Sunday , August 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / دھونی کی واپسی ، ہندوستان کا آج جنوبی افریقہ سے T20 میچ

دھونی کی واپسی ، ہندوستان کا آج جنوبی افریقہ سے T20 میچ

ڈوپلیسی کی ٹیم کیلئے ناکام پریکٹس میچ کے بعد دھرمشالا کا سازگار ماحول زرین موقع ۔ دھونی اینڈ کمپنی کا حسب معمول بیٹنگ پر انحصار متوقع

دھرمشالا ، یکم اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) محدود اوورز والے کپتان مہندر سنگھ دھونی قیادت کے رول میں واپس ہورہے ہیں جبکہ ہندوستان طاقتور جنوبی افریقہ کے خلاف پہلے ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل (ڈے اینڈ نائٹ) میں کل یہاں کامیاب آغاز کا متمنی رہے گا۔ ٹور کے ابتدائی میچ کیلئے مقام کے انتخاب نے دورہ کنندگان کو اچنبھے میں ڈالا ہے کیونکہ خوبصورت ایچ پی سی اے اسٹیڈیم میں سرد موسم اُن کے پیس بولروں کیلئے سازگار رہے گا۔ تاہم مہمانوں کیلئے تلخی بھرا دن ثابت ہوا جب وہ اپنے T20 پریکٹس میچ میں انڈیا اے کے خلاف ہار گئے۔ انڈیا اے ٹیم جس میں کوئی ریگولر نیشنل کھلاڑی نہ تھا، پالم میں 190 کا ٹارگٹ پورا کرنے میں کامیاب ہوگئی اور یہ میزبان ٹیم کیلئے حوصلہ بخش ہونا چاہئے۔ ویسے یہاں کے حالات بہت مختلف اور پروٹیز کیلئے زیادہ پسندیدہ رہیں گے۔ دھونی جو ٹسٹ کرکٹ چھوڑ چکے ہیں، تین ماہ بعد ٹیم میں واپس ہوئے ہیں اور اُن کیلئے یہ سیریز آئندہ سال کے ورلڈ ٹوئنٹی 20 کیلئے تیاری کی شروعات رہے گی، جو ہندوستان میں کھیلا جائے گا۔ بعض نئے کھلاڑی جیسے سریناتھ اروند ٹیم میں ہیں اور کرشماتی کپتان اُن کی افادیت کو آئندہ سال کے میگا ایونٹ کو ذہن میں رکھ کر آزما سکتے ہیں۔

اس سیریز میں تین T20 میچز کے علاوہ ہندوستان مزید چار مقابلے سری لنکا کے خلاف کھیلے گا اور ایشیا کپ بھی ورلڈ ٹوئنٹی 20 سے عین قبل کھیلا جائے گا۔ ویسے اِس سیریز میں سارا معاملہ دونوں ٹیموں کے بیٹسمنوں کے درمیان لڑائی والا ہوسکتا ہے۔ دورہ کنندہ لائن اپ جارحانہ کھلاڑیوں سے بھری ہے جیسے کپتان فاف ڈوپلیسی اور اے بی ڈی ولیرز کی شکل میں نہایت جابر بیٹسمن بھی موجود ہے۔ وہ دنیا کے کسی بھی اٹیک کی دھجیاں اُڑانے کی قابلیت رکھتے ہیں۔ پھر ہمیشہ ہی قابل بھروسہ ہاشم آملہ، خطرناک ڈیوڈ ملر اور جے پی ڈومینی بھی ہیں۔ ڈوپلیسی نے دھونی کی قیادت میں چینائی سوپر کنگس کیلئے کھیلا ہے اور وہ ’پُرسکون کپتان‘ کے انداز اور حکمت عملیوں سے بخوبی واقف ہوں گے۔ کوچنگ اسٹاف میں مائیکل ہسی کی موجودگی بھی مہمانوں کیلئے بڑی مثبت بات ہے کیونکہ سابق آسٹریلیائی بیٹسمن نے ہندوستان کے خلاف اور دھونی کے ساتھ آئی پی ایل میں بہت کھیلا ہے۔ اُن کی مفید باتیں پروٹیز کی اس 72 روزہ طویل سیریز کیلئے اچھی تیاری میں مدد کرسکتی ہیں۔

ہندوستان بھی اپنی بیٹنگ طاقت پر انحصار کرے گا۔ اپنے ہاتھ کے زخم سے مکمل صحت یاب ہوجانے والے لیفٹ ہینڈ اوپنر شکھر دھون نے بنگلہ دیش اے کے خلاف اسٹروکس سے بھری سنچری کے ساتھ اچھے اشارے دیئے ہیں۔ یہ دیکھنا دلچسپ رہے گا کہ اُن کا اوپننگ پارٹنر کون ہوگا کیونکہ اس مقام کیلئے روہت شرما اور اجنکیا رہانے میں مسابقت ہوگی۔ مڈل آرڈر ٹسٹ کیپٹن ویراٹ کوہلی، سریش رائنا اور خود دھونی کے ساتھ معقول نظر آتا ہے۔ ایک کھلاڑی کیلئے یہ سیریز کافی اہمیت رکھتی ہے اور وہ سینئر اسپنر ہربھجن سنگھ ہیں۔ چونکہ روی چندرن اشوین ٹیم کیلئے بہت اچھا رول ادا کررہے ہیں جیسا کہ وہ سری لنکا کے خلاف ’مین آف دی سیریز‘ رہے، اس لئے ہربھجن کیلئے ٹیم میں شامل ہونا چیلنج رہے گا۔ ہندوستان کی سب سے بڑی فکرمندی کمزور پیس اٹیک ہے۔ بھونیشور کمار نے گزشتہ چھ ماہ میں نہیں کھیلا ہے اور یہ سیریز اُن کے اعتماد کی آزمائش رہے گی۔ موہت شرما اور اروند دیگر سیمر کی جگہ کیلئے مسابقت کریں گے۔ مہمان ٹیم کا اٹیک T20 اسپیشلسٹ بولرز سے بھرا ہے جیسے کائل ایبٹ اور کرس موریس۔ لیگ اسپنر عمران طاہر بھی بڑی قوت بن کر اُبھرے ہیں۔ البی مورکل بھی ڈیوڈ ویزا کی انجری کے سبب ٹیم میں شامل ہیں۔ مگر یہ سب بولرز واحد وارم اپ میچ میں انڈیا اے کے بیٹسمنوں کے ہاتھوں پٹائی کے بعد کچھ دباؤ میں ضرور ہوں گے۔ پیس بولنگ بھلے ہی جنوبی افریقہ کی سب سے بڑی طاقت رہی ہے لیکن ٹوئنٹی 20 کپتان ڈوپلیسی نے آج کہا کہ پروٹیز اب عمران طاہر کے اُبھرنے کے بعد طاقتور اسپن قوت بھی رکھتے ہیں۔ حال میں انڈین گریٹ سچن تنڈولکر نے کہا تھا کہ طاہر اِس طویل انڈیا ٹور پر جنوبی افریقہ کیلئے مؤثر کھلاڑی ہوسکتے ہیں اور ڈوپلیسی نے اس رائے کی پہلے ٹوئنٹی 20 انٹرنیشنل سے عین قبل توثیق کی ہے۔ دریں اثناء ایچ پی سی اے گراؤنڈ میں دوسری اننگز میں بولنگ کرنے والوں کیلئے شبنم بڑا مسئلہ بننے کا خدشہ ظاہر کیا جارہا ہے لیکن کیوریٹر ایس چوہان نے کہا کہ اُن کا عملہ شبنم کے اثر کو زائل کرنے کے انتظامات کے ساتھ تیار ہے۔ چیف کیوریٹر چوہان نے کہا کہ ہماچل پردیش کرکٹ اسوسی ایشن شبنم کے عنصر کا ازالہ کرنے کوشاں ہے جیسا کہ اس میچ کیلئے چار ’’سوپر ساپرس‘‘ تیار رکھے گئے ہیں۔
میچ کا آغاز شام 7-00 بجے (IST) ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT