Friday , May 26 2017
Home / مضامین / دو نمبر کا پیسہ ایک نمبر کا چندہ

دو نمبر کا پیسہ ایک نمبر کا چندہ

یوگیندر یادو
پارلیمنٹ میں میزوں کی تھپتھپاہٹ سن کر میرا ماتھا کھنکا، دلیر مہندی کا گیت یاد آیا … “معاملہ گڑبڑ ہے”۔ جن سیاستدانوں کے کالے دھن کو روکنے کیلئے تجویز لائی جائے وہی سب مل کر اس کا خیر مقدم کریں، اور آپ کیا کہیں گے۔ معاملہ گڑبڑ ہے۔
ارون جیٹلی نے اپنی بجٹ تقریر کے دوران بڑی ادا کے ساتھ کہا کہ وہ سیاسی فنڈ میں شفافیت لانے کے لئے ایک بڑی تجویزلا رہے ہیں۔سیاسی جماعتیں اب 2000 روپے سے زیادہ کیش نہیں لے سکیں گے اور سیاست میں صاف ستھری دولت لانے کے لئے ‘الیکشن بانڈ’ لائے جائیں گے۔ اس تجویز کاارکان پارلیمنٹ نے میز تھپتھپاکراستقبال کیا۔ ٹی وی چینلوں نے تشہیر کی، اگلے دن اخبارات کی سرخیوں اور اداریوںنے بھی اطمینان کا اظہار کیا، چلو صحیح سمت میں ایک قدم تو اٹھایا۔ وزیر خزانہ کا کام بن گیا۔ بجٹ ختم پیسہ ہضم۔
دراصل وزیر خزانہ نے کیا اعلان کیا، یہ اس دن کسی کو سمجھ ہی نہیں آیا۔ الیکشن بانڈ والا معاملہ تو بند پٹارے جیسا تھا۔ آہستہ آہستہ بجٹ کے دستاویزات کھلے اور پھر یہ بات سمجھ میں آئی کہ یہ ارون جیٹلی کی ایک اورگگلی تھی۔ گیند جس سمت میںا سپن ہوتی نظر آتی تھی دراصل اس کے برعکس سمت میں گھومتی ہے۔ اس سے سیاست میں کالا دھن ذرا بھی نہیں رکے گا۔ الٹی آج سیاسی اکاؤنٹنگ میں جو تھوڑی بہت شفافیت ہے وہ بھی ختم ہو جائے گی۔ اس لئے برسوں سے سیاست میں شفافیت کا مطالبہ کرنے والے ‘ایسوسی ایشن فار ڈیموکریٹک ریفارم’ جیسی تنظیم اپنا ماتھا پکڑ کر بیٹھی ہیں۔

وزیر خزانہ کی پہلی تجویز ہے کہ سیاسی جماعتوں کو کیش میں ملنے والے چندے کی زیادہ سے زیادہ حد 2 ہزار کر دی جائے۔ فی الحال ایسی کوئی حد نہیں ہے۔ پہلی نظر میں اچھی بات لگتی ہے کہ سینکڑوں کروڑوں روپے کا گمنام کیش چندے کا دعوی کرنے والی جماعتوں پر کچھ سخت تو ہوئی۔ لیکن ذرا دھیان سے دیکھیں تو پتہ لگے گا کچھ بھی نہیں ہوا۔ آج کا قانون کہتا ہے کہ پارٹی کو 20 ہزار روپے سے کم کسی بھی چندے کا حساب دینے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ اس کا فائدہ اٹھا کر تمام لیڈر اور پارٹیاں حوالہ جائداد اور بدعنوانی کے ذریعے اپنی کالی کمائی کو سیاسی چندے کے طور پر دکھا کر بلیک کو وائٹ کر لیتے ہیں۔اسے روکنے کے لئے دو طرح کے قوانین کی ضرورت تھی۔ پہلے کہ حساب نہ دینے کی چھوٹ کو مکمل طور پر ختم کیا جائے، جیسا باقی تنظیموں کو کرنا پڑتا ہے، اسی طرح سے جماعتوں کو بھی اپنے ہر چندے کا حساب دینا اور رکھناپڑے۔ چاہے کیش میں ہو یا چیک، چاہے 50 ہزار کا ہو یا 50 لاکھ کا، دوسرا، کوئی بھی پارٹی کیش میں کتنا چندہ لے سکتی ہے اس کی حد طے ہوتی۔ یہ اصول بن سکتا تھا کہ پارٹیاں اپنے کل چندے کا صرف 10فی صد ہی کیش میں لے سکتی ہیں، لیکن وزیر خزانہ نے ایسا کچھ نہیں کیا۔ یہاں تک کہ حساب دینے کی چھوٹ کو بھی 20000 ہزار سے کم کرکے 2 ہزار کر دیا۔ نتیجہ یہ ہو گا کہ کچھ بھی نہیں بدلے گا۔ کل تک جو نیتا جی یا بہن جی کسی اکاؤنٹنٹ کو بلا کر کہتے تھے بھائی یہ رہے 100 کروڑ اسے 20-20 ہزار کے چندے کی طرح دکھا کر انٹری کر دو۔ اب وہ کہیں گے بھائی یہ رہے 100 کروڑ اسے 2-2 ہزار کے چندے کی انٹری دکھا دو۔ جو کل تک سینکڑوں کروڑ کے 2 نمبر کے پیسے کو ایک نمبرکا کر رہے تھے وہ آج بھی وہی کریں گے۔
نئی تجویز سے ان پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ بس چارٹرڈ اکاؤنٹنٹ کی محنت اور فیس بڑھ جائے گی۔
انتخابی بانڈ والے اعلان کا مقصد ہے کہ عوام کے لئے پارٹیوں کو ایک نمبر کا پیسہ دینا سادہ اورآسان بنایا جائے۔ بات صحیح ہے کیونکہ سیاست میں دو نمبر کے پیسے کے پیسے کو روکنے کے ساتھ ساتھ ایک نمبر کے پیسے کو بھی فروغ دینا ضروری ہے۔ لیکن اس بہانے وزیر خزانہ کوئی دوسرا ہی کھیل کھیل گئے۔ سیاست میں مکتدان کے بجائے وزیر خزانہ نے گپتدان کا بندوبست کر دیا ہے۔ الیکشن بانڈ سے سیاسی چندے میں جو تھوڑی بہت شفافیت تھی وہ بھی ختم ہو جائے گی۔
حکومت کا منصوبہ یہ ہے کہ جو بھی شخص کسی پارٹی کو ایک نمبر میں پیسہ دینا چاہے وہ بینک جاکر اتنی رقم کی الیکٹرک بانڈ کی خریداری کرلے گا۔ اس بانڈ پر نہ خریدنے والے کا نام ہو گا اورنہ ہی اس پارٹی کا جسے یہ بانڈ دیا جائے گا۔وہ جس پارٹی کو چاہے بانڈ پکڑا دے گا۔ نہ عطیہ دینے والے کو بتانا پڑے گا کہ اس نے کس پارٹی کو عطیہ دیا۔ نہ ہی پارٹیوں کو یہ بتانا پڑے گا کہ اسے کس شخص اور کمپنی سے عطیہ ملا ہے۔ سب سے زیادہ خطرناک بات یہ ہے کہ پارٹی کو یہ بھی نہیں بتانا پڑے گا کہ اسے کل کتنی رقم کے بانڈ ملے۔ پہلے جس 2000 تک کے چندے کا حساب نہ دینے کی چھوٹ تھی الیکشن بانڈ کے لئے اس رعایت کی حد ہی ختم کر دی گئی۔

فرض کریں کہ اگر کوئی حکومت کسی بڑی کمپنی کو کسی بڑی ڈیل میں 5 ہزار کروڑ کا فائدہ پہنچاتی ہے۔ 50-50 کا سودا ہو جاتا ہے خواہ وہ کمپنی یا اس کا مالک 2.5 ہزار کروڑ کا الیکشن بانڈ خریدتی ہے اور خاموشی سے حکمراں پارٹی کو پکڑا دیتی ہے۔ اگر آج کے نظام میں کمپنی پارٹی کو ڈھائی ہزار کروڑ دیتی تو کمپنی کو اپنی بیلنس شیٹ میں اس کا انکشاف کرنا پڑتا اور اس پارٹی کوانکم ٹیکس کے حصے میں اس کا تفصیل دینی پڑتی لیکن جیٹلی جی کے اس “سدھار” سے یہ سارا لین دین ریکارڈ سے غائب ہو جائے گا۔ اس سودے کا صرف دو لوگوں کوپتہ ہوگا۔کمپنی کے مالک اور پارٹی کے رہنما۔ یعنی ایک نمبر کے پیسے کو دو نمبر کے راستے سے دینے کا پکا انتظام کر دیا گیا ہے۔
سیاست ہر کوئی جانتا ہے کہ ہمارے ملک میں کالے دھن اور بدعنوانی کی جڑ ہے سیاسی کرپشن اور اس کی اصل ہے انتخابی خرچہ اور سیاسی فنڈنگ۔ ہر کوئی یہ بھی جانتا ہے کہ پارٹیوں کا بیشتر فنڈ یا تو نیتا جی کی جیب میں ہوتا ہے یا پارٹیوں کی تجوری میں۔ سیاسی فنڈ کا آٹے میں نمک کے برابر کا حصہ بینک اکاؤنٹ میں رکھا جاتا ہے۔ وہی چٹکی بھر فنڈ انکم ٹیکس اور الیکشن کمیشن کے سامنے اعلان ہوتا ہے۔ اس چھوٹی سی رقم میں بھی بڑے بڑے گھپلے پکڑے گئے ہیں۔ اگر سیاسی فنڈنگ کو بہتر بنانا تھا تو ایسا نظام ضروری تھا جس سے جماعتوں کے لئے ایک نمبر کے پیسے کا تناسب بڑھتا۔ ساتھ ہی اس پیسے کی تحقیقات کا پختہ بندوبست ہوتا۔ ایسا کرنے کے بجائے وزیر خزانہ نے جس چٹکی بھر سیاسی فنڈ کی چھان بین ہو سکتی تھی اس پر بھی پردہ ڈال دیا۔

کچھ یوں سمجھ لیجئے کہ سیاسی فنڈنگ کی ٹنکی لیک کر رہی تھی۔ اس سوراخ کو بند کرنے کے بجائے وزیر خزانہ نے اصول بنا دیا چاہے ٹنکی میں کتنے بھی سوراخ کرو کوئی بھی سوراخ دو انگلی سے بڑا نہیں ہو سکتا۔ساتھ ہی ٹنکی کاڈھکن اور کھول دیا چاہے کتنا بھی لوٹا پانی لے لیجئے، اور اس پر طرہ یہ کہ سب کے سامنے ایک بڑی سکرین لگا دی جس پر لکھا ہے شفافیت۔ ٹینک کا پانی پہلے سے بھی زیادہ رس رہا
ہے، لٹ رہا ہے، لیکن اب نظر آنا بند ہو گیا۔ تمام شفافیت کی اسکرین کو دیکھ کر تالیاں بجا رہے ہیںاور پارلیمنٹ کی میز تھپتھپا رہے ہیں۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT