Tuesday , September 26 2017
Home / شہر کی خبریں / دو ہزار روپیوں کے نوٹس کی اجرائی پر وضاحت کا مطالبہ

دو ہزار روپیوں کے نوٹس کی اجرائی پر وضاحت کا مطالبہ

کرنسی نوٹس کی منسوخی سے دولتمند گھرانے غیرمتاثر، محمد علی شبیر کی مودی پر تنقید

حیدرآباد ۔ 12 نومبر (سیاست نیوز) قائد اپوزیشن تلنگانہ قانون ساز  کونسل محمد علی شبیر نے نقلی نوٹوں کے چلن کو روکنے کیلئے 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو منسوخ کیا گیا ہے تو 2000 روپئے کی نئی نوٹ جاری کرنے کی وزیراعظم نریندر مودی سے وجہ دریافت کی۔ دولتمند شہریوں کی بنکوں کے قطاروں میں نہ کھڑے ہونے پر خدشات کا اور غریب عوام کی مصیبت اور پریشانیوں پر تشویش کا اظہار کیا۔ آج اسمبلی کے میڈیا کانفرنس ہال میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محمد علی شبیر نے کہا کہ کالادھن اور نقلی نوٹوں کے چلن کو بند کرنے بڑی نوٹوں پر امتناع عائد کرنے کا وزیراعظم نے اعلان کیا ہے مگر دولتمند افراد پر اس کا کوئی اثر نظر نہیں آرہا ہے۔ صرف غریب عوام اور روزمرہ کا کاروبار کرنے والے ٹھیلہ بنڈی اور رکشہ راں طبقہ پریشان ہیں اور وہی بینکوں اور اے ٹی ایم کی قطاروں میں کھڑے ہیں جبکہ کوئی بھی دولتمند شہری قطار میں نہیں ہے۔ اس سے کئی خدشات پیدا ہوتے ہیں۔ وزیراعظم نریندر مودی نے بڑے بڑے دولتمندوں کو بڑی کرنسی کی منسوخی کے تعلق سے پیشگی اطلاع دے دی تھی جس کی وجہ سے وہ بے فکر ہیں۔ ان کے ہاں جمع شدہ رقم کا وہ انتظام کرلینے میں کامیاب ہوگئے ہیں۔ اگر پریشان ہیں تو غریب عوام پریشان ہیں۔ ملک کے عوام نے غریب عوام کے حالات کو سمجھنے کی امید کرتے ہوئے ایک چائے والے کو وزیراعظم بنایا تھا مگر اسی چائے والے نے وزیراعظم بننے کے بعد چائے والوں، ٹھیلہ بنڈی والوں اور غریب عوام کے مفادات کو فراموش کرتے ہوئے انہیں مشکلات سے دوچار کردیا۔ ملٹی نیشنل، کارپوریٹ اداروں اور بڑے سرمایہ کاروں کے مفادات کا تحفظ کرنے میں مصروف ہے۔ محمد علی شبیر نے کہاکہ جب بڑی نوٹوں کے نقلی نوٹ تیار ہورہے ہیں تو 2000 کی نئی نوٹ جاری کرنے کی وجہ کیا ہے۔ اس فیصلے سے کرپشن کے رجحان میں مزید اضافہ ہوجائے گا۔ رشوت کا بازار گرم ہوجائے گا۔ قائد اپوزیشن نے صرف ڈھائی لاکھ روپئے تک بینکوں میں جمع کرنے پر انکم ٹیکس سے استثنیٰ دینے کے فیصلے کی  بھی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ عوام دن رات محنت کرکے اپنی ساری زندگی کی پونجی جمع کررہے ہیں اس کی معمولی حد مقرر کرنا  ناانصافی ہوگی۔ لہٰذا حکومت اپنے فیصلے پر نظرثانی کریں۔ 500 اور 1000 کی نوٹوں پر عائد امتناع سے فوری دستبرداری اختیار کریں۔ عوام کو کچھ مہلت دیں۔ متبادل انتظامات ہونے کے بعد دوبارہ امتناع عائد کرنے پر غور کریں۔ محمد علی شبیر نے چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر کو بڑی کرنسی کے امتناع پر اپنے ردعمل کا اظہار کرنے اور گورنر سے راج بھون میں 4 گھنٹوں تک کیا بات ہوئی ہے اس کی وضاحت کرنے پر زور دیا۔ چیف منسٹر اور گورنر کے درمیان بڑے نوٹوں کے امتناع پر کوئی بات نہ ہونے مرکزی وزیر دتاتریہ کی جانب سے دعویٰ کرنے کی مذمت کی۔ کانگریس قائد نے کہا کہ ملک کے 648 افراد کی جانب سے بیرونی ممالک میں کالادھن رکھنے کی اطلاعات ہیں تو ان کے خلاف کارروائی نہ کرنے اور کالادھن واپس نہ لانے کی بھی عوام سے وضاحت کرنے کا وزیراعظم سے مطالبہ کیا۔

TOPPOPULARRECENT