Thursday , August 17 2017
Home / دنیا / دولت اسلامیہ کیخلاف جنگ، سعودی پیشکش کا امریکی خیرمقدم

دولت اسلامیہ کیخلاف جنگ، سعودی پیشکش کا امریکی خیرمقدم

ایشٹن کارٹر کی آئندہ ہفتہ برسلز میں سعودی وزیردفاع سے ملاقات
واشنگٹن ۔ 5 فبروری (سیاست ڈاٹ کام ) امریکہ نے سعودی عرب کی جانب سے امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد کی جانب سے شام میں شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کسی بھی زمینی فوجی کارروائی میں شامل ہونے کی پیشکش کا خیرمقدم کیا ہے۔ سعودی عرب کی فوج کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری نے جمعرات کو کہا تھا کہ شام میں شدت پسندوں کو شکست دینے کے لیے فضائی کے ساتھ ساتھ زمینی کارروائیاں بھی ضروری ہیں۔ان کا ملک ایسی کسی بھی کارروائی کے لیے اپنی افواج فراہم کرے گا۔ امریکی وزیرِ دفاع ایشٹن کارٹر نے اس پیشکش پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اتحادی ممالک کی جانب سے سرگرمیوں میں اضافہ امریکہ کے لیے دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف کارروائی کو آسان بنا دے گا۔ ریاست نوادا میں فوجی اڈے کے دورے کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ ’اس قسم کی خبریں اچھی ہیں‘ اور وہ آئندہ ہفتہ برسلز میں اس بارے میں سعودی وزیرِ دفاع سے بات چیت کریں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشکش سے ظاہر ہوتا ہے کہ سعودی حکومت دولتِ اسلامیہ کے خلاف جنگ میں ’کچھ زیادہ‘ کرنے پر تیار ہے۔ ایشٹن کارٹر کا کہنا تھا کہ سعودی حکام کہہ چکے ہیں کہ وہ اس جنگ میں مزید اسلامی ممالک کو شامل کرنے اور مستقبل میں عراق اور شام میں دولتِ اسلامیہ کے احیا کو روکنے کی کوشش کریں گے۔ میڈیا کو دیئے گئے ایک انٹرویو میں بریگیڈیئر جنرل احمد عسیری کا کہنا تھا کہ اگر امریکہ کی زیرِ قیادت اتحاد میں شامل ممالک کے رہنما شام میں فوجی کارروائی پر اتفاق کرتے ہیں تو سعودی عرب اس کا حصہ بنے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’سعودی عرب شام کی سرزمین پر شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ کے خلاف کسی بھی ایسے زمینی آپریشن کا حصہ بننے کے لیے تیار ہے جس پر عسکری اتحاد کی قیادت متفق ہو۔‘ امریکی قیادت میں اتحاد ستمبر 2014 سے شام میں دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں کے خلاف فضائی حملے جاری رکھے ہوئے ہیں اور سعودی طیارے بھی ان میں شریک رہے ہیں۔ تاہم جنرل عسیری نے کہا کہ ان کے ملک کا موقف ہے کہ شام میں شدت پسندوں کو شکست دینے فضائی کے ساتھ زمینی کارروائیاں بھی ضروری ہیں۔

TOPPOPULARRECENT