Wednesday , August 23 2017
Home / دنیا / دو مسلمان طلباء کا خاتون ٹیچر سے مصافحہ کرنے سے انکار

دو مسلمان طلباء کا خاتون ٹیچر سے مصافحہ کرنے سے انکار

جنیوا ۔ 5 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سوئٹزرلینڈ کے جنوبی علاقہ میں واقع ایک اسکول کے مسلمان طلباء اب خاتون ٹیچرس سے مصافحہ نہیں کرسکیں گے۔ ایک قانون کی منظوری کے بعد یہ فیصلہ کیا گیا جس نے پورے ملک میںکھلبلی مچادی ہے۔ جنوبی بلدی علاقہ تھیرویل میں واقع اسکول کے اس متنازعہ فیصلہ پر عمل آوری کاحکم اس وقت جاری کیا جب 14 اور 15 سال کے دو طلباء نے یہ شکایت کی تھی کہ سوئٹزرلینڈ میں موجود خاتون ٹیچرس سے مصافحہ کرنے کا طریقہ ان کی مذہبی تعلیمات کے مغائر ہے جہاں خواتین سے مصافحہ کرنے پر پابندی ہے۔ انہوں نے کہا کہ مذہب اسلام خواتین کے ساتھ کسی بھی نوعیت کے جسمانی لمس یا میل ملاپ کی اجازت نہیں دیتا جن میں خاندان کے قریبی رشتہ دار جیسے ماں، خالہ، بہن، پھوپھی وغیرہ کو استثنیٰ حاصل ہے۔ دریں اثناء اسکول کی خاتون ترجمان مونیکا وائس نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ مقامی تھیرویل کونسل اسکول انتظامیہ کے فیصلہ کی تائید نہیں کرتی۔ تاہم اس میں مداخلت بھی نہیں کرے گی کیونکہ اسکول کیلئے قوانین و ضوابط وضع کرنا اسکول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے۔ بہرحال اس فیصلہ کے بعد سماج کے مختلف گوشوں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والوں نے یہ کہہ کر اعتراضات شروع کردیئے ہیں کہ مصافحہ کرنا سوئس تہذیب کی علامت ہے۔ دریں اثناء اسلامک سنٹرل کونسل آف سوئٹزرلینڈ نے ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا کہ صرف دو مسلمان طلباء نے اپنی خواہش کا اظہار کیا ہے۔ اس سے سوئس تہذیب داؤ پرنہیں لگ گئی۔ خاتون ٹیچرس کے ساتھ اپنی رفاقت اور عزت ظاہر کرنے کیلئے طلباء کے پاس مصافحہ کے علاوہ دیگر طریقے بھی ہیں جیسے جھک کر آداب کرنا (پیٹ میں منڈی ڈالنا) وغیرہ۔

TOPPOPULARRECENT