Monday , September 25 2017
Home / ہندوستان / دو محاذوں پر جنگ کے متحمل نہیں، ہندوستانی فضائیہ کا اعتراف

دو محاذوں پر جنگ کے متحمل نہیں، ہندوستانی فضائیہ کا اعتراف

جنگی بیڑہ کی تعداد میں کمی، رافیل کے علاوہ مزید جنگی طیاروں کی ضرورت، ایئر مارشل بی ایس دھنوا کی پریس کانفرنس

نئی دہلی ۔ 10 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستانی فضائیہ (آئی اے ایف) نے اپنی قوت میں کمی کا حوالہ دیتے ہوئے آج عملاً یہ اعتراف کیا ہیکہ اگر پاکستان و چین کے ساتھ دو محاذوں پر جنگ چھڑجائے تو فضائی مہم کو پوری طرح روبہ عمل لانے کیلئے اس کے پاس درکار تعداد نہیں ہے۔ فضائیہ نے 36 رافیل کے علاوہ پانچویں جنریشن کے مزید طیاروں کی خواہش ظاہر کی اور کہا کہ یہ ایک ضرورت ہے۔ آئی اے ایف کے یہ انکشافات ایسے وقت سامنے آئے جبکہ اس کے اسکواڈرن (جنگی بیڑہ) کی تعداد منظورہ 42 سے کم ہوکر 33 تک چلی گئی ہے۔ ان 33 اسکواڈرن میں ایک بڑی تعداد روسی ساختہ SV-30 جیٹ طیاروں کی ہے اور یہ ملک کے صف اول کے جنگی طیارے ہیں۔ تاہم ان طیاروں کی خدمات (سرویس) کا تناسب بہت ہی ناقص تقریباً 55 فیصد بتایا گیا ہے۔ اس کا صاف مطلب یہ ہیکہ اگر 100 طیارے موجود ہوں، ایسی صورت میں تقریباً 55 طیارے دستیاب رہیں گے

اور مابقی طیاروں کو سرویسنگ کی بناء استعمال نہ کیا جاسکے گا۔ ایئر مارشل بی ایس دھنوا وائس چیف انڈین ایئرفورس نے آج یہاں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہماری تعداد دو محاذوں پر جنگ کی صورت میں فضائی مہم کو پوری طرح روبہ عمل لانے کیلئے کافی نہیں۔ دو محاذوں پر جنگ کے بارے میں قیاس کیا جاسکتا ہے اور اس کیلئے ہمیں تیار رہنے کی ضرورت ہے لیکن سوال یہ ہیکہ کیا ہمارے پاس اتنی تعداد ہے؟ انہوں نے خود جواب دیا نہیں، اسکواڈرن بند ہوتے جارہے ہیں۔ بی ایس دھنوا سے پوچھا گیا تھا کہ اگر کل دو محاذوں پر جنگ چھڑجائے تو کیا آئی اے ایف اس کے مقابلہ کی اہلیت رکھتی ہے۔ آئی اے ایف ذرائع نے بتایا کہ آئندہ چند سال تک دو محاذوں پر جنگ کا امکان نہیں ہے اور اس دوران فضائیہ کو مطلوبہ صلاحیت پیدا کرلینے کی توقع ہے۔ دھنوا جنہوں نے کارگل جنگ میں حصہ لیا تھا بتایا کہ ہم نے اپنی تشویش سے حکومت کو واقف کرادیا ہے۔ حکومت اس مسئلہ کو بخوبی جانتی ہے اسی لئے حکومت نے 36 طیاروں (رافیل) کیلئے معاہدہ پر دستخط کئے۔ ہنگامی صورتحال اور اسکواڈرن میں کمی کے پیش نظر ہی حکومت نے فوراً  یہ قدم اٹھایا ہے جب ان سے پوچھا گیا کہ رافیل کے علاوہ میڈیم ملٹی رول کمباٹ طیاروں (MMRCA) کی بھی ضرورت ہے۔ انہوں نے اثبات میں جواب دیا۔ انہوں نے کہاکہ بہت سے راستے ہیں جن کا جائزہ لیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ ہمیں 36 رافیل سے زیادہ تعداد میں MMRCA کی ضرورت ہے۔ آئی اے ایف کے ڈپٹی چیف ایئر مارشل آر کے ایس بہادریا نے کہا کہ مزید طیاروں کے بارے میں کوئی بھی فیصلہ 36 رافیل جنگی جیٹ طیاروں کا کنٹراکٹ پورا ہونے کے بعد ہی کیا جائے گا۔

TOPPOPULARRECENT