Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / دونوں شہروں میں گرمی کی لہر کے درمیان پینے کے پانی کی قلت

دونوں شہروں میں گرمی کی لہر کے درمیان پینے کے پانی کی قلت

یومیہ 660 ملین گیلن کے بجائے صرف 335 ملین گیلن کی سربراہی، پریشانی کی ضرورت نہیں حکام کا دعویٰ
حیدرآباد /23 اپریل ( سیاست نیوز ) دونوں شہر حیدرآباد و سکندرآباد ان دنوں شدید ترین گرمی کی گرفت میں ہیں ۔ جس سے پریشاین حال شہری بالخصوص دوپہر کے اوقات اپنے کام کیلئے چلچلاتی دھوپ میں جھلس دینے والی گرمی کے درمیان گھر ، دفاتر اور کاروباری اداروں سے باہر نکلنے میں سخت تکلیف محسوس کر رہے ہیں ۔ ٹریفک کی آمد و رفت میں کمی کے نتیجہ میں دوپہر کے اوقات اکثر سڑکیں سنسان نظر آرہی ہیں ۔ اس درمیان شہر کے بعض علاقے پانی کی قلت سے بھی بری طرح متاثر ہوئے ہیں ۔ چند علاقوں میں ایک دن کے وقفہ سے تو بعض دیگر علاقوں میں دو یا چار دن کے وقفہ سے پانی سربراہ کیا جارہا ہے ۔ ستم بالائے ستم یہ کہ زیر زمین سطح آب میں کمی کی وجہ چند بورویلس بھی ناکارہ ہوگئے ہیں ۔ محکمہ آبرسانی نے کہا ہے کہ شہر کو آبرسانی کیلئے یومیہ 660 ملین گیلن پانی درکار ہے ۔ اس کے برخلاف یہ محکمہ یومیہ 335 ملین گیلن پانی سربراہ کرپا رہا ہے ۔ جس سے پانی کی نصف ضروریات کی تکمیل ہو رہی ہے ۔ ذرائع نے کہا کہ دریائے گوداوری اور کرشنا سے پانی حاصل کیا جارہا ہے ۔ لیکن اس سے بمشکل آدھی ضروریات کی تکمیل ممکن ہو رہی ہے ۔ تاہم حکومت نے دیگر ذرائع سے پانی حاصل کرنے کے عہد کا اظہار کیا کہ دیگر ذرائع سے مزید پانی حاصل کیا جائے گا ۔ حیدرآباد میٹرو واٹر سپلائی اینڈ سیوریج بورڈ نے کہا ہے کہ دوران موسم گرما میں پینے کے پانی کی ضروریات کی بہر صورت تکمیل کی جائے گی ۔ چنانچہ شہریوں کو پینے کے پانی کیلئے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں رہے گی ۔ محکمہ موسمیات نے شہر میں مزید چند دن گرمی کی لہر جاری رہنے کی پیش قیاسی کرتے ہوئے کہا کہ شہر کا درجہ حرارت فی الحال 42 ڈگری سیلسیس ہے اور اواخر اپریل میں 43 ڈگری سیلسیس تک بھی پہونچ سکتا ہے ۔ 14 اپریل کو بھی شہر کا درجہ حرارت 43 ڈگری سیلسیس ریکارڈ کیا گیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT