Monday , August 21 2017
Home / شہر کی خبریں / دو ہزار روپیوں کے نوٹس کے چلن پر چھوٹے تاجرین کو ہوشیار رہنے کی ضرورت

دو ہزار روپیوں کے نوٹس کے چلن پر چھوٹے تاجرین کو ہوشیار رہنے کی ضرورت

اچھی طرح جانچ لیا جائے، پانچ سو روپیوں کے نوٹس میں بھی غیر معمولی اضافہ، عوام بھی چوکنا رہیں
حیدرآباد۔11جون (سیاست نیوز) شہر کے بازارو ںمیں ماہ رمضان کی رونقیں اور گہما گہمی کے دوران دھوکہ بازوں اور چوروں کی مصروفیات میں بھی اضافہ ہونے لگتا ہے اور اکثر دھوکہ باز جو بازاروں کی گہما گہمی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے جعلی نوٹ چلاتے ہیں وہ ٹھیلہ بنڈی تاجرین اور فٹ پاتھ پر کام کرنے والوں کو اپنا آسان نشانہ بناتے ہیں کیونکہ وہ مصروف ہونے کے سبب کرنسی نوٹوں کا باریک بینی سے مشاہدہ نہیں کرتے اسی لئے انہیں بہ آسانی نشانہ بنایا جا سکتا ہے ۔ کرنسی تنسیخ کے بعد اس پہلے رمضان المبارک کے دوران 2ہزار کی نوٹ کا چلن پہلی مرتبہ ہوگا اسی لئے چھوٹے تاجرین کو چوکنا رہنے کی ضرورت ہے۔ چھوٹے تاجرین بالخصوص ٹھیلہ بنڈی رانوں اور فٹ پاتھ تاجرین کو 2ہزار یا 500 کے نئے نوٹ لینے سے قبل اچھی طرح جانچ کرلینی چاہئے کیونکہ اکثر مصروف ترین ایام میں جعلی نوٹوں کو بازار میں پھیلایا جاتا ہے جس کے سبب اصلی اور نقلی میں تمیز کرنا دشوار ہوجاتا ہے اور عوام بھی غفلت میں جعلی نوٹ حاصل کرلیتے ہیں۔ تاجرین کا کہنا ہے کہ اکثر ماہ رمضان کی تجارت کے عروج کے وقت جعلی کرنسی نوٹ بازار میں پہنچتے ہیں اور مصروف ترین اوقات میں ان نوٹوں کو چلایا جاتا ہے لیکن چھوٹے تاجرین کو جب یہ پتہ چلتا ہے کہ وہ ٹھگے جا چکے ہوتے ہیں اس وقت تک کافی دیر ہوچکی ہوتی ہے ۔ دکانداروں 2 ہزار کی نوٹ کی تنقیح کر رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ اب تک کوئی ایسے 2ہزار کے ہاتھ نہیں لگے ہیں لیکن 500 کے جعلی کرنسی نوٹوں میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے ۔جعلی کرنسی کے کاروبار ملک دشمنی ہیں اور ان کاروباروں کے پس پردہ اکثر ملک دشمن عناصر ہی ہوتے ہیں لیکن وہ اس کرنسی کو بازارو ںمیں کچھ اس طرح پھیلاتے ہیں کہ یہ کرنسی عام شہریوں کے ہاتھ میں پہنچ جاتی ہے اور بازار میں چلنے لگتی ہے لیکن جب یہ کرنسی نوٹ بینک پہنچتے ہیں یا کسی ایسی دکان پر پہنچتے ہیں جہاں کرنسی کے اصلی یا جعلی ہونے کا پتہ چلانے والی مشین ہوتی ہیں تو اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ اب تک جعلی کرنسی زیر استعمال تھی۔ نومبر 2016میں کرنسی تنسیخ کے فیصلہ اور نئی کرنسی بازار میں آنے کے بعد جعلی کرنسی کے بازار میں ہی نہیں بلکہ بینک اے ٹی ایم تک پہنچنے کی کئی شکایات سامنے آچکی ہیں اور معمولی تبدیلیوںکے ساتھ یہ کرنسی چلائی جانے لگی تھی اور اب بھی بازاروں میں یہ کرنسی چلائی جا رہی ہے لیکن بینک تک نہیں پہنچ رہی ہے اسی لئے عوام اور چھوٹے تاجرین کو 2ہزاراور 500 کے کرنسی نوٹ کے متعلق چوکنا رہنے کی ضرورت ہے ۔

TOPPOPULARRECENT