Sunday , September 24 2017
Home / Top Stories / دھمکانے والا اڈیو ٹیپ منظرعام پر انے کے بعد پھر ایک مرتبہ پنکاجہ منڈے سوالات کے گھیرے میں

دھمکانے والا اڈیو ٹیپ منظرعام پر انے کے بعد پھر ایک مرتبہ پنکاجہ منڈے سوالات کے گھیرے میں

مہارشٹرا کے وزیر پنکاجا منڈے احمد نگر کے بھگوان گڑ مند ر کے پجاری کو دھمکانے کا اڈیو ٹیپ منظر عام پر انے کے بعد سے ایک بار پھر وہ تنازع میں گھرگئی ہیں۔غیرمصدقہ اڈیو ٹیپ میں پنکاجا منڈے مذکورہ پجاری کودسہرہ کے موقع پر انہیں مدعو ناکرنے اور تقریر کا موقع نہ دینے پر انتباہ دیتے ہوئے دھمکا رہی ہیں ۔

اس ٹیپ میں پنکاجا منڈے کہہ رہی ہیں کہ مخالفت کرنے پر نام دیو شاستری مہارج کے حامیوں پر پرلی میں فرضی مقدمات دائرے کئے جائیں گے ۔پنکاجہ مبینہ طور پر اس اڈیو ٹیپ میں کہہ رہی ہیں کہ وہ کسی بھی 25-15روپیوں کے عوض خرید سکتی ہیں۔پنکاجا کو کہتے ہوئے سنا گیاہے کہ ’’ میں نے اپنے لوگوں کو لڑائی ناکرنے اور 11اکٹوبر تک خاموش رہنے کو کہا ہے ۔ اور میں نے اب تک جو کچھ بھی تم لوگوں کودیاہے وہ تم سے پوچھ کردیا ہے ۔

25-15جو بھی ہے اور اگے بھی اسکیم کے تحت پوچھ کر ہی دونگی جو دیہی علاقوں کی عوام کے لئے مقرر ہے۔اور اس غیر مصدقہ اڈیو ٹیپ میں پنکاجا کہہ رہی ہیں کہ نام دیوی شاستری کے ساتھ کیا کرنا وہ اگے دیکھا جائے گا مگر اب دسہرہ ہے اس موقع پر کسی قسم کی بدنظامی میں نہیں چاہتی۔اوروہ دھمکی دی رہی ہیں کہ میرے لوگ معمولی نہیں ہیں وہ پرلی میں کسی بھی کسی بھی وقت مار پیٹ کر اس کو فرضی مقدمات میں ماخوذ کرسکتے ہیں۔مذکورہ اڈیوٹیپ پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے اپوزیشن قائد ایوان قانو ن سازکونسل مہارشٹرا دھننجئے منڈے نے کہاکہ یہ سیاسی طاقت کا غلط استعمال ہے اور اس طرح زبان کا استعمال کرنے والے وزراء کو فوری معطل کردینا چاہئے۔

منڈ ے نے کہاکہ بہت فکر کی بات ہے کہ قانون بنانے والے لوگ خود ہی قانون ہاتھ میں لیکر لوگوں کودھمکا رہے ہیں۔ انہوں نے مزیدکہاکہ ایسے منسٹرس کو اپنے عہدے پر برقرار رہنے کا کوئی حق نہیں ہے۔انہو ں نے کہاکہ مذکورہ وزیر اسکیم کے تحت عوام کو خریدنے کی بات کرکے ریاست میں پسماندگی کاشکار عوام کو گمراہ کرنے کی کوشش کررہی ہیں۔انہو ں نے امید ظاہر کرتے ہوئے کہاکہ اس بار چیف منسٹر کسی بھی بہانے بازی اور کلین چٹ کا ڈرامہ کرے بغیر ہی متنازع منسٹر کو برطرف کریں گے۔جبکہ اڈیوٹیپ کے متعلق وضاحت کے لئے پنکاجہ منڈے سامنے نہیں ائیں مگر ان کے پرسنل سکریٹری نے اڈیوٹیپ پر کسی قسم کی بیان بازی سے صاف انکارکردیا۔

سال2016کی ابتداء میں پنکاجا اس وقت سوالوں کے گھیرے میں اگئی تھی جب وہ لاتور کے قحط زدہ علاقوں کے دورے کے موقع پر سیلفی لیتے ہوئے دیکھی گئی تھیں۔

TOPPOPULARRECENT