Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / دولت اسلامیہ کو شدید مالی بحران کا سامنا، جنگجو دوسری تنظیموں میں شامل

دولت اسلامیہ کو شدید مالی بحران کا سامنا، جنگجو دوسری تنظیموں میں شامل

واشنگٹن۔ 8 فروری (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کو حالیہ دنوں میں مختلف محاذوں پر جو اپنے در پے شکستیں ہورہی ہیں، اس کی چند وجوہات سامنے آئی ہیں جیسے دولت اسلامیہ کو اس وقت مالی بحران کا سامنا ہے۔ تنظیم کو جنگجو خیرباد کہہ رہے ہیں اور کئی ایسے جنگجو ہیں جو حریف تنظیموں میں شمولیت اختیار کررہے ہیں کیونکہ ہر ایک کے ساتھ پیٹ لگا ہوا ہے اور اگر پیٹ پالنے کے لئے درکار رقم ہی نہ ملے تو کسی بھی جہاد، جنگ، تحریک اور انقلاب میں جوش و خروش نہیں رہتا۔ ’’واشنگٹن پوسٹ‘‘ نے اس سلسلے میں متعدد نگران گروپس اور تجزیہ نگاروں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ حالیہ دنوں میں دہشت گرد گروپس کو مختلف محاذوں پر جو پے در پے شکستیں ہوئی ہیں، ان کی وجوہات میں سے سب سے اہم رقومات (تنخواہ) کی عدم ادائیگی، جن لوگوں سے تنظیم چھوڑ دی ہے، ان کی جگہ پر نئی بھرتی کا فقدان، تنظیم چھوڑ کر کسی حریف جماعت میں شامل ہوجانا اور میدان جنگ میں لڑتے ہوئے ہلاک ہوجانا شامل ہیں۔ عراق اور شام کے کئی علاقوں میں امریکی تائید والی کٹر اور عرب افواج سے دولت اسلامیہ کے قبضہ سے کئی مقامات دوبارہ حاصل کرلئے ہیں۔ مندرجہ بالا نکات کا جائزہ لینے پر یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ دولت اسلامیہ بھی کوئی پائیدار گروپ نہیں ہے۔ پرنسٹن یونیورسٹی میں پالیٹکس کا مضمون پڑھانے والے اور دولت اسلامیہ پر ایک ماہر سمجھے جانے والے پروفیسر جیکب شپیرو کے حوالے سے یہ بات بتائی گئی۔ ہارورڈ یونیورسٹی کے بیلفیر سنٹر سے وابستہ شام اور عراق میں مسلح گروپ کے اُمور پر ماہر سمجھے جانے والی پروفیسر ویرا میرنوا نے بتایا کہ دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کی تعداد میں دن بہ دن کمی ہورہی ہے۔ تنخواہوں اور دیگر مراعات میں کمی کی وجہ سے بھی جنگجو دیگر بہتر موقف کیلئے دوسری تنظیموں میں شامل ہورہے ہیں۔

TOPPOPULARRECENT