Saturday , July 22 2017
Home / شہر کی خبریں / دوچیف منسٹرس کا بدلتا موقف،چندرا بابونے تائید اور کے سی آر نے مخالفت ترک کردی

دوچیف منسٹرس کا بدلتا موقف،چندرا بابونے تائید اور کے سی آر نے مخالفت ترک کردی

کرنسی کی تبدیلی

حیدرآباد۔/23نومبر، ( سیاست نیوز) کرنسی بند کرنے وزیر اعظم نریندر مودی کے فیصلے پر دو تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس چندر شیکھر راؤ اور چندرا بابو نائیڈو کو عوام میں پائی جانے والی بے چینی اور ناراضگی کا بخوبی اندازہ ہوگیا۔ چنانچہ دونوں نے صورتحال کو بھانپتے ہوئے اپنے تیور بدل دیئے اور دو کشتیوں کی سواری میں ایک دوسرے پر سبقت لے جانے کی کوشش کررہے ہیں۔ نریندر مودی نے 8 نومبر کی شب جیسے ہی 500اور 1000 روپئے کی کرنسی کا چلن بند کرنے کا اعلان کیا، چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو نے خیرمقدم کرتے ہوئے اس کا سہرا خود اپنے سر باندھنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا تھا کہ یہ تجویز خود اُن ( چندرا بابو ) کی ہے جسے وزیر اعظم نے قبول کیا ہے۔ انہوں نے کہا  تھا کہ اس فیصلہ سے مستقبل میں مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپنے حامی قائدین اور اعلیٰ عہدیداروں کے ساتھ بند کمرہ میں صورتحال کا جائزہ لیتے ہوئے کہا تھا کہ ہندوستان ترقی کے معاملہ میں 30 سال پیچھے چلا جائے گا اور عوامی بغاوت شروع ہونے کا بھی خدشہ ظاہر کیا تھا۔ لیکن پارلیمنٹ میں اپوزیشن جماعتوں کے احتجاج کا اندازہ کرتے ہوئے اپنے پارٹی ارکان کو ہدایت دی تھی کہ وہ شدید احساسات کا اظہار نہ کریں۔ انہوں نے بعد ازاں دہلی میں وزیر اعظم نریندر مودی سے ملاقات کی اور کرنسی بند کرنے کے فیصلہ کی تائید کی۔ اس کے بعد حالات نے اپنا رُخ بدل دیا اور چیف منسٹر آندھرا پردیش چندرا بابو نائیڈو کا موقف یہ ہوگیا کہ کرنسی بدلنے کا فیصلہ اگرچہ درست تھا مگر جو طریقہ کار اختیار کیا گیا وہ غلط ہے۔ حالیہ دنوں میں آخر ایسی کیا بات ہوگئی کہ دونوں تلگو ریاستوں کے چیف منسٹرس کو اپنا موقف تبدیل کرنا پڑا۔ کے سی آر نے ابتداء میں مخالفت کے اشارے دیئے لیکن تائید پر مجبور ہوگئے اور چندرا بابو نائیڈو جنہوں نے کھل کر تائید کی بعد میں مخالفت کے اشارے دینے لگے۔ چندرا بابو نائیڈو نے 2000 روپئے کی نئی نوٹ متعارف کرنے کی بھی مخالفت کی اور کہا کہ اس سے کرپشن میں اضافہ ہوگا۔ تلنگانہ چیف منسٹر کے فرزند ریاستی وزیر آئی ٹی و بلدی نظم و نسق کے ٹی آر نے کہا کہ کالا دھن اور بدعنوانیوں پر قابو پانا ضروری ہے لیکن بڑی مچھلیوں کو پکڑنے کی کوشش میں چھوٹی مچھلیوں کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT