Wednesday , August 23 2017
Home / شہر کی خبریں / دھوکہ باز ٹراویل ایجنٹوں پر برطانوی حکومت کا امتناع

دھوکہ باز ٹراویل ایجنٹوں پر برطانوی حکومت کا امتناع

ویزا کے حصول کے خواہاں افراد کو جعلی دستاویزات کی فراہمی اور دھوکہ دہی کا انکشاف
حیدرآباد۔/13جنوری، ( سیاست نیوز) برطانوی ہائی کمیشن کے جاری کردہ پریس ریلیز کے مطابق بنگلور سے تعلق رکھنے والے تین ٹراویل ایجنٹوں کے خلاف سنٹرل کرائم برانچ نے تحقیقات کا آغاز کیا ہے۔ برطانوی حکومت نے جنوبی ہند کے ٹراویل ایجنٹس کی جانب سے کی جارہی دھوکہ دہی کا پتہ چلاتے ہوئے انہیں بے نقاب کیا ہے۔ یہ ٹراویل ایجنٹ برطانیہ کے بشمول دیگر ملکوں کے ویزا کے خواہاں افراد کو جعلی دستاویزات فراہم کرتے ہوئے جعلی ایمیگریشن اسٹامپس بھی سربراہ کررہے تھے۔ اس اسکام کا اس وقت پتہ چلا جب فرضی ایمیگریشن اسٹامپ پر مشتمل پاسپورٹس کو استعمال کرتے ہوئے برطانیہ کا ویزا حاصل کرنے 8 افراد نے درخواست داخل کی تھی۔ ایجنٹوں نے درخواست گذاروں کو مشورہ دیا تھا کہ وہ اپنے پاسپورٹ پر اسٹامپ حاصل کرتے ہوئے یہ دکھائیں کہ وہ لوگ اکثر بیرونی ممالک کا دورہ کرتے ہیں۔ انہوں نے ایسا کرتے ہوئے برطانوی ویزا کے قوانین کو توڑا تھا۔ برطانیہ کے تمام ویزا آفیسرس اس طرح کی جعلسازی کا پتہ چلانے میں ماہر ہیں۔ ان عہدیداروں نے شبہ ظاہر کرتے ہوئے ایجنٹوں کے خلاف تحقیقات کی اور دھوکہ دہی کا انکشاف ہوا۔یہ ایک سنگین جرم ہے اس لئے برطانوی حکومت نے نہ صرف ویزا دینے کیلئے انکار کیا بلکہ ایمیگریشن انفورسٹمنٹ ٹیم نے پاسپورٹ ضبط کرتے ہوئے مزید تحقیقات کا آغاز کردیا ہے۔ بنگلور کے ریجنل پاسپورٹ آفیسر کو بھی اس کی اطلاع دی گئی ہے تاکہ مزید تحقیقات کی جاسکیں۔ تمام 8افراد نے حال ہی میں نئے پاسپورٹ کیلئے درخواست داخل کی تھی۔ ان کا یہ ادعاء تھا کہ ان کے پاسپورٹ گمشدہ ہوگئے ہیں۔ ریجنل پاسپورٹ آفس نے تمام درخواست گذاروں کی تفصیلات کو سنٹرل کرائم برانچ کے حوالے کردیا جو اس کیس کی تحقیقات کررہا ہے۔ ریجنل پاسپورٹ آفیسر مسٹر کارتی جین نے کہا کہ بنگلور ریجنل پاسپورٹ آفیسر برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر چینائی کے ساتھ مل کر تحقیقات کررہا ہے۔ برطانوی حکومت ویزا دھوکہ دہی کے معاملہ کو سنجیدگی سے لیتی ہے اور خاطیوں کو نہ صرف ویزا دینے سے انکار کردیا بلکہ ان کا پاسپورٹ ضبط کیا جاتا ہے۔ دھوکہ دہی کے مرتکب افراد پر نہ صرف برطانیہ کا دورہ کرنے کیلئے 10سال تک پابندی عائد کی جاتی ہے بلکہ دیگر ملکوں امریکہ اور آسٹریلیا کا بھی یہ لوگ دورہ نہیں کرسکتے۔ اس کے علاوہ انہیں فوجداری تحقیقات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ہندوستان بھر میں ایسے کئی ٹراویل ایجنٹ ہیں جو درخواست گذاروں کو جعلی و فرضی دستاویزات تیار کرکے دیتے ہیں، عوام کو ایسے ایجنٹوں کے جھانسہ میں نہیں آنا چاہیئے۔

TOPPOPULARRECENT