Saturday , October 21 2017
Home / ہندوستان / دولت کی حفاظت کیلئے منادر کو فرضی عطیات

دولت کی حفاظت کیلئے منادر کو فرضی عطیات

انتظامی کمیٹیوں اور ٹرسٹیوں سے ساز باز۔ مہاراشٹرا کے وزیر کا انکشاف
ممبئی۔/10نومبر، ( سیاست ڈاٹ کام ) مرکز کی جانب سے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹس کی منسوخی کے بعد مہاراشٹرا میں تقریباً 100 منادر اور ٹرسٹیوں کے عطیات اور ایک ہزار سے زائد کوآپریٹیو بینکوں کے نقد ذخائر میں اچانک اضافہ کے پیش نظر حکومت نے چوکسی اختیار کرلی ہے اور اس طرح کی سرگرمیوں پر گہری نظر رکھی جارہی ہے۔ ریاست کے ایک سینئر وزیر نے بتایا کہ وزیر اعظم کے اعلان کے ساتھ ہی منادر کو عطیات دینے والوں اور خانگی بینکوں میں ڈپازٹ اکاؤنٹس کھولنے والوں کی تعداد میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔ وزیر موصوف نے نام مخفی رکھنے کی شرط پر بتایا کہ سرکاری عہدیداروں نے یہ اطلاع دی ہے کہ منادر کو عطیات دینے کیلئے ہجوم اُمڈ آیا ہے ۔ انہوں نے بتایا کہ بعض لوگ منادر کمیٹی کے انتظامیہ کو اعتماد میں لیتے ہوئے غیر محسوب رقومات کے تحفظ کیلئے فرضی عطیات پیش کررہے ہیں جبکہ عطیہ دہندگان کا نام پوشیدہ رکھا جارہا ہے۔ علاوہ ازیں بعض کو آپریٹیو بینکوں میں بھی جعلسازی کا طریقہ کار اختیار کیا جارہا ہے جو کہ سیاستدانوں کے زیر کنٹرول ہے۔ وزیر موصوف نے بتایا کہ بعض لوگوں کے پاس لاکھوں روپئے کی ناجائز دولت ہے اور وہ فکسڈ ڈپازٹ اکاؤنٹس کھول کر یہ رقومات محفوظ کروارہے ہیں چونکہ یہ خانگی بینک مقامی طور پر کام کرتے ہیں لہذا غیر قانونی دولت کو قانونی شکل دینے میں کارگر ثابت ہورہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر عوم اپنی رقومات کے بارے میں کارآمد دستاویزات پیش کریں گے تو ’’ وائیٹ منی ‘‘ میں تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے متعلقہ محکموں کے عہدیداروں کو ہدایت دی ہے کہ مشتبہ لین دین ، عطیات اور معاملتوں پر نگرانی کی جائے ۔ انہوں نے بتایا کہ وزیر اعظم کے اعلان کے بعد کوآپریٹیوبینکوں میں کھولے گئے تمام اکاؤنٹس کی جانچ کی جائے گی تاکہ دھوکہ دہی اور جعلسازی کا پتہ چلایا جاسکے اور قصور وار پائے جانے پر کارروائی کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT