Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / دولت اسلامیہ کو نیست و نابود کردینے ٹرمپ کا عزم

دولت اسلامیہ کو نیست و نابود کردینے ٹرمپ کا عزم

حلیف ممالک بشمول مسلم ممالک کیساتھ نئی حکمت عملی کی تیاریاں ، کانگریس سے پہلا خطاب
واشنگٹن۔ یکم مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج ایک اہم بیان دیتے ہوئے کہا کہ وہ امریکہ کو دہشت گردوں کا محفوظ ٹھکانہ ہرگز بننے نہیں دیں گے اور یہ عزم کیا کہ وہ اپنے تمام حلیف ممالک (جن میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں) کے ساتھ مل کر ایسی حکمت عملی تیار کریں گے جس سے دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کو بہ آسانی شکست دی جاسکے۔ کانگریس سے اپنے پہلے خطاب کے دوران انہوںنے کہا کہ امریکی شہریوں کا تحفظ، ان کی خدمت اور ان کا دفاع ان کے (ٹرمپ) فرائض منصبی میں شامل ہے۔ اپنی بات جاری رکھتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انہوں نے ایک وعدہ کیا تھا جس کی تکمیل کا اب وقت آگیا ہے۔ اب نقائص سے پاک ایک ایسا منصوبہ تیار کیا جارہا ہے جس کے ذریعہ دولت اسلامیہ کو نیست و نابود کردیا جائے گا اور اس منصوبہ کی تیاری کے لئے محکمہ دفاع کو ہدایت جاری کی جاچکی ہے۔ دولت اسلامیہ لاقانونیت والے ایک وحشیوں کا ایک مجموعہ ہے جنہوں نے اپنی سفاکانہ کارروائیوں میں کسی کو نہیں بخشا، چاہے وہ مسلمان ہو، عیسائی، مرد و خواتین ہوں یا بچے ہوں۔ ہم نہیں چاہتے کہ امریکہ میں دہشت گردی اپنا سَر اُبھارے۔ کرۂ ارض سے ہم دولت اسلامیہ کا ہمیشہ کے لئے خاتمہ چاہتے ہیں جس کے لئے ہم اپنے دوست ممالک کے ساتھ (جن میں مسلم ممالک بھی شامل ہیں) اپنے مشترکہ دشمن کو تباہ و تاراج کرنے کا منصوبہ بنارہے ہیں۔ ٹرمپ نے اپنی سخت امیگریشن پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ میں دہشت گردی کو سَر اُبھارنے نہیں دیا جائے گا، کیونکہ اگر ہم نے اس معاملے میں ذرہ برابر بھی کوتاہی کی تو امریکہ بھی دوسرا افغانستان بن جائے گا۔ فی الحال امریکی انتظامیہ بہتر حکمت عملی کے ساتھ اور نئے اقدامات کرنے کی پوری تیاریاں کررہی ہے تاکہ ملک کو محفوظ رکھا جاسکے۔

خصوصی طور پر سخت گیر اسلامی نظریات کے حامل افراد کا اس ملک میں داخلہ بالکل بند کردیا جائے گا۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہے کہ ڈپارٹمنٹ آف جسٹس نے جو ڈیٹا فراہم کیا ہے، اس کے مطابق 9/11 کے بعد سے دہشت گردی سے مربوط جتنے بھی واقعات رونما ہوئے ہیں، ان میں ملوث افراد دیگر ممالک سے امریکہ آئے تھے لہذا ہم اب تک بوسٹن تاسان برنارڈنیو اور پینٹگان پر حملے دیکھ چکے ہیں۔ ہم نے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر دہشت گرد حملہ دیکھا۔ فرانس میں دیکھا، بلجیم میں دیکھا اور اگر یہ کہا جائے کہ ساری دنیا میں کہیں نہ کہیں دہشت گرد حملوں کی ہم نے مذمت کی ہے تو بے جا نہ ہوگا۔ ٹرمپ نے کہا کہ ان کی خارجہ پالیسی کچھ نہ کچھ معنی ضرور رکھتی ہے۔ لہٰذا اسے تنقیدوں کا نشانہ بنانے سے گریز کریں۔ امریکہ نئے نئے دوست بنانے کوشاں ہے جہاں باہمی شراکت داری کچھ اس طرز سے کی جائے گی کہ ہر دو کے مفاد میں ہو۔ امریکی انتظامیہ ناٹو کی بھرپور تائید کرتا ہے لیکن ہمارے شرکت داروں کو بھی اپنے مالی فرائض بخوبی نبھانے چاہئے جو ہماری باہمی مستحکم اور بے باکانہ بات چیت پر مبنی ہے۔ انہوں نے آخری میں ایک انتہائی اہم بات کی کہ ایران کے بالسٹک میزائل تجربہ کی تائید کرنے والوں پر بھی امریکہ تحدیدات عائد کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ میرا کام ہے صرف امریکہ کی نمائندگی کرنا لیکن میں یہ بھی جانتا ہوں کہ اگر تشدد، دہشت گردی، افراتفری نہ ہو تو امریکہ آج بھی ایک بہترین ملک ہے۔ تشدد کے واقعات تو یوں بھی دنیا کے ہر ملک میں کبھی نہ کبھی پیش آئے ہیں لیکن ایسے واقعات شاذ و نادر ہی ہوتے ہیں۔ اگر ایسے واقعات ہمیشہ ہونے لگ جائیں تو وہ ملک جہاں ایسا ہورہا ہے۔ انسانوں کے رہنے کے قابل نہیں رہتا۔ امریکہ میں اگر ایسا ہوا ہے تو میں چاہتا ہوں کہ اس میں کمی ہو کیونکہ تشدد اور دہشت گردی کو کچلنا امریکی انتظامیہ کی اولین ترجیح ہے۔

 

ٹرمپ کے خطاب کیلئے مسلم تارکین وطن مدعو

واشنگٹن۔ یکم مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ڈیموکریٹس نے آج چند جنوبی ایشیائی تارکین وطن بشمول ہندوستانیوں کو صدر امریکہ ڈونالڈ ٹرمپ کے پہلے مشترکہ کانگریس خطاب میں شرکت کے لئے مدعو کیا تاکہ صدر ٹرمپ کی امیگریشن پالیسیوں کے خلاف وہ اپنا سیاسی موقف ظاہر کرسکیں۔ ہندوستان، پاکستان اور بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والے تارکین وطن اس وقت وہاں موجود تھے۔ اس دوران چند ڈیموکریٹس نے اپنے اپنے بیانات میں کہا تھا کہ صدر موصوف کی مبینہ مخالف امیگرینٹ پالیسیوں نے امریکہ میں نفرت کا ماحول پیدا کردیا ہے۔ ڈیموکریٹک کانگریس مین روبین کیوہین نے کہا کہ انہوں نے  ہندوستانی نژاد امریکی ضیاء خان کو مدعو کیا ہے جو بین الاقوامی شہرت یافتہ کارڈیالوجسٹ ہیں اور لاس ویگاس میں رہتے ہیں۔ ضیاء خان کو انہوں نے اپنے شخصی مہمان کے طور پر مدعو کیا ہے۔ دوسری طرف کانگریس مین جم لانگیوین جن کا تعلق رہوڈ آئی لینڈ سے ہے، نے کہا کہ انہوں نے پاکستان کے ڈاکٹر احسن مرزا کو اپنے شخصی مہمان کے طور پر مدعو کیا ہے اور بااختیار سمجھے جانے والے کانگریس مین جوکرالی نے ایک بنگلہ دیشی نژاد امریکی شہری کو مدعو کیا ہے جو نفرت انگیز جرائم کا نشانہ بن چکے ہیں۔ کانگریس خاتون برینڈا لارسن نے مسلم اسٹوڈنٹس ایسوسی ایشن  (MSA) کی ایگزیکٹیو ڈائریکٹر فاطمہ سلمان کو مدعو کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT