاننا چاہا کہ مرکز یا کسی ریاستی حکومت نے ایسا قدم اٹھایا ہے یا نہیں جسٹس سنجیو سچدیو نے یہ سوال کیا کہ پان مسالہ اور گٹکھا پر امتناع عائد کیوں نہ کیا جائے ۔ اتھاریٹی کی نمائندگی کررہے وکیل ایم پرچا نے بتایا کہ تمباکو چبانے والی اشیاء پر علیحدہ امتناع کی ضرورت نہیں ہے کیوں کہ گٹکھا پر امتناع سے متعلق اعلامیہ کے ذریعہ ان تمام کا احاطہ کیا گیا ہے۔ عدالت ایک درخواست کی سماعت کررہی تھی جس میں گٹکھا پر امتناع سے متعلق اعلامیہ کو چیلنج کرتے ہوئے ترمیم کی خواہش کی گئی ۔

TOPPOPULARRECENT