Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ’دولت اسلامیہ‘ کی نئی ویڈیو میں برطانوی شہری سدھارتھ دھار

’دولت اسلامیہ‘ کی نئی ویڈیو میں برطانوی شہری سدھارتھ دھار

لندن ۔ 5 جنوری (سیاست ڈاٹ کام)  سدھارتھ دھار ہندو تھا اور اسلام قبول کرنے کے بعد شدت پسند گروہ المہاجرون میں شامل ہوگیا تھا بی بی سی کو یہ اطلاعات موصول ہوئی ہیں کہ شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ کی حالیہ پراپیگنڈا ویڈیو میں دکھائی دینے والے اہم مشتبہ شخص کی شناخت کے بارے میں خیال کیا جارہا ہے کہ وہ برطانوی شہری سدھارتھ دھار ہے۔ ’دولت اسلامیہ‘ کی جانب سے پانچ افراد کے قتل کی ویڈیو میں شامل سدھارتھ دھار سکیورٹی اداروں کی تفتیش کا اہم مرکز ہے۔ دولت اسلامیہ کا کہنا ہے قتل کیے گئے یہ پانچ افراد برطانوی جاسوس تھے۔ ایک ذرائع نے بی بی سی کو بتایا کہ ’بہت سارے لوگوں کہ خیال میں یہ وہی ہے۔‘ تاہم اس حوالے سے سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کی گئی۔ سدھارتھ دھار ابو رومائسہ کے نام سے جانا جاتا تھا۔ اسے 2014 میں حراست میں لیا گیا تھا تاہم ضمانت حاصل کرنے کے بعد وہ شام چلاگیا۔ سدھارتھ دھار کا تعلق لندن کے علاقے والتھمسٹو سے تھا، وہ ہندو تھا اور اسلام قبول کرنے کے بعد شدت پسند گروہ المہاجرون میں شامل ہوگیا تھا۔ اس سے قبل اس کے دوست نے بی بی سی کوبتایا تھا کہ انھیں اس بارے میں

’کوئی شک نہیں‘ ہے کہ ویڈیو میں سنائی دی جانے والی آواز سدھارتھ دھار کی ہی ہے۔ سدھارتھ دھار کی بہن نے بی بی سی بتایا کہ جب انھوں پہلی بار ویڈیو میں شامل آڈیو سنی تو انھیں خدشہ ہوا کہ یہ ان کا بھائی تھا، تاہم ویڈیو دیکھنے کے بعد وہ اس بارے میں پریقین نہیں ہیں۔ کونیکا دھار کا کہنا ہے: ’میں سکتے کی کیفیت میں تھی۔‘ ’مجھے آڈیو میں مماثلت محسوس ہوئی، جہاں تک مجھے یاد پڑتا ہے، یہ میرے بھائی کی آواز تھی لیکن یہ چھوٹا سا کلپ تفصیل سے دیکھنے کے بعد، میں مکمل طور پر قائل نہیں ہوں جس سے مجھے اطمینان ہے۔‘ خیال رہے کہ خود کو دولتِ اسلامیہ کہلانے والی شدت پسند تنظیم نے ایک ویڈیو جاری کی تھی جس میں ایک نوجوان لڑکا اور ایک آدمی برطانوی لہجے میں بول رہے تھے۔ اس ویڈیو میں برطانیہ کے لیے جاسوسی کرنے والے پانچ افراد کی ہلاکت دکھائی گئی تھی۔ دس منٹ کے دورانیے پر مشتمل ویڈیو میں موجود شخص برطانیہ پر حملوں کی دھمکی دیتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ ڈیوڈ کیمرون کے نام پیغام ہے۔بعد میں ایک لڑکا دکھائی دیتا ہے جس کی کوئی شناخت نہیں ہو سکی۔ وہ غیر مسلموں کو مارنے کے بارے میں بات کرتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT