Sunday , September 24 2017
Home / عرب دنیا / دولت اسلامیہ کے حملے میں 23 فوجیوں اور سنی جنگجوؤں کی ہلاکت

دولت اسلامیہ کے حملے میں 23 فوجیوں اور سنی جنگجوؤں کی ہلاکت

خودکش بم دھماکے اور مورٹار شیلز کا استعمال، صوبہ عنبر کے بیشتر علاقے بشمول رمادی اور فلوجہ پر اب بھی کنٹرول
بغداد ۔ 24 اگست (سیاست ڈاٹ کام) دولت اسلامیہ کے جنگجوؤں کے حملے میں آج کم و بیش 23 عراقی فوجی اور سرکاری تائید والے ملیشیا ہلاک ہوگئے۔ حملہ گڑبڑ زدہ صوبہ عنبر میں کیا گیا تھا۔ پولیس اہلکاروں کا کہنا ہیکہ حالیہ دنوں میں سنی علاقوں میں ہوئے حملے میں ہلاکتوں کی یہ دوسری سب سے بڑی تعداد ہے۔ مہلوکین میں 17 فوجی اور 6 ملیشیا شامل ہیں۔ پولیس اہلکاروں نے بھی یہ اطلاع ان کی شناخت مخفی رکھے جانے کی شرط پر دی کیونکہ انہیں میڈیا سے بات چیت کی اجازت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ جنگجوؤں نے خودکش بم دھماکوں اور مورٹار شیلز کا استعمال کیا جس میں چیف آف آرمی آپریشن میجر جنرل قاسم الدولیمی بھی معمولی طور پر زخمی ہوئے۔ یاد رہے کہ صرف دو روز قبل ہی عنبر صوبہ میں گھات لگا کر کئے گئے ایک حملہ میں 50 فوجی ہلاک ہوچکے ہیں۔ صوبہ عنبر کا بیشتر علاقہ دولت اسلامیہ کے تصرف میں ہے جن میں رمادی اور فلوجہ شہر بھی شامل ہیں۔ گذشتہ کئی ماہ سے سرکاری فوجیں اور سنی اور شیعہ ملیشیا دولت اسلامیہ کا ڈٹ کر مقابلہ کررہے ہیں لیکن خودکش بم حملوں کی وجہ سے ان کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کردی جاتی ہیں اور یہی وجہ ہے کہ دولت اسلامیہ کے خلاف اب تک توقع کے مطابق کامیابی حاصل نہیں ہوئی ہے۔ یہاں اس بات کا تذکرہ بھی ضروری ہیکہ عراق میں صدام حسین کے دورحکومت کے خاتمہ کے بعد اب تک کوئی ایسا دور نہیں آیا جسے امن و سکون کا دور کہا جاسکتا ہو۔ ایسے لوگ جو کسی زمانے میں صدام حسین کے مخالف تھے، وہ اب یہ سوچنے پر مجبور ہیں کہ صدام حسین کا دورحکومت ہی بہتر تھا۔ دولت اسلامیہ نے جو تباہیاں اور خونریزی کی ہے وہ صدام حسین کے زمانے میں بھی نہیں ہوئی۔ کچھ روز قبل ہی دولت اسلامیہ نے سمارا شہر میں ایک ہیلی کاپر کو مار گرایا تھا۔ یاد رہے کہ آج عراق اور شام میں جو بھی بدامنی ہے اس کی ذمہ داری دولت اسلامیہ کے سر عائد ہوتی ہے۔ شرعی قوانین کی آر لیکر یہ گروپ ایسی خونریزی کررہا ہے جس کی نظیر نہیں ملتی اور جس نے پوری دنیا میں مسلمانوں کی شبیہہ بگاڑ دی ہے۔ سر قلم کرنے کے واقعات بھی بھلا کون فراموش کرسکتا ہے۔ ایسا تقریباً ہر روز ہورہا ہے کہ عیسائیوں کے سر قلم کردیئے جارہے ہیں۔ دولت اسلامیہ اس کیلئے نابالغ بچوں کا استعمال بھی کررہی ہے جن کے ہاتھ میں بڑے بڑے خنجر تھما دیئے گئے ہیں اور انہیں قتل و غارت گری کے راستے پر ڈالا جارہا ہے۔ ایک ترجمان ناظم الاسدی کا کہنا ہیکہ اسی طرح کے حملے اکثر و بیشتر کئے جارہے ہیں جن میں ہلاکتوں کی تعداد کبھی کم ہوتی ہے اور کبھی زیادہ ۔ ناظم الاسدی کا تعلق امام علی بریگیڈس سے ہے۔ انہوں نے بھی مزید تفصیلات نہیں بتائیں۔ گذشتہ سال کے اواخر میں سرکاری افواج نے بیجی کا علاقہ دولت اسلامیہ کے کنٹرول سے آزاد کرایا تھا لیکن اس کے باوجود وہ دولت اسلامیہ کی مزید پیشرفت کو نہیں روک سکے۔ صوبہ صلاح الدین میں ایک روسی ہیلی کاپٹر کو زمینی افواج کے ذریعہ نشانہ بنائے جانے کے بعد ہنگامی لینڈنگ کرنی پڑی تھی اور خوش قسمتی سے ہیلی کاپٹر کا عملا ہلاک یا زخمی نہیں ہوا تھا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT