Monday , May 29 2017
Home / شہر کی خبریں / دولتمندافراد رقومات خرچ کرنے بے چین

دولتمندافراد رقومات خرچ کرنے بے چین

کلب ممبرشپ میں اضافہ ‘ قرضہ جات کی ادائیگی
حیدرآباد۔14نومبر(سیاست نیوز) قرض کی ادائیگی کے سواء غیر محسوب رقومات کا حساب بتانا مشکل ہوگا۔ حکومت ہند کی جانب سے 1000اور 500کے نوٹوں کو منسوخ کئے جانے کے فوری بعد غیر محسوب رقومات رکھنے والے ادارے اور شخصیتوں کی جانب سے رقومات کے خرچ کے اقدامات کئے جانے لگے ہیں اور اس کیلئے ایسی دولت جس کا حساب نہیں ہے وہ رکھنے والوں نے مختلف کلبس کی رکنیت حاصل کرنی شروع کردی ہے تاکہ ان اخراجات کو دکھایا جا سکے لیکن 9نومبر کو حاصل کی جانے والی کلبس کی رکنیت گاڑیوں کے رجسٹریشن‘ انشورنس پالیسیاں‘ میڈی کلیم پالیسیاں وغیرہ شمار کیا جانا ممکن نظر نہیں آتا کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں بھی 8نومبر کی شب تک اس دولت کو صارف کے ہاتھ میں موجود ’کیش ان ہینڈ‘ میں ہی شمار کیا جائے گا۔ ماہرین معاشیات کا کہنا ہے کہ جن لوگوں نے قرض لے رکھا ہے ان کی جانب سے منسوخ نوٹوں کے ذریعہ قرض کی ادائیگی ممکن بنائے جانے پر ہی انہیں راحت میسر آسکتی اور دوسری کوئی ایسی شکل نہیں ہے جس کے ذریعہ ان غیر محسوب رقومات کے ذریعہ کی جانے والی ادائیگیوں کا فائدہ اٹھایا جا سکے۔ قرض حاصل کرنے والے جو قرض کی ادائیگی کریں گے انہیں اس دولت کا حساب دینا نہیں پڑے گا جو قرض کی ادائیگی کیلئے دی گئی ہے لیکن اس کے علاوہ جمع کروائی جانے والی تمام رقومات کا حساب لئے جانے کی گنجائش موجود ہے ۔ عام طور پر اب تک یہ تصور کیا جاتا تھا کہ جو قرض کے بوجھ تلے دبے ہوئے ہیں وہ مسائل میں مبتلاء ہیں لیکن حکومت کے اس فیصلہ نے مقروض افراد و اداروں کو اپنے پاس موجود غیر محسوب رقومات کے  ذریعہ قرضوں کی ادائیگی کا موقع فراہم کرتے ہوئے انہیں کافی راحت پہنچائی ہے۔ قرض کی ادائیگی کے لئے بینکوں تک پہنچنے والی دولت اگر کالا دھن بھی ہے تو اس کی تحقیق کی گنجائش نہیں رہے گی کیونکہ جو شخص یا ادارہ یہ رقم جمع کروا رہا ہے وہ بینک کا مقروض ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT