Wednesday , September 20 2017
Home / مذہبی صفحہ / دو خطبوں کے درمیان دعا مانگنا

دو خطبوں کے درمیان دعا مانگنا

سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میںکہ کیا جمعہ کے دن دو خطبوںکے درمیان امام کے بیٹھ جانے کے وقت ہاتھ اٹھاکر دعا مانگنا مسنون ہے یا نہیں  ؟
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا جمعہ کے خطبہ کے دوران ونیز دو خطبوں کے درمیان امام کے بیٹھنے کے وقت خاموش رہنا ضروری ہے اس لئے فقہاء نے دو خطبوں کے درمیان ہاتھ اٹھاکر یا بغیر ہاتھ اٹھائے زبان سے دعا مانگنے کو مکروہ قرار دیا ہے البتہ امام کے بیٹھے رہنے تک دل سے دعا مانگ سکتے ہیں۔ مبسوط سر خسی جلد : ۲ باب الجمعۃ میں ہے۔ ’’ و وجوب الانصات غیر مقصود علی حال تشاغلہ بالخطبۃ حتی یکرہ الکلام فی حالۃ الجلسۃ بین الخطبتین ‘‘خطبہ کے دوران امام کے بیٹھے رہنے تک دل میں اپنے مقصود و مراد کا استحضار کر کے دعا کی جائے اور یہی مسنون ہے۔ رد المحتار باب الجمعۃ میں ہے ۔ ’’ قال فی المعراج فیسن الدعاء بقلبہ لا بلسانہ لأنہ مأمامور بالسکوت ‘‘۔
مرتدلڑکی وارث نہیں ہوگی
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ زید کا ا نتقال ہوا، ان کی متروکہ جائیداد ہے۔ مرحوم کی مذکورہ جائیداد ایک منزل تھی جس کی تعمیر و توسیع یعنی دوسری عمارت کی تعمیر مرحوم کی تینوں لڑکیوں نے بغیر کسی شرط کے اور اس تعمیری اضافہ میں مرحوم کی بیوہ کا سرمایہ بھی لگا ہے۔ افسوسناک بات یہ ہے کہ ان میں سے ایک لڑکی زیدکی زندگی میںمذہب اسلام کو چھوڑ کر عیسائی مذہب قبول کرلی ہے ۔ کیا وہ اپنے والد مرحوم کے متروکہ میں حصہ پائے گی اور جو کچھ اس کی رقم تعمیر میں لگی ہے کیا اس کو واپس دے دینا ضروری ہے۔
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہا ارتداد مانع ارث ہے، المانع من الارث اربعۃ … والثالث اختلاف الدینین فلا یرث الکافر من المسلم اجماعاً (شریفیہ شرح سراجیہ) ۔ صورت مسئول عنھا میں زید مرحوم کے متروکہ مکان میں تعمیر کا اضا فہ کیا گیا ہے اور جن جن کا سرمایہ اس میں لگا ہے وہ قبل از تقسیم ہونے کی وجہ سے مرحوم کے متروکہ میں ا ضافہ متصور ہوگا ۔ اس لئے اس میں جنہوں نے بھی رقم خرچ کی ہے ان کو واپس نہیں ملے گی البتہ وہ ملبہ کے مالک ہیں اور مرحوم کی مرتد لڑکی شرعاً وارث نہیں اور مرحوم کے مترکہ سے اس کو کوئی حصہ نہیں ملے گا۔
مقتدی کاامام سے پہلے رکوع و سجود سے سر اٹھانا
سوال : کیافرماتے ہیں علمائے دین اس مسئلہ میں کہ بعض وقت دیکھا جاتا ہے کہ لوگ اس قدر جلدی میں ہوتے ہیں کہ امام کے رکوع سے اٹھنے کا انتظار نہیں کرتے اور اس سے قبل اٹھ جاتے ہیں ۔ شرعی لحاظ سے اگر کوئی امام سے قبل رکوع اور سجدہ سے سر اٹھالے تو اس کا کیا حکم ہے  ؟
جواب :  بشرط صحت سوال صورت مسئول عنہامقتدی پر امام کی پیروی کرنا لازم ہے۔ اگر کوئی مقتدی امام سے قبل رکوع اور سجدہ سے ا پنا سراٹھالے تو فقہاء نے صراحت کی کہ اس کے لئے دوبارہ رکوع اور سجدہ میں چلے جانا مناسب ہے تاکہ امام کی اقتداء اور اتباع مکمل ہوسکے اور امام کی مخالفت لازم نہ آئے ۔ دوبارہ رکوع اور سجدہ میں جانے سے تکرار متصور نہیں ہوگی ۔ حاشیہ الطحطاوی علی مراقی الفلاح   ص : ۱۷۰،۱۷۱ میں ہے : من الواجب متابعۃ المقتدی امامہ فی الارکان الفعلیۃ فلو رفع المقتدی رأسہ من الرکوع اوالسجود قبل الامام ینبغی لہ ان یعود لتزول المخالفۃ بالموافقۃ ولا یصیر ذلک تکرار۔
فقط واللہ أعلم

TOPPOPULARRECENT