Saturday , June 24 2017
Home / Top Stories / دولت اسلامیہ کے خاتمہ کیلئے ٹرمپ کا عراق کو ہر ممکنہ تعاون کا وعدہ

دولت اسلامیہ کے خاتمہ کیلئے ٹرمپ کا عراق کو ہر ممکنہ تعاون کا وعدہ

عراقی وزیراعظم حیدرالعبادی سے وائیٹ ہاؤس میں ملاقات اور مشترکہ پریس کانفرنس
واشنگٹن ۔ 21 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے آج اپنی شخصیت کا دوسرا روپ دکھاتے ہوئے عراق سے وعدہ کیا کہ دولت اسلامیہ کے خلاف اس کی (عراق) لڑائی میں امریکہ اس کے شانہ بشانہ موجود ہوگا۔ انہوں نے البتہ سابق صدر بارک اوباما پر تنقید کا ایک اور موقع پاتے ہی کہا کہ ان کی (اوباما) پالیسیاں ناقابل فہم تھیں۔ اوباما کو ایک ایسا معاہدہ کرنا چاہئے تھا کہ جس کے تحت امریکی افواج کا جنگ زدہ عراق میں قیام ناگزیر ہوجاتا۔ بہرحال وائیٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ اور وزیراعظم عراق حیدرالعبادی کی پہلی ملاقات ہوئی تھی جس کے بعد دونوں قائدین نے مشترکہ بیان دیتے ہوئے یہ تیقن دیا کہ دولت اسلامیہ کو جلد یا بہ دیر نیست و نابود کردیا جائے گا۔ دونوں قائدین کے مشترکہ بیان میں اس بات پر بھی زور دیا گیا کہ دہشت گردی کو صرف فوجی طاقت کے بل بوتے پر شکست نہیں دی جاسکتی بلکہ دونوں ممالک کے درمیان معاشی اور سیاسی شراکت داری کو اسٹریٹیجک فریم ورک معاہدہ کے دائرہ کار میں رہتے ہوئے مزید مستحکم کئے جانے کی ضرورت ہے۔ ٹرمپ نے عراق میں  ایک وعدہ کی پابند اور جوابدہ حکومت کے قیام پر عبادی کی ستائش کی اور اس بات کی بھی ستائش کی کہ عراق میں دولت اسلامیہ کی سفاکیوں کے باوجود انسانی ہمدردیوں کا جذبہ آج بھی بھی بام عروج پر ہے اور یہ کوشش کی جارہی ہی کہ کسی بھی انسان کو کوئی تکلیف نہ ہو۔ دونوں قائدین نے اس بات پر اتفاق کیا کہ عراق کو اپنے علاقائی پڑوسیوں کے ساتھ مثبت تعلقات کو فروغ دینا ہوگا تاکہ نہ صرف مشرق وسطیٰ میں استحکام پیدا ہو بلکہ عراق میں جہاں جہاںسے دولت اسلامیہ کے قبضہ کو برخاست کیا گیا ہے

وہاں کی تعمیرنو کی جاسکے۔ مشترکہ بیان میں یہ بھی کہا گیا کہ دہشت گردی چاہے جس روپ میں ہو اس کا خاتمہ کرنے عراق اور امریکہ ایک ساتھ ہیں۔ عراق کو غیرمستحکم کرنے یا اس کی جمہوری اقدار کو مجروح کرنے کی کسی بھی کوشش کو برداشت نہیں کیا جائے گا۔ ٹرمپ نے اوباما کے اس فیصلہ پر بھی تنقید کی جہاں پہلے عراق میں امریکی فوجی روانہ کئے گئے تھے بعدازاں انہیں واپس طلب کرلیا گیا تھا۔ عبادی کے ساتھ مختصر پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ جب تک موصل میں تھے، وہ ہمارا تھا لیکن جیسے ہی امریکی فوجیں وہاں سے ہٹ گئیں، دولت اسلامیہ نے موصل کو پھر آسان نشانہ سمجھنا شروع کردیا۔ یا تو پھر یہ ہونا چاہئے تھا کہ امریکی فوجیں سرے سے امریکہ نہیں جاتیں اور اگر امریکی فوجوں کو عراق میں تعینات کیا ہی گیا تھا تو واپس بلانا نہیں چاہئے تھا۔ فوجوں کی وا پسی کے بعد ہی دفاعی شعبہ میں ایسا  خلاء پیدا ہوا جس کا پُر ہونا مشکل ہے۔ ٹرمپ نے ایک بار پھر کہا کہ اس وقت اگر ان کے ایجنڈہ میں سب سے اوپر کوئی نام ہے تو وہ دولت اسلامیہ کا ہے جس کا قلع قمع کرنا ان کی اولین ترجیحات میں شامل ہے اور یہ کام ہوکر ہی رہے گا اور ہو بھی رہا ہے۔ بعدازاں عبادی نے کہا کہ ٹرمپ سے ملاقات کرکے وہ بیجد خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے یہ تیقن بھی دیا ہیکہ عراق کیلئے امریکی تعاون اور تائید کو مزید توسیع دی جائے گی۔ واشنگٹن کی یونائیٹیڈ اسٹیٹس انسٹیٹیوٹ آف پیس کے دورہ کے وقت مسٹر عبادی نے کہا کہ نئے امریکی انتظامیہ نے انہیں تیقن دیا ہے کہ تعاون اور تائید کا سلسلہ نہ صرف جاری رکھا جائے گا بلکہ اس میں اضافہ بھی کیا جائے گا۔ لہٰذا میرا خیال ہیکہ نیا امریکی انتظامیہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے سابقہ حکومت سے زیادہ سنجیدہ ہے اور مجھے بھی یہ محسوس ہورہا ہیکہ دہشت گردی سے نمٹنے کیلئے جن طریقہ کاروں کا استعمال ہورہا ہے وہ کافی مؤثر ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT