Saturday , October 21 2017
Home / دنیا / دولت اسلامیہ کو مالی بحران کا سامنا، جنگجو تنخواہوں سے محروم

دولت اسلامیہ کو مالی بحران کا سامنا، جنگجو تنخواہوں سے محروم

واشنگٹن ۔ 4 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کو اس وقت شدید مالیاتی بحران کاسامنا ہے کیونکہ تیل کے جس منافع بخش کاروبار سے انہیں زبردست سرمایہ حاصل ہورہا تھا وہ اب کم ہوکر 50 فیصد تک پہنچ گیا ہے۔ مزید برآں امریکی قیادت والے فضائی حملوں کے بعد تیل مصنوعات کی پیداوار بھی تقریباً ایک تہائی کم ہوگئی ہے۔ دی واشنگٹن پوسٹ کے مطابق امریکی عہدیداروں نے بھی پہلی بار دولت اسلامیہ کی قیادت میں مالیاتی دیوالیہ پن کے آثار دیکھے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ دولت اسلامیہ کے کمانڈرس اور سینئر کمانڈرس کے درمیان بدعنوانیوں، بدنظمی اور سرقہ کے واقعات پر اکثر بحث و تکرار ہوتی رہتی ہے۔ واشنگٹن پوسٹ نے دہشت گردی سے نمٹنے امریکی عہدیداروں کے حوالے سے بتایا کہ اس وقت دولت اسلامیہ شدید مالی بحران سے دوچار ہے اور جہاں مالی بحران ہوتا ہے وہاں بوکھلاہٹ، چڑچڑاپن اور جوش و خروش میں کمی ہوجانا ایک فطری بات ہے۔ تیل تنصیبات پر مسلسل کئی مہینوں سے جاری حملوں نے کسی حد تک دولت اسلامیہ کی کمر توڑ دی ہے کیونکہ اب وہ اس موقف میں نہیں ہیں کہ اپنے جنگجوؤں کو تنخواہیں ادا کرسکیں اور جب مالی استحکام ہی نہیں ہوگا تو آپریشنس کس طرح انجام پائیں گے۔ عراق اور شام سے دولت اسلامیہ میں بھرتی کئے گئے متعدد افراد کو نصف تنخواہ ادا کی جارہی ہے جبکہ یہ رپورٹس بھی مل رہی ہیں کہ دولت اسلامیہ کے کئی یونٹس ایسے ہیں جہاں ورکرس (جنگجوؤں) کو کئی ماہ سے تنخواہیں ادا نہیں کی گئی ہیں۔ ایسے مقامات جہاں دولت اسلامیہ کا قبضہ ہے وہاں کے شہری اور تاجرین کو شکایت ہے کہ دولت اسلامیہ اپنے خسارہ کی بھرپائی کیلئے بھاری ٹیکس عائد کررہی ہے۔ تیل کے کنوؤں، ریفائنریز اور ٹینکرس کی ہڑتال نے بھی تیل کی پیداوار کو متاثر کیا ہے جو کم ہوکر ایک تہائی ہوگیا ہے کیونکہ تیل کی قیمتوں میں بھاری کمی واقع ہوئی ہے اور ریفائنڈ پروڈکٹس جیسے گیسولین کی پیداوار اور فروخت بھی مسدود ہے۔

TOPPOPULARRECENT