Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دولت کے حصول کی لالچ سے معاشرہ سودی لعنت کا شکار

دولت کے حصول کی لالچ سے معاشرہ سودی لعنت کا شکار

دولت کے حصول کی لالچ سے معاشرہ سودی لعنت کا شکار
حلال ذرائع آمدنی کو یقینی بنانے کے عہد سے پاکیزہ زندگی گذارنا ممکن

حیدرآباد ۔ 10 ۔ مئی : ( سیاست نیوز) : معاشرے میں بڑھ رہی سودی لعنت کا خاتمہ صرف اسی وقت ممکن ہو سکتا ہے جب ہر کوئی اس بات کا عہد کرلے کہ وہ صرف حلال ذرائع آمدنی ہی استعمال کرے گا۔ حلال اور حرام میں ختم ہوتی جا رہی تمیز نے انسان میں جو تبدیلیاں لائی ہیں ان میں سب سے اہم خرابی اخوت کا خاتمہ ہے۔ نبی اکرم ؐ نے مسلمانوں کے درمیان آپسی بھائی چارے کو فروغ دیا تھا لیکن فی زمانہ حالات بتدریج ابتر ہوتے جا رہے ہیں ۔ اللہ کے رسول ؐ نے گورے کو کالے ‘ عربی کو عجمی پر فوقیت نہیں دی بلکہ واضح طور پر یہ کہہ دیا گیا کہ صرف تقویٰ کی بنیاد پر ہی تم میں کوئی بر تر ہوگا۔ لیکن حالیہ دور میں دیکھی جا رہی برائی کو دیکھتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ طبقہ امراء و غرباء کے درمیان بڑھ رہے تفاوت کے سبب لوگ امیر کو برتر اور غریب کو کم تر تصور کرنے لگے ہیںجس کے سبب غریب کسی بھی طرح دولت مند بننے کی کوشش میں مصروف ہو چکا ہے اور امیر مزید دولت میں اضافہ کا خواہشمند ہوچلا ہے۔ دولت کے حصول کی اسی دوڑ نے معاشرے میں سود کی وباء کو عام کرنے میں کلیدی کردار ادا کیاہے ۔ چند خود غرض عناصر جنہیں دین و مذہب سے کوئی مطلب نہیں ہے ایسے لوگوں نے روپئے کے کاروبار کو بڑھاوا دیتے ہوئے غریب ضرورت مندوں کو اپنے جال میں پھانس لیا اور وہ غریب اس جال میں پھنستے چلے گئے لیکن ان سودی کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف بہت کم ہی آواز اٹھائی جاتی ہے چونکہ یہ افراد نہ صرف سیاستدانوں کے نور نظر ہوتے ہیں بلکہ بسا اوقات قانون نافذ کرنے والی ایجنسیاں بھی ان کے آگے بے بس ہوتی ہیں جس کی وجہ سے یہ اپنی من مانی کرنے میں کامیاب ہوتے ہیں ۔عوام کے درمیان سود کی حرمت اور سود لینے و دینے والوں کے متعلق آئی وعیدوں پر کئی تقاریر ہوتی ہیں لیکن اب جن حالات سے امت مسلمہ گزر رہی ہے ان حالات میں صرف عوام کے درمیان میں تقاریر کافی نہیں ہیں بلکہ ان کاروبار میں ملوث افراد کے خلاف باضابطہ تحریک شروع کرنے کی ضرورت ہے چونکہ یہ لوگ سماج کی تباہی کے ذمہ دار ہیں۔بعض مرتبہ سودی کاروبار و لین دین میں مصروف افراد کی پولیس کی جانب سے کونسلنگ کی اطلاعات موصول ہوتی ہیں ‘ اگر پولیس کے بجائے علمائے اکرام اور با اثر قائدین و عمائدین ملت کے روبرو ان افراد کو پیش کرتے ہوئے ان کی کونسلنگ کروائی جائے اور علماء راست انہیں اس بات سے واقف کروائیں کہ قران و حدیث میں سودی کاروبار کرنے والوں کے متعلق کیا وعید آئی ہیں تو ممکن ہے کہ ان پر ان علماء کی باتوں کا اثر ہو اور وہ غریب عوام کو ہراسانی کا سلسلہ بند کرتے ہوئے اپنے اس حرام کاروبار سے توبہ کرلیں۔ حرام کا مطلب صرف غیر ذبیحہ نہیں ہے بلکہ حرام ذرائع سے حاصل کردہ‘  دھوکہ دہی سے حاصل کردہ ‘ سود کے ذریعہ خاصل کی گئی دولت بھی حرام ہی ہے لیکن ان کی وضاحت کے ذریعہ عوام میں شعور اجاگر کرنا ناگزیر ہے۔ دین اسلام میں سود لینے والے کو اللہ سے اعلان جنگ کرنے والا قرار دیا گیا ہے اور شہر حیدرآباد میں کئی ایسے افراد موجود ہیں جو اس سودی کاروبار کی لعنت کا شکار بنے ہوئے ہیں۔ جب معاشرے میں برائیاں عام ہونے لگتی ہیں تو ایسے وقت جراء ت کا مظاہرہ کرتے ہوئے کلمہء حق بلند کرنا ضروری ہو جاتا ہے۔اسلام نے پڑوسی کے جو حقوق بتائے ہیں ان کے مطابق اگر مسلمان صرف اپنے پڑوسی کے حقوق ادا کر دے اور ان حقوق کی ادائیگی میں کوتاہی سے اجتناب کرے تو کئی ایک مسائل دور ہو سکتے ہیں۔ بعض خاندانوں کے حقیقی حالات سے رشتہ داروں سے زیادہ پڑوسی واقف ہوتے ہیں اور اگر ان کی حالات کو بہتر بنانے پر اگر انہیں قدرت حاصل ہے تو فوری اقدامات پر توجہ مرکوز کرنی چاہئے نہ کہ کسی اور جانب سے مدد آنے کا انتظار کرتے ہوئے ٹال مٹول کیا جانا چاہئے۔ عام طور پر یہ کہا جاتا ہے کہ اگر شہر حیدرآباد کا متمول طبقہ دیانتداری کے ساتھ زکوٰۃ کی ادائیگی شروع کردے تو حالات بدل جائیں گے۔ ایسے تبصروں کے بجائے اگر ہر شخص اس بات کا تہیہ کرلے کہ اس کے علاقہ میں کوئی سودی کاروبار چلنے نہیں دے گا اور امداد باہمی کے ذریعہ ہم خود اپنے مسائل حل کریں گے تو ممکن ہے کہ شہر سے سود کی یہ لعنت مکمل طور پر ختم ہوجائے۔سودی تجارت میں ملوث افراد کی معاشرے میں پذیرائی کو ختم کرتے ہوئے ان کا سماجی مقاطعہ شروع کیا جاتا ہے تو اس کے بھی مثبت نتائج برآمد ہو سکتے ہیں اور اس سلسلہ میں شہر کے سیاسی و مذہبی قائدین کو آگے آنا ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT