Wednesday , September 27 2017
Home / شہر کی خبریں / دونوں تلگو ریاستوں کے سرکاری اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم پر کم توجہ

دونوں تلگو ریاستوں کے سرکاری اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم پر کم توجہ

پرائیوٹ اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم کا معقول انتظام ، سروے رپورٹ
حیدرآباد ۔ 16 ۔ اگست : ( سیاست نیوز) : ایک طرف دونوں تلگو ریاستوں سے تعلق رکھنے والے ماہرین کمپیوٹر و انفارمیشن ٹکنالوجی امریکہ میں سافٹ ویر روزگار کے شعبہ پر چھائے ہوئے ہیں اور ساری دنیا میں تلگو عوام کی صلاحیتوں کی دھوم مچی ہے ۔ تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے سرکاری اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم پر کوئی خاطر خواہ توجہ نہیں دی جارہی ہے ۔ دونوں تلگو ریاستیں کمپیوٹر تعلیم کے میدان میں مہاراشٹرا ، ٹاملناڈو ، کرناٹک ، گجرات اور کیرالا جیسی ریاستوں سے کافی پیچھے ہیں ۔ ڈسٹرکٹ انفارمیشن سسٹم فار ایجوکیشن کی رپورٹ 2014-15 کے مطابق تلنگانہ میں تقریبا چالیس فیصد سرکاری اسکولس میں کمپیوٹرس موجود ہیں آندھرا پردیش میں صرف 28 اعشاریہ 6 فیصد سرکاری اسکولس میں کمپیوٹرس موجود ہیں ۔ مجموعی طور پر دونوں تلگو ریاستوں کے سرکاری اسکولس میں صرف 29 اعشاریہ پانچ سات فیصد اسکولس میں کمپیوٹرس دستیاب ہیں ۔ ایسی ریاستیں جہاں کے افراد کا تناسب انجینئرنگ گریجویٹس اور سافٹ ویر شعبہ میں روزگار میں تلگو ریاستوں سے بہت کم ہے وہاں کے سرکاری اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم کی سہولت تلگو ریاستوں میں دستیاب سہولت سے زیادہ ہے ۔ کیرالا کے زائد از 93 فیصد سرکاری اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم کا انتظام ہے ۔ گجرات میں 75 فیصد سے زیادہ سرکاری اسکولس میں ایسی سہولت موجود ہے ۔ ٹاملناڈو میں 57 فیصد سے زیادہ اور مہاراشٹرا میں 57 فیصد سے زیادہ اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم دستیاب ہے ۔ بہر حال تلنگانہ کے اپرپرائمری اسکولس میں 75 فیصد کمپیوٹر تعلیم موجود ہے آندھرا پردیش میں بھی اپرپرائمری اسکولس میں بھی تقریبا 75 فیصد کمپیوٹر تعلیم کی سہولت موجود ہے ۔ پرائمری اسکولس میں ایسی سہولت دستیاب نہیں ہے ۔ تلنگانہ کے صرف 18 اعشاریہ 17 فیصد اور آندھرا پردیش کے 10 اعشاریہ 29 فیصد پرائمری اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم کا انتظام ہے ۔ دوسری طرف پرائیوٹ اسکولس میں کمپیوٹر تعلیم پر زیادہ توجہ مرکوز کی گئی ہے ۔ ابتدائی عمر سے 2 بچوں کو کمپیوٹر سکھایا جارہا ہے ۔ شہروں کے خانگی اسکولس میں بچوں کو ٹیبلٹس کے استعمال کے قابل بنایا جارہا ہے ۔ نلگنڈہ کے ایک سرکاری ٹیچر نے ریمارک کیا کہ خانگی اسکولس کے یہ بچے جب بڑے ہوں گے اور اعلیٰ تعلیم پائیں گے تب سرکاری اسکولس میں پڑھنے والے تعلیم اور روزگار میں ان سے مسابقت نہیں کرسکیں گے ۔۔

TOPPOPULARRECENT