Saturday , May 27 2017
Home / شہر کی خبریں / دو ہزار کے نوٹ کے حصول کے باوجود ، چلن مشکل ،چلر کا فقدان

دو ہزار کے نوٹ کے حصول کے باوجود ، چلن مشکل ،چلر کا فقدان

عوام اشیائے ضروریہ خریدنے سے قاصر، تجارتی سرگرمیاں ہنوز ٹھپ ، کمیشن پر سو کا نوٹ دستیاب
حیدرآباد۔11نومبر(سیاست نیوز) 2000کی نوٹ تو ہاتھ میں ہیں لیکن تاجرین کے پاس ابھی چلر نہیں ہونے کے سبب بازار میں 2000کی نوٹ کا چلن عام ہونا مشکل ہوتا جا رہا ہے۔ حکومت کی جانب سے جاری کردہ 2000کی نوٹ حاصل کرنے میں کامیاب افراد اب اس نوٹ کے عوض کچھ خرید نہیں پا رہے ہیں اور دکاندار اس نوٹ کے عوض کم مالیت کے اشیاء کی فروخت سے انکار کر رہے ہیں کیونکہ انہیںگاہک کو واپس دینے کیلئے چلر نہیں ہے۔ دکانداروں کا کہنا ہے کہ اب تک 1000روپئے کی نوٹ حوالے کرتے ہوئے 200روپئے کی اشیاء بھی خریدی جاتی تو 500اور 100کے نوٹ واپس کئے جاتے تھے لیکن ابھی بازار میں 500کے نوٹ نہ پہنچنے اور 100کے نوٹوں کی قلت کے سبب صورتحال مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے کیونکہ نئی نوٹ پیش کرنے والا گاہک پرانی 500کی نوٹ واپس لینے سے انکار کر رہا ہے کیونکہ 8نومبر کی درمیانی شب سے 500اور 1000کی نوٹ کی تنسیخ عمل میں آچکی ہے اوران کا چلن بند ہونے کے بعد ان نوٹوں کی معاملت درست نہیں ہے۔ دونوں شہروں میں بینکوں میں طویل قطار میں ٹھہرنے کے بعد 2000کی نوٹ حاصل کرنے والے افراد کو اب چلر کے حصول کے مسائل کا سامنا ہے۔ بینک کے ذمہ داران کے بموجب شہر میں اچانک 100روپئے کے نوٹوں کا چلن بڑھنے کے سبب ان نوٹوں کی مانگ میں اضافہ ہو گیا ہے اور یہ نوٹ اب تیزی سے بازار میں پہنچنے لگے ہیں لیکن 2000کی نوٹ حوالے کرتے ہوئے 100یا 150کی خریداری پر 900یا850روپئے کی ادائیگی مشکل ترین عمل ہوتی جا رہی ہے۔ شہریوں کو اس مصیبت سے نجات کیلئے مزید ایک ہفتہ انتظار کرنا پڑسکتا ہے کیونکہ ان حالات میں چلر مطلب 100اور 500کے نوٹوں کا چلن عام ہونے تک 2000کی نوٹ کے ذریعہ کم قیمت کی خریداری ممکن نہیں رہے گی۔تاجرین کا کہنا ہے کہ اب بھی بازار میں کرنسی کی فروخت کا سلسلہ جاری ہے کیونکہ شہر میں 100کے نوٹوں کی قلت کا فائدہ اٹھاتے ہوئے تاجرین کو یہ نوٹ فروخت کئے جارہے ہیں اور تاجرین خرید و فروخت کی معاملتیں نہ رک جائیں اس کیلئے 100کے نوٹ خریدنے پر مجبور ہو چکے ہیں اور وہ ان حالات میں 1000روپئے کے 100کے نوٹ کیلئے 200تا300روپئے ادا کر رہے ہیں لیکن قانونی اعتبار سے کرنسی کی فروخت جرم ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT