Monday , April 24 2017
Home / مضامین / دو معصوم ہندو مسلم دوستی کا دل دہلا دینے والا واقعہ

دو معصوم ہندو مسلم دوستی کا دل دہلا دینے والا واقعہ

سید جلیل ازہر
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ دنیا میں سب سے نایاب چیز عزت اور سب سے قیمتی شئے دوستی ہے جو ذات پات کے بھیدبھاؤ سے پاک ہوتی ہے۔ اگر دوستی کا رشتہ نہ بنا ہوتا تو انسان کبھی یقین نہ کرتا کہ اجنبی لوگ اپنوں سے بھی زیادہ پیارے ہوسکتے ہیں۔ اسی طرح دوستی بھی ذات پات کو نہیں دیکھتی۔ آج اس جمہوری ملک میں اپنے سیاسی فائدے کیلئے کچھ لوگوں نے ہندو مسلمان کے درمیان دیواریں کھڑا کرتے ہوئے اپنی سیاسی دکانیں چلا رہے ہیں لیکن دوستی کے جذبہ سے سرشار کئی مثالیں اگرقلمبند کی جائیں تو اخبار کے صفحات تنگ دامنی کا شکوہ کریں گے۔ ہفتہ قبل حیدرآباد کے ایک معیاری اسکول کی سچی کہانی ہے جو فرضی  ناموں کے ساتھ قلمبند کررہا ہوں۔ ایک اسکول  کے معصوم طلباء جو تیسری جماعت کے طالب علم ہیں نعیم جس کی عمر 7 برس اور اس کے خاص دوست موہن جس کی عمر 7 برس وقت کی ستم ظیفی کے دونوں کی دوستی اسکول میں مثالی تھی۔ اچانک کچھ ہفتہ قبل موہن کلیجہ کے عارضہ میں مبتلاء ہوگیا اور وقت کے بے رحم ہاتھوں نے اس کو موت کی آغوش میں لے لیا۔ موہن کی موت کے بعد نعیم کی جو حالت ہوئی ہے اس کا اندازہ اسی کے خاندان والے ہی لگا سکتے ہیں کہ جنہوں نے ابھی شعور کی منزلوں میں قدم نہیں رکھا اور ہندو دوست کی موت پر معصوم ہر دن اپنے دوست کو یاد کرتے ہوئے انتہائی غمزدہ رہتا ہے۔ انسانیت کی اس سے زیادہ کیا مثال ہوسکتی ہیکہ آج کے اس پرآشوب دور میں معصوم بچوں کے پاس تک مذہب کا بھیدبھاؤ نہیں ہے۔ معصوم طالب علم کی کیفیت اپنے دوست کی موت کے بعد ابھی تک نہیں سنبھل پائی۔ اس معصوم کے جذبہ دوستی کو دیکھتے ہوئے اس کی صلاحیتوں کو سلام کرنے کو جی چاہتا ہے۔ یقیناً جس گھر میں تعلیم اور نیک ماں ہو وہ گھر تہذیب اور انسانیت کی یونیورسٹی ہے۔ بچہ جو دیکھتا ہے وہی کرتاہے ۔ عام گھروں میں اب بھی یہ رواج ہیکہ بکرا یا مرغی دبح کرتے وقت معصوم بچوں کو اس جگہ آنے نہیں دیا جاتا کیونکہ وہ جو دیکھتا ہے وہی کرتا ہے۔ یہی سبب ہیکہ خاندانوں میں گھر کے ذمہ داروں کی کارکردگی کو دیکھ کر ہی نئی نسل پروان چڑھتے ہوئے اپنے بزرگوں کا نام روشن کرتی ہے۔ یہی تربیت کی پہچان ہے۔ یہ لڑکا بھی ایسے خاندان کا چشم و چراغ ہے جن کے بزرگوں نے بلالحاظ مذہب و ملت سماج کے ہر پریشان حال کی مددکی اور تاریخی دوستی کی مثالیں قائم کی ویسے خوشبو کو تشہیر کی ضرورت نہیں ہوتی۔ اپنے دوست کے غم میں معصوم کی حالت اب بھی زخمی پرندہ کی طرح ہے۔ یہ بات طئے ہیکہ بڑے درختوں کے سائے میں پنپنے والے پودے ہی تناور درخت بنتے ہیں کیونکہ
پنچی کہتے ہیں کے گگن بدلا ہے
پھول کہتے ہیں کہ چمن بدلا ہے
لیکن قبرستان کی خاموشی کہتی ہے
کے نعش وہ ہی ہے کفن بدلا ہے
پھر بھی ہم اس فنا ہونے والی دنیا میں اپنے آپ کو نہیں بدل رہے ہیں  صرف شہ نشین سے سیکولرازم کا دعویٰ کرنے والوں کو سونچنا چاہئے کہ اس گنگاجمنی تہذیب کو چند مٹھی بھر لوگ تار تار کررہے ہیں جبکہ یہ جذبہ اب بھی معصوم طلباء کے دنوں میں اپنی ایک مخصوص جگہ بنائے ہوئے ہے۔
نہ ہی فرق ایک تنکے کا بھی نا ہی خون کا رنگ کچھ اور ہے
بس فرق یہ کے کسی کو لوگ ہندوتو کسی کو مسلمان کہتے ہے
یہ دونوں ہندو مسلم معصوم دوستی کی داستان پر راقم الحروف کو فلمی دنیا کے شہنشاہ جذبات دلیپ کمار کی وہ تقریر جو 1974میں لتا منگیشکر کا ایک پروگرام رائل البرٹ ہال لندن میں نہرو میموریل سنٹر کی جانب منعقد ہوا تھا جو مجھے آج بھی زبانی یاد ہے کہ دلیپ کمار نے لتا منگیشکر کو شہ نشین پر دعوت دینے سے قبل جو اظہار خیال کیا تھا اس میں کچھ تبدیلی کرتے ہوئے قلمبند کررہا ہوں۔ ’’حضرات جس طرح کہ پھول کی خوشبو یا مہک کا کوئی رنگ نہیں ہوتا جو محض خوشبو ہوتی ہے، جس طرح کہ بہتے ہوئے پانی کے جھرنے یا ٹھنڈی ہواؤں کا کوئی مسکن یا کوئی گھر، گاؤں، وطن، دیس نہیں ہوتا، جس طرح سے ابھرتے ہوئے سورج کی کرنوں کا یا کسی معصوم بچے کی مسکراہٹ کا کوئی مذہب یا بھید بھاؤ نہیں ہوتا اسی طرح ان دو ہندو مسلم معصوم دوستوں کی دوستی بھی قدرت کی تقلید کا ایک کرشمہ ہے۔ ایسی دوستی کے ذریعہ ہی شہر کی فضاء اور شہریوں کی ذہنیت میں ایسی تبدیلی آئے کے
درد ہو اتنا کہ مقدر جواب دے
قطرہ کرے سوال تو سمندر جواب دے
ملک میں ہو ہمارے اتنی ایکتا
کے مسجد سے ہو سوال تو مندر جواب

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT