Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / دولت اسلامیہ نے موصل کی نوری مسجد کو دھماکہ سے شہید کردیا

دولت اسلامیہ نے موصل کی نوری مسجد کو دھماکہ سے شہید کردیا

بغداد ۔ 22 جون (سیاست ڈاٹ کام) جہادیوں نے موصل کے مشہور و معروف جھکتے ہوئے مینار اور اس سے متصلہ مسجد کو دھماکہ سے اڑادیا جہاں ان کے قائد ابوبکرالبغدادی نے 2014ء میں اپنی خلافت کا اعلان کیا تھا۔ یاد رہیکہ اس وقت البغدادی نے پہلی بار عوام کا سامنا کیا تھا۔ دریں اثناء دولت اسلامیہ نے اپنی عمیق پروپگنڈہ ایجنسی کے ذریعہ بیان جاری کرتے ہوئے مسجد کو شہید کرنے کا الزام امریکی فضائی حملہ کو قرار دیا تاہم امریکی قیادت والے اتحاد نے اس کی تردید کی ہے اور مسجد کو شہید کرنے کے عمل کو موصل کی عوام اور پورے عراق کے خلاف ایک جرم قرار دیا۔ دوسری طرف وزیراعظم عراق حیدرالعبادی نے کل یہ کہا تھا کہ مسجد کو شہید کردینا شکست تسلیم کرنے کی علامت ہے۔ ایک ایسی جنگ میں جو موصل میں گذشتہ 8 ماہ سے جاری ہے، اسٹاف لیفٹننٹ جنرل عبدالعامر یاراللہ نے بتایا کہ عراقی فورسیس نے قدیم شہر میں کافی اندر تک پیشرفت کی ہے۔ تاہم مسجد نوری سے صرف 50 فیٹ کے قریب پہنچنے پر داعش نے ایک اور جرم کا ارتکاب کرتے ہوئے مسجد نوری کو دھماکہ سے اڑا دیا۔ یہی نہیں بلکہ انہوں نے مسجد حدیہ کو بھی نہیں بخشا۔ اس طرح موصل کے دو اہم ترین لینڈ مارکس کی اس طرح تباہی پر ہر ایک رنجیدہ ہے جبکہ داعش اپنی آخری کوششیں کررہے ہیں کہ کسی طرح انہیں وہاں شکست کا سامنا نہ ہو۔ اسی لئے خونریزی کرتے ہوئے اپنی بوکھلاہٹ دکھارہے ہیں۔

وزارت دفاع کے مطابق داعش کے جنگجوؤں نے چہارشنبہ کی رات مسجد النوری کے ڈھانچے اور مینار کی بنیادوں میں بارود نصب کردیا تھا اور پھر دھماکوں سے مسجد کی عمارت کو مسمار کردیا ہے ۔ عراقی فوج اس دھماکہ کے صرف 50 میٹر کی دوری پر تھی۔ فوج نے دھماکہ کا وقت 9:35 بجے شب بتایا ہے ۔ جائے وقوع کی تازہ ترین تصاویر میں مسجد اور اس کا مینار کو تباہ دکھایا گیا ہے ۔عراقی فوجی دستے مغربی موصل میں مسجد النوری پر قبضے کے لیے فیصلہ کن کارروائی کررہے ہیں لیکن داعش نے ان کے مسجد النوری کے نزدیک پہنچنے یا اس پر قبضے سے قبل ہی اس کو دھماکے سے منہدم کردیا ہے ۔داعش کا جون 2014ء سے اس تاریخی مسجد پر سیاہ پرچم لہرا رہا تھا۔عراقی فوج گزشتہ آٹھ ماہ سے موصل کو داعش سے آزاد کرانے کے لیے لڑ رہی ہے اور ان کی یہ کارروائی عراقی کمانڈروں اور حکام کے دعؤوں کے برعکس کافی طویل ہوگئی ہے ۔عراقی فوج اور داعش کے درمیان گزشتہ سال اکتوبر سے موصل میں جاری لڑائی کے دوران میں شہر سے ساڑھے آٹھ لاکھ سے زیادہ عراقی بے گھر ہو گئے ہیں ۔وہ موصل کے نواح میں قائم کیے گئے پناہ گزین کیمپوں میں رہ رہے ہیں یا ملک کے دوسرے علاقوں میں چلے گئے ہیں۔دولت اسلامیہ (داعش)کی خبر رساں ایجنسی اعماق نے دعوی کیا کہ امریکی جنگی طیارہ نے حملہ کرکے مسجد کو شہید کیا ہے ، جس پر امریکی اتحاد نے فورا بیان جاری کرکے اس دعوی کو مسترد کردیا۔امریکی اتحادی افواج کے ترجمان جان ڈوریئن نے ٹیلیفون پر رائٹر کو بتایا کہ ” ہم نے اس علاقے میں کوئی حملہ نہیں کیا”۔

TOPPOPULARRECENT