Thursday , September 21 2017
Home / عرب دنیا / دولت اسلامیہ کے مستحکم گڑھ ‘تل عفر کیلئے جنگ کا آغاز

دولت اسلامیہ کے مستحکم گڑھ ‘تل عفر کیلئے جنگ کا آغاز

تل عفر کی آزادی کے بعد عراق کی امریکی تائید سے ہویجہ پر قبضہ کیلئے جنگ کے عزائم
بعداد۔20اگست ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیراعظم عراق حیدر العبادی نے آج قبل ازیں اعلان کیا کہ تل عفر پر سرکاری قبضہ بحال کرنے کیلئے جنگ کا آغاز ہوگیا ہے جو اس علاقہ میں دولت اسلامیہ کا آخری مستحکم گڑھ ہے ۔ ان کا اعلان عراقی فوج کے دوسرے بڑے شہر موصل پر قبضہ کے بعد منظر عام پر آیا ہے ۔ موصل دولت اسلامیہ کے بڑا مستحکم گڑھ تھا ‘ اس پر حکومت کا قبضہ بحال ہونے سے تنظیم کو بڑے پیمانے پر دھکہ لگا ہے ۔ ٹیلی ویژن پر عوام سے خطاب کرتے ہوئے فوجی وردی میں ملبوس عراقی پرچم کے سامنے کھڑے ہوئے وزیراعظم نے اعلان کیا کہ تل عفر کو آزاد کروانے کی کوشش شروع ہوگئی ہے ۔ انہوں نے دولت اسلامیہ سے کہا کہ ان کے آگے دو راستے ہیں کہ وہ اپنی جان بچاکر تخلیہ کردیں یا پھر ہلاک کردیئے جائیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہم اپنی تمام جنگیں جیت چکے ہیں ۔ دولت اسلامیہ کی ہر جنگ میں شکست ہوئی ہے ۔ انہوں نے ملک کے فوجیوں سے کہا کہ پوری دنیا ہمارے ساتھ ہے ۔ تل عفر موصل کے مغرب میں 70کلومیٹر ( 43میل ) کے فاصلہ پر واقع ہے ‘ جہاں امریکی کی تائید سے عراقی فوجوں نے جولائی میں جہادیوں کے اقتدار کا خاتمہ کردیا تھا ‘ جس کیلئے حکومت کو ایک ماہ طویل جنگ کرنا پڑا تھا ۔ اس وقت موصل کی آبادی تقریباً دو لاکھ تھی لیکن مقامی عہدیداروں کا کہناہے کہ اب درست تعداد جاننا مشکل ہے ‘ کیونکہ بیشتر افراد بیرونی دنیا سے ترک تعلق کرچکے ہیں ۔ کئی عہدیداروں نے الزام عائد کیا کہ شہر میں تقریباً یا تو ایک لاکھ جہادی ہیں یا پھر شہریوں کو انسانی ڈھال کے طور پر استعمال کررہے ہیں ۔

وزیراعظم عراق نے کہا کہ عراق کی نیم فوجی راشد الشاہی افواج فوج ‘ پولیس اور انسداد دہشت گردی شعبوں کی تل عفر میں مدد کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک وفاقی تنظیم جو ایران کا غلبہ رکھتی ہے اُس کو شیعہ نیم فوجی تنظیم کی تائید حاصل ہے ۔ پہلے ہی دیگر کئی عراقی شہروں پر دولت اسلامیہ کا قبضہ ختم کرنے کیلئے جنگ کررہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تل عفر میں عنقریب فتح ہوجائے گی ۔ عراقی شہر کو یرغمال بنالیا گیاہے اور بربریت انگیز حملوں کے ذریعہ اس کی توہین کی جاتی رہی ہیں ۔ دولت اسلامیہ نے بغداد کے شمال اور مغرب میں 2014ء میں وسیع علاقوں پر قبضہ کرلیا تھا لیکن عراقی افواج نے اس کے بعد کئی علاقوں کو آزاد کروالیا ۔ تل عفر کی آزادی کے بعد عراق کے عہدیدار جہادیوں کے زیر قبضہ ہواجہ پر جو صوبہ کرکک میں بغداد کے شمال میں 300کلومیٹر کے فاصلہ پر واقع ہے قبضہ بحال کرنے کیلئے جنگ کا آغاز کرنا چاہتے ہیں ۔ صوبہ عنبر کے کئی علاقے اب بھی دولت اسلامیہ کے زیرقبضہ ہے جو عراقی کی فوجوں کیلئے ایک بڑا چینلج ہیں ۔ دولت اسلامیہ نے تمام ممالک میں سرحدوں کی پرواہ کئے بغیر خلافت اسلامیہ کا اعلان کیا ہے جس کی حکومت تین سال قبل عراق اور شام کے وسیع علاقوں پر تھی اسے شام میں بھی کئی دھکے لگے ہیں ۔ دولت اسلامیہ کے سابق شامی دارالحکومت رقہ کے آدھے سے زیادہ علاقہ پر حکومت کا قبضہ بحال ہوچکا ہے ‘ لیکن سیاسی‘ مذہبی اور نسلی انتشار کے عراق میں دوبارہ منظر عام پر ابھرآنے کے اندیشے ہیں ۔ دولت اسلامیہ اپنے مستحکم علاقوں سے تخلیہ کرنے کے بعد ماہرین کو اندیشہ ہے کہ دوبارہ یہ تمام اختلافات ابھر آئیں گے ۔ایک لاکھ افراددولت اسلامیہ کے مستحکم گڑھ موصل سے فرار ہوچکے ہیں وہ دوبارہ اپنے مکانوں کو واپس آئیں گے یا نہیں یقین کے ساتھ نہیںکہا جاسکتا ۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT