Wednesday , October 18 2017
Home / مضامین / دھول چہرے پر تھی ہم آئینہ صاف کرتے رہے

دھول چہرے پر تھی ہم آئینہ صاف کرتے رہے

 

محمد مصطفے علی سروری
ستمبر کی 20تاریخ کو پرانے شہر حیدرآباد کی پولیس نے آٹھ عمانی اور قطری باشندوں اور تین قاضی حضرات کو گرفتار کرنے کا اعلان کیا۔ حالانکہ پرانے شہر حیدرآباد میں عرب شیوخ کے ساتھ لڑکیوں کی شادیوں کو روکنے پولیس کافی عرصے سے سرگرم عمل ہے مگر اس مرتبہ خاص بات یہ رہی کہ جب 8 غیر ملکی شیوخ کو پولیس نے گرفتارکیا تو اس بات کی اطلاع دینے کے لئے پریس کانفرنس کوئی اور نہیں بلکہ شہر حیدرآباد کے پولیس کمشنر ایم مہیندر ریڈی نے طلب کی۔ انہوں نے بتایا کہ 12 ایسی لڑکیوں کو بچالیا گیا جنہیں عرب شیخوں کے ساتھ شادی کرکے دھوکہ دیا جارہا تھا۔
ایم مہیندر ریڈی نے بتایا کہ خلیجی شیخوں کی حیدرآبادی لڑکیوں کے ساتھ شادیاں کروانے والے نیٹ ورک کا بھی پتہ چلا ہے جس میں 35 بروکرس کی پولیس نے نشاندہی کرلی ہے جس میں سے 20 بروکرس خاتون ہیں۔ کمشنر پولیس کے مطابق پرانے شہر حیدرآباد کے لڑکیوں کی خلیجی شیخوں سے شادی کے مسئلہ کو ختم کرنے کیلئے محکمہ اقلیتی بہبود کے تعاون سے اقدامات کئے جائیں گے۔
( بحوالہ آئی اینڈ ڈی ٹو ڈے )
1991ء میں پہلی مرتبہ شہر حیدرآباد میں ایک 10 برس کی کمسن لڑکی آمینہ کو سعودی عرب کے ایک شیخ کے ساتھ بیاہ کردینے کا معاملہ سامنے آیا اور آمینہ کو ایر ہوسٹس امریتا اہلوالیہ نے پولیس کی مدد سے بچالیا تھا۔ حیدرآباد میں تب سے اب تک کچھ بھی تو نہیں بدلا۔ خود آمینہ کو سعودی شیخ سے علحدہ کرنے کے بعد اسکول بھیجنے کا خواب بھی پورا نہیں کیا جاسکا۔ جلد ہی ایر ہوسٹس اہلوالیہ کی بھی آمینہ کے معاملے میں دلچسپی ختم ہوگئی۔ آمینہ کے تحفظ کے لیئے “Save Amena” فنڈ کا اعلان تو ہوا مگر آغاز نہیں ہوسکا۔آمینہ کے والدین اپنے خلاف دہلی میں درج مقدمہ کی پیشی کیلئے دہلی آنے جانے کے اخراجات اٹھاکر ہی پریشان تھے۔ غریبی سے پریشان حال والدین کو اپنی لڑکیاں غیر ملکیوں کے ہاتھوں فروخت کرنے سے روکنے مرکزی حکومت نے ناروے کی ترقیاتی ایجنسی کے تعاون سے ووکیشنل ٹریننگ کے پروگرام شروع کئے۔
( بحوالہ Women and Politictics of vviolence by Taisha Abraham)
1991 میں آمینہ کی سعودی شیخ سے شادی کا معاملہ ہو یا 2017 ستمبر کے دوران قطری اور عمانی شیخوں سے حیدرآبادی لڑکیوں کی شادی کی خبر ( 26 برسوں کے دوران ) آخر کچھ بھی تو نہیں بدلا بلکہ پولیس کمشنر کے مطابق ایجنٹس کا ایک بہت بڑا گروپ ہے جو غریب لڑکیوں کی عرب شیخوں سے پیسے لیکر شادی کا انتظام کرتے ہیں۔ قاضی حضرات کے علاوہ لاج اور ہوٹل کے مالکان بھی اس طرح کی شادیوں میں سہولت کار کا رول نبھارہے ہیں۔ آخر عرب شیخوں کے ساتھ حیدرآبادی لڑکیوں کی شادی کا مسئلہ کیا ہے؟ اور کیا اس مسئلہ کا کوئی حل بھی ہے یا نہیں؟ سب سے اہم بات کہ مجھے اس مسئلہ پر بات کیوں کرنا چاہیئے؟ اس سے تو میرا کوئی تعلق نہیں ہے۔ ہر شہر میں غریب لوگ رہتے اور اکثر غریبوں کے مسائل رہتے ہیں اور ایسے غریب اپنی لڑکیوں کو عرب شیخوں کے ہاتھوں فروخت کرتے ہیں، یا شادی کے نام پر کنٹراکٹ میاریج کرواتے ہیں تو مجھے اس بارے میں سوچنے کی ضرورت کیوں۔ اگر واقعی میں ایسا سوچنے لگوں تو کیا تب بھی میں اپنے آپ کو مسلمان اور نبی آخرالزماں حضرت محمد مصطفے صلی اللہ علیہ وسلم کا اُمتی ہونے کا دعویٰ کرسکتا ہوں۔ کیونکہ امت مسلمہ کو جسم واحد قرار دیا گیا تو مجھے دوسرے مسلمانوں کا درد کیوں محسوس نہیں ہوتا۔ میرے شہر کے غریب آج بھی اپنی لڑکیوں کی شادی کے لئے پریشان رہتے ہیں اور عربوں کو اپنی بیٹیاں بیاہ کرنے کیلئے بے جوڑ اور نامناسب رشتوں کیلئے بھی ہاں کررہے ہیں، تو اس میں میرا قصور بھی تو ہے۔ میرے شہر کا غریب میری زکوٰۃ کا بھی تو حقدار ہے، میرے پڑوس میں رہنے والا غریب میری ہمدردی کا اتنا ہی مستحق ہے جتنا کہ شام کے مظلوم مسلمان اور برما کے روہنگیا ۔
آمینہ کی بوڑھے شیخ کے ساتھ شادی کے بعد اگر کوئی سرگرم ہوتے ہیں تو وہ حکومت اور غیر ملکی امدادی ادارے ( ناروے کی امدادی ایجنسی ) ۔ ہمارے بچوں کی تعلیم و تربیت سرکار کی ذمہ داری، ہماری لڑکیوں کی شادی سرکار کی ذمہ داری تو آخر ہم مسلمانوں کی بھی کوئی ذمہ داری ہے یا نہیں۔
عرب شیوخ کے ساتھ غریب مسلمان اپنی لڑکیوں کو بیاہ کردینے کے لیئے اگر تیار ہورہا ہے تو وہ یہ کام بڑی خوشی کے ساتھ کررہا ہے یا مجبوری میں کررہا ہے۔ یہ جاننا بھی دلچسپی سے خالی نہیں ہے۔ محترمہ جمیلہ نشاط ایک غیر سرکاری تنظیم شاہین ویمنس ریسورس سنٹر کی ذمہ دار ہیں اور سال 2002 سے پرانے شہر حیدرآباد کے 20 سلم علاقوں میں خواتین کی فلاح و بہبود کیلئے کام کررہی ہیں۔ وہ کہتی ہیں کہ پرانے شہر حیدرآباد میں اگر والدین اپنی کم عمر لڑکیوں کی عرب شیخوں کے ساتھ شادی کردینے تیار ہوجاتے ہیں تو اس کی وجوہات پر بھی غور کرنے کی ضرورت ہے۔
جمیلہ نشاط کے مطابق ’’ غریبی میں کسی گھر میں لڑکی کا ہونا ہی سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ اور جب غریب کے گھر لڑکی بڑی ہوجائے تو محلہ کا خود ساختہ لیڈر؍ پہلوان ہی انہیں پریشان کرنے لگتا ہے۔ والدین جب اپنی لڑکی کی کسی آٹو ڈرائیور سے بھی شادی کرنا چاہیں تو وہ بھی صرف جوڑے کی رقم کے طور پر 50 ہزار نقد کا مطالبہ کرتا ہے، پھر دوسرے خرچے الگ سے‘‘۔ ایسے میں غریب والدین کو عرب ملکوں سے آنے والے شیخ بوڑھے نہیں بلکہ رحمت کے فرشتے ہی لگتے ہیں کیونکہ وہ جہیز نہیں لیتے اور نہ جوڑے کی رقم کا مطالبہ کرتے ہیں اُلٹا لڑکی کے والدین کو مدد کے طور پر خاصی رقم دے کر جاتے ہیں۔
میری دانست میں مجھے نہ تو بوڑھے شیخوں کو بُرا بولنے اور گالیاں دینے کا حق پہنچتا ہے اور نہ میں بروکرس، قاضی حضرات و لاج کے مالکان کو اخلاقیات کا درس دینے کا کوئی اخلاقی جواز رکھتا ہوں۔ مجھے اس بات کو تسلیم کرنا ہوگا کہ جب تک میں اپنے شہر، اپنے سماج میں نکاح کو آسان نہیں بناؤں گا اس طرح کے واقعات کا مکمل طور پر نہ تو پولیس ہی تدارک کرسکتی ہے اور نہ ہی محکمہ اقلیتی بہبود۔ اگر پولیس اس طرح کی شادیوں کو مکمل طور پر روکنے میں کامیاب بھی ہوجائے تو ہم مسلمان ان غریب لڑکیوں کی شادی کی ضمانت نہیں دے سکتے ہیں۔ عریب شیخوں کی طرح کوئی ہندوستانی مسلمان ان لڑکیوں سے بغیر جہیز کے بغیر جوڑے گھوڑے کی رقم لئے شادی کرنے کیلئے تیار نہیںہے؟۔
کیا ہم مسلمان اس بات کی یقین دہانی کرواسکتے ہیں کہ غریب مسلم بستیوں میں رہنے والی لڑکیاں محلے کے بدمعاشوں، غنڈوں اور بستی لیڈروں سے محفوظ رہیں گی۔؟
کیا ہم مسلمان اس بات کی ذمہ داری لینے کیلئے تیار ہیں کہ شہر حیدرآباد کے ہر سلم علاقے میں ہر غریب کا بچہ دین سے بھی واقف ہوگا اور اسکول و کالج کی تعلیم بھی حاصل کرے گا۔ کیا ہم مسلمان والدین کو اس بات کا احساس دلاسکتے ہیں کہ لڑکیوں کی پیدائش پر مسلمان انہیں زحمت نہیں بلکہ رحمت سمجھیں کیونکہ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیمات تو یہی کہتی ہیں۔
کیا ہم مسلمان شہر حیدرآباد میں شادیوں اور نکاح کی محفل کو نہایت آسان بنانے کا بیڑہ اٹھا سکتے ہیں۔؟ ان سوالات کے جوابات بحیثیت مجموعی ہم سبھی کو ڈھونڈنے ہوں گے۔ایک جانب غریب لڑکی کی اندرون ملک شادی مشکل ، دوسری جانب کسی غریب لڑکی کی بیرون ملک شادی نہ ہو تب اس کے ماں باپ اور بھائی وغیرہ کو ایک لڑکی کی شادی کیلئے کتنے پاپڑ بیلنے پڑتے ہیں اس کا تصور بھی محال ہے۔
20 ستمبر 2017 کو ہی آصف نگرپولیس اسٹیشن سے ایک غریب مسلم والدین رجوع ہوکر درخواست کرتے ہیں کہ فلاں لڑکے سے ان کی لڑکی کی شادی کروادی جائے۔ اپنی درخواست میں لڑکی کے والدین بتلاتے ہیں کہ ایک نوجوان نے ان کی لڑکی سے شادی کا وعدہ کیا اس لئے اُن لوگوں نے اُس نوجوان کی اپنی لڑکی سے دوستی پر اعتراض بھی نہیں کیا۔ لیکن شادی کے نام پر کی جانے والی دوستی کے نتیجہ میں جب لڑکی حاملہ ہوگئی تب بھی لڑکی کے والدین لڑکے کے خلاف عصمت ریزی کی شکایت نہیں کررہے ہیں بلکہ پولیس سے درخواست کررہے ہیں کہ اس نوجوان سے ان کی لڑکی کی شادی کروادیں جو اپنے وعدے سے مکر کر دوسری لڑکی سے شادی کررہا ہے۔
اس خبر کو پڑھنے کے بعد بظاہر والدین کا قصور نظر آتا ہے مگر یہ اس صورتحال کی عکاسی ہے کہ غریب اپنی لڑکی کی شادی کیلئے کتنا بے بس اور کس قدر مجبور ہوگیا ہے کہ اپنی لڑکی کے ساتھ زیادتی کرنے والے پر بھی زیادتی کا مقدمہ کرنے تیار نہیں بلکہ اُس کے ساتھ بچی کی شادی کروادینا چاہتا ہے۔ گالیاں دینے ، بُرا بھلا بولنے سے مسائل حل ہوجاتے ہیں تو آیئے پروگرام بناتے ہیں ’’ مسائل کا حل بُرا بول کر نکالیں‘‘ مگر یہ ایک غیر حقیقت پسندانہ بات ہے ۔ کیا ہم سچ کا سامنا کرنے تیار ہیں۔ کہیں اور جانے کی ضرورت نہیں، کسی اور سے پوچھنے کی زحمت بھی نہ کیجئے بلکہ اپنے گھر میں موجود آئینہ کے سامنے ٹھہر جایئے اور سوال کیجئے گا۔ کیونکہ آئینہ جھوٹ نہیں بولتا۔ اور ہم :
عمر بھر ہم یونہی غلطی کرتے رہے غالبؔ
دھول چہرے پر تھی ہم آئینہ صاف کرتے رہے
[email protected]

TOPPOPULARRECENT