Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / دھرنا چوک پر احتجاج سے حکومت خوفزدہ

دھرنا چوک پر احتجاج سے حکومت خوفزدہ

کودنڈا رام حکومت کی نظر میں ویلن ہوگئے

محمد نعیم وجاہت
کسی بھی مسئلہ پر احتجاج کرنا جمہوری حق ہے۔ ہندوستان کی آزادی کے لئے برسوں احتجاج کیا گیا تب جاکر انگریزوں نے ہندوستان کو آزاد کردیا۔ علیحدہ تلنگانہ ر یاست کی تشکیل کے لئے ٹی آر ایس نے 14 سال تک مسلسل احتجاج کیا۔ احتجاج کی اجازت نہ دینے پر عدالت کا سہارا لیا اور آندھرائی حکمرانوں پر تلنگانہ تحریک کو کچلنے اور قومی و علاقائی جماعتوں میں رہنے والے تلنگانہ قائدین پر آندھرائی قائدین کی غلامی کا الزام عائد کیا۔ تلنگانہ تحریک کے دوران ٹی آر ایس نے گاؤں سے دہلی تک احتجاج کیا۔ تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی تشکیل دیتے ہوئے احتجاج میں شدت پیدا کردی۔ 45 دن تک عام ہڑتال کرتے ہوئے تمام سرکاری ملازمین کو ہڑتال میں شامل کرلیا۔ آر ٹی سی بسیں سڑک سے ہٹ جانے کے بعد عوام کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔ کوئلے کی کان میں ہڑتال سے جنوبی ہند میں برقی کی پیداوار میں رکاوٹ پیدا ہوگئی۔ سرکاری کام کاج ٹھپ ہوگیا اور بڑے پیمانے پر معاشی بحران پیدا ہوگیا۔ طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی۔ ریل روکو احتجاج کیا گیا۔ بار بار تعلیمی اداروں کو بند کیا گیا۔ سڑکوں اور سرکاری دفاتر یہاں تک کہ سکریٹریٹ کو احتجاجی مراکز میں تبدیل کیا گیا۔ آر ٹی سی بسوں کے علاوہ سرکاری املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا۔ کئی پرتشدد واقعات پیش آئے۔ تحریک اتنی جذباتی ہوگئی کہ سینکڑوں طلبہ و نوجوانوں نے خودکشی کرلی۔ چیف منسٹر کے سی آر نے کئی احتجاجی دھرنوں اور جلسوں میں شرکت کی۔ ریاست کے بیشتر وزراء اور ارکان اسمبلی احتجاج کا حصہ رہے۔ صدرنشین تلنگانہ جوائنٹ ایکشن کمیٹی پروفیسر کودنڈا رام کو اُس وقت تلنگانہ تحریک کا گاندھی قرار دیا جارہا تھا۔ ان کے ایک اشارے پر ٹی آر ایس کے علاوہ دوسری جماعتوں کے قائدین احتجاج کے لئے متحد ہوجاتے اور پروفیسر کودنڈا رام پر کی جانے والی تنقیدوں پر کے سی آر نے کئی مرتبہ آندھرائی قائدین کی زبان کاٹ دینے کی دھمکی دی تھی۔ علیحدہ تلنگانہ ریاست کی تشکیل کے بعد حکمراں ٹی آر ایس کو پروفیسر کودنڈا رام غدار نظر آرہے ہیں۔ حالیہ دو تین سال میں ایسا کیا ہوا کہ حکمراں ٹی آر ایس کے لئے پروفیسر کودنڈا رام ہیرو سے ویلن بن گئے۔ اس پر سنجیدگی سے غور کرنے کی ضرورت ہے۔ آندھرائی حکمرانوں سے زیادہ ٹی آر ایس حکومت پروفیسر کودنڈا رام کے ساتھ نازیبا سلوک کررہی ہے۔ جس طرح تلنگانہ سے ناانصافی کے خلاف کودنڈا رام نے آندھرائی حکمرانوں کے خلاف آواز اُٹھائی تھی اسی طرح ریاست تلنگانہ میں عوامی حقوق اور ان سے ہونے والی ناانصافی کے خلاف پروفیسر کودنڈا رام آواز اُٹھارہے ہیں ،جو ٹی آر ایس حکومت کو برداشت نہیں ہورہی ہے۔ پروفیسر کودنڈا رام کا رول تو تبدیل ہوتا نظر نہیں آرہا ہے، کوئی تبدیلی اگر دیکھی جارہی ہے تو وہ ٹی آر ایس میں ہے۔ اپوزیشن میں احتجاج کو جمہوری حق تصور کرنے والی ٹی آر ایس اقتدار حاصل کرنے کے بعد احتجاج کو برداشت کرنے کے لئے تیار نہیں ہے۔

اندرا پارک پر موجود دھرنا چوک ٹی آر ایس حکومت کو کھٹکنے لگا ہے۔ اسی دھرنا چوک پر چیف منسٹر تلنگانہ کے سی آر نے کئی مرتبہ احتجاج کرتے ہوئے آندھرائی حکمرانوں پر تلنگانہ کے پرامن احتجاج کو کچلنے کا الزام عائد کیا تھا۔ آج ٹی آر ایس حکومت کو احتجاج اپنے لئے خطرے کی گھنٹی نظر آرہا ہے۔ تلنگانہ تحریک کے ہیرو پروفیسر کودنڈا رام ویلن نظر آرہے ہیں۔ جس کی وجہ سے دھرنا چوک پر کسی بھی سیاسی جماعت و رضاکارانہ تنظیم کو احتجاج کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی ہے۔ احتجاج کرنے والی جماعتوں اور رضاکارانہ تنظیموں کو شہر سے 25 تا 30 کیلو میٹر دور احتجاج کرنے کا مشورہ دیا جارہا ہے۔ تعجب کی بات یہ ہے کہ چیف منسٹر کے سی آر اس کی مدافعت کرتے ہوئے کہہ رہے ہیں کہ مقامی عوام کو احتجاج سے تکالیف ہورہی ہیں اور وہ ہائیکورٹ سے رجوع ہوئے ہیں۔ ہائیکورٹ نے بھی اس پر غور کرنے کا حکومت کو مشورہ دیا ہے۔ عدالت کے فیصلے کا احترام کرتے ہوئے دھرنا چوک کو شہر سے دور منتقل کیا جارہا ہے۔ چیف منسٹر نے یہاں تک کہہ دیا کہ اب میڈیا کی رسائی ہر گھر کے ساتھ حکومت کے تمام محکمہ جات تک ہوگئی۔ ہر پروگرام راست ٹیلی کاسٹ کیا جارہا ہے۔ ایسے میں احتجاج حیدرآباد میں کیا جائے یا شہر سے باہر کوئی فرق نہیں پڑتا۔ دھرنا چوک کی بحالی کے لئے چلو دھرنا چوک پروگرام منظم کرنے والے پروفیسر کودنڈا رام کو نصف شب میں ان کے گھر کا دروازہ توڑتے ہوئے مجرموں کی طرح گرفتار کیا گیا تھا۔ تلنگانہ کی تحریک میں پروفیسر کودنڈا رام کو استاد ماننے والے ٹی آر ایس قائدین نے چیف منسٹر کے سی آر کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے ان کے خلاف توہین آمیز ریمارکس کئے۔ آندھرائی قائدین کی زبان کاٹ دینے کا انتباہ دینے والے چیف منسٹر کے سی آر نے خاموش رہ کر ٹی آر ایس قائدین کو شاباشی دی ہے۔ ایک ہفتہ قبل کمیونسٹ جماعتوں نے دھرنا چوک کی بحالی کے لئے احتجاج کا اعلان کیا۔ پولیس نے اس مرتبہ اپنی حکمت عملی تبدیل کردی۔ دھرنا چوک کی مخالفت کرنے والے مقامی عوام اور واکر اسوسی ایشن کو بھی اُس دن احتجاج کرنے کی اجازت دے دی جس دن کمیونسٹ جماعتوں نے احتجاج کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دراصل یہ ٹکراؤ کی پالیسی تھی ۔ماضی میں ایسی کوئی مثال نہیں ملتی کہ ایک ہی مقام پر کسی مسئلہ کی تائید و مخالفت کرنے والوں کو احتجاج کی اجازت دی گئی ہو۔ یہ جان کر قارئین کو تعجب ہوگا کہ دھرنا چوک کی مخالفت کرنے والوں میں کوئی بھی مقامی عوام یا واکر اسوسی ایشن کے قائدین نہیں تھے بلکہ مرد و خواتین پولیس ملازمین کو سادہ لباس میں مقامی افراد بتاکر ان کے ہاتھوں میں پلے کارڈ تھماکر احتجاج میں بٹھادیا گیا۔ شہر اور مضافات سے تعلق رکھنے والے ٹی آر ایس قائدین کو مقامی عوام ظاہر کرتے ہوئے دھرنا میں شامل کردیا گیا۔ میڈیا قابل مبارکباد ہے کہ اس نے حکومت کا پردہ فاش کردیا۔ پولیس اور ٹی آر ایس قائدین کے حقیقی چہرے کو بے نقاب کرنے میں اہم رول ادا کیا۔ جیسے ہی کمیونسٹ جماعتوں کے قائدین اور کارکن احتجاج کرنے کے لئے دھرنا چوک پہونچے وہاں پہلے سے ہی بھاری تعداد میں پولیس تھی اور سادہ لباس میں مقامی عوام کے نام پر پولیس اور ٹی آر ایس قائدین موجود تھے۔ انھوں نے منظم سازش کے تحت کمیونسٹ جماعتوں کے قائدین سے الجھنا اور انھیں مشتعل کرنا شروع کردیا جب حالات بے قابو ہوگئے تو پولیس نے کمیونسٹ جماعتوں کے کارکنوں پر لاٹھی چارج شروع کردیا  اور سادہ لباس میں موجود پولیس نے جو مقامی عوام ہونے کا دعویٰ کررہے تھے

انھوں نے بھی کمیونسٹ جماعتوں کے کارکنوں اور قائدین پر حملہ کردیا جس سے کئی کمیونسٹ کارکن زخمی ہوگئے۔ اس سارے معاملے میں پولیس کی زیادتی کھل کر سامنے آگئی ہے۔عوام کی محافظ پولیس دھرنا چوک کا احیاء کرنے کا مطالبہ کرنے والے احتجاجیوں پرکے خلاف کارروائی کررہی تھی۔ سادہ لباس میں موجود احتجاج کرنے والے ملازمین اور غیر مقامی ٹی آر ایس قائدین کی زیادتی منظر عام پر آنے کے بعد بھی ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی۔ صرف خاتون پولیس انسپکٹر کا کنٹرول روم تبادلہ کردیا گیا۔ اس سارے واقعہ پر چیف منسٹر نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ وزیرداخلہ این نرسمہا ریڈی نے پولیس کی غیر ذمہ دارانہ کارروائی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے معذرت خواہی کے بجائے احتجاجیوں کو حد پار کرنے کے خلاف سنگین نتائج کا انتباہ دیا۔ وزیرداخلہ کا انتباہ قابل مذمت ہے۔ اس طرح بیان دیتے ہوئے این نرسمہا ریڈی نے غیر قانونی عمل کرنے والے پولیس ملازمین کی حوصلہ افزائی کی ہے۔ ٹی آر ایس قائدین نے احتجاج کے مقام پر اپنے غیرمقامی قائدین کی موجودگی پر پردہ ڈالنے کے لئے اس طرح ٹوٹ پڑی کہ دھرنا چوک کی بحالی کے لئے دھرنا منظم کرنا بہت بڑا جرم ہے۔ جمہوریت میں احتجاج کی آزادی ہے مگر ٹی آر ایس اقتدار کا بیجا استعمال کرتے ہوئے اپوزیشن جماعتوں پر الزام عائد کررہی ہے کہ وہ حکومت کے خلاف عوام کو مشتعل کررہی ہے۔ ترقیاتی کاموں میں رکاوٹ پیدا کررہی ہے اور عدلیہ سے رجوع ہوتے ہوئے آبپاشی پراجکٹس کی تعمیرات میں حائل ہورہی ہے۔ مرنے والے افراد کے نام سے عدلیہ میں رجوع ہونے کا الزام عائد کررہی ہے۔ جبکہ پولیس اپنے آپ کو مقامی قرار دیتے ہوئے دھرنا چوک کو منتقل کرنے کا حکومت سے مطالبہ کررہی ہے۔ اس پر ٹی آر ایس کے کسی وزیر یا قائد نے کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا۔ ہائیکورٹ نے گزشتہ 3 سال کے دوران 10 سے زائد مرتبہ ٹی آر ایس حکومت کے فیصلوں کے خلاف ریمارکس کئے ہیں۔ جی اوز کو کالعدم کیا ہے۔ تب حکومت کو عدلیہ کا احترام یاد نہیں ہے۔ اپنے فیصلے کو انجام تک پہونچانے کے لئے مرکزی حکومت سے رجوع ہوکر نئی قانون سازی کرنے کے ساتھ ساتھ سپریم کورٹ کا بھی دروازہ کھٹکھٹایا ہے۔ حصول اراضیات قانون کے خلاف جاری کردہ جی او کو ہائیکورٹ سے کالعدم قرار دینے کے بعد صدارتی حکمنامہ کے ذریعہ جو چاہتے تھے اس کی عمل آوری کو یقینی بنایا ہے۔ احتجاج کے ذریعہ اقتدار کے زینے تک پہونچنے والی ٹی آر ایس کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد احتجاج کھٹکنے لگا ہے۔ احتجاج کے سلسلے کو بند کرنے کے لئے دھرنا چوک کو شہر سے دور منتقل کیا جارہا ہے۔ کسان احتجاج کررہے ہیں، فصلوںکو اقل ترین قیمت پر وصول نہیں ہورہی ہے، روزگار کے لئے مزدور نقل مقام پر مجبور ہیں اور کسان بدحالی کا شکار ہیں،  مسائل اور پریشانیوں سے دلبرداشتہ ہوکر ہوکر خودکشی پر مجبور ہورہے ہیں۔ مگر چیف منسٹر نے اس پر کوئی ردعمل کا اظہار نہیں کیا اور نہ ہی وزراء نے مارکٹ یارڈس کا دورہ کیا۔ احتجاج کرنے والے کسانوں پر ملک سے غداری کرنے کے مقدمات درج کرتے ہوئے عادی مجرموں کی طرح انھیں ہتھکڑیاں لگاتے ہوئے عدالت میں پیش کیا گیا۔ اس طرح کے اقدامات جمہوری ملک میں زیب نہیں دیتے۔

TOPPOPULARRECENT