Monday , September 25 2017
Home / دنیا / دولت اسلامیہ شدید مالی بحران سے بوکھلاہٹ کا شکار

دولت اسلامیہ شدید مالی بحران سے بوکھلاہٹ کا شکار

مختلف ہتھکنڈوں سے نئے نئے ٹیکسوں کا نفاذ، امریکی کنسلٹنسی فرم کی رپورٹ
لندن ۔ 18 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ جس نے دہشت گردی پھیلا کر پوری دنیا میں اتھل پتھل مچا رکھی ہے اور آج عالم یہ ہیکہ جس طرح کسی زمانہ میں اسامہ بن لادن کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوئی تھی اسی طرح دولت اسلامیہ (آئی ایس آئی ایس) یا داعش سے بچہ بچہ واقف ہے۔ دوسری طرف خود دولت اسلامیہ اب شاید پہلے جیسی مستحکم نہیں رہی۔ سب سے زیادہ فکرمندی کی بات یہ ہیکہ اس کے مالی حالات بھی بحران کا شکار ہیں۔ اگر گذشتہ سال تک کا بھی جائزہ لیا جائے تو اس کی آمدنی 30 فیصد تک کم ہوچکی ہے جس کا اندازہ اگر ڈالر کی قدر سے لگایا جائے تو یہ 56 ملین ڈالرس ہوگئی ہے جس کے بعد بوکھلاہٹ کا شکار دولت اسلامیہ نے ان افراد پر جنہیں اس گروپ نے قید کر رکھا ہے عجیب و غریب ٹیکس اور جرمانے عائد کرتے ہوئے خسارہ کی بھرپائی کی کوشش کررہی ہے جن میں سٹیلائیٹ ڈشس کی تنصیب اور کسی شہر سے باہر جانے کی فیس وصول کرنا بھی شامل ہے۔ امریکہ کی کنسلٹنسی فرم آئی ایچ ایس کے مطابق داعش کو یکے بعد دیگرے کئی محاذوں پر شکست فاش کا سامنا ہے اور کئی علاقے اس کے قبضہ سے نکل چکے ہیں۔ اس طرح ’’جہادی خلافت‘‘ میں رہنے والے لوگ جو 2015ء تک 9 ملین تھے وہ اب کم ہوکر چھ ملین رہ گئے ہیں۔ لازمی بات ہے جب عوام کی تعداد کم ہوگی تو آمدنی بھی کم ہوگی۔ اسی کم آمدنی نے داعش کے ہوش ٹھکانے لگادیئے ہیں۔ امریکی فرم کے مطابق 2015ء کے وسط تک دولت اسلامیہ کی مجموعی ماہانہ آمدنی 80 ملین ڈالرس تھی جبکہ مارچ 2016ء تک یہی آمدنی گھٹ کر 56 ملین ڈالرس ہوگئی ہے۔ آئی ایچ ایس کی سینئر تجزیہ نگار بوڈو ویکو کارلینو نے یہ بات بتائی۔ ایک زمانہ وہ بھی تھا کہ دولت اسلامیہ کو مالدار ترین تنظیم کہا جاتا تھا تاہم 2014ء کے وسط سے اس کے قبضہ سے کئی اہم علاقے نکل گئے جس کے بعد ریونیو کا حصول بھی مشکل ہوگیا۔ دوسری طرف ڈیلی ایکسپریس نے بھی اپنے معتبر ذرائع کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دولت اسلامیہ اپنی بنیادی خدمات پر ٹیکسوں میں اضافہ کررہی ہے اور عوام سے پیسہ بٹورنے کیلئے نئے نئے ہتھکنڈے استعمال کررہی ہے۔ سڑک پر غلط رخ سے گاڑی چلانے والوں پر جرمانہ یا پھر قرآن مجید سے متعلق پوچھے گئے سوالات کا صحیح جواب نہ دینے پر بھی جرمانے عائد کئے جارہے ہیں۔ یہاں تک کہ سٹیلائیٹ ڈشس کی تنصیب اور ایک شہر سے دوسرے شہر جانے والے افراد پر بھی ’’خارجی فیس کا نفاذ کیا جارہا ہے۔ رپورٹ میں یہ انکشاف بھی کیا گیا ہے کہ ایسے تمام علاقہ جہاں دولت اسلامیہ کا قبضہ ہے وہاں تیل کی پیداوار 3300 بیارلس فی یوم سے گھٹ کر 21000 بیارلس فی یوم ہوگئی ہے۔ دولت اسلامیہ کی آمدنی کا نصف حصہ ٹیکس اور ضبطی کی صورت میں مابقی حصہ تیل کی فروخت اور اسمگلنگ سے حاصل ہوتا ہے۔ تاہم ان تمام آمدنی پر اس وقت انتہائی منفی اثرات مرتب ہوئے جب ایک چوتھائی علاقے اس کے ہاتھ سے نکل گئے۔ دولت اسلامیہ کو ایک جھٹکا اس وقت بھی لگا جب اسے حالیہ دنوں میں مختلف فضائی حملوں میں اس کے زائد از 25000 جنگجو ہلاک ہوئے جس سے دہشت گرد گروپ کی افرادی قوت بھی متاثر ہوئی۔

TOPPOPULARRECENT