Saturday , May 27 2017
Home / Top Stories / دھوکہ دہی، بد دیانتی اور جمہوریت کا قتل یو پی میں بی جے پی کی کامیابی کی وجہ

دھوکہ دہی، بد دیانتی اور جمہوریت کا قتل یو پی میں بی جے پی کی کامیابی کی وجہ

مایاوتی کا برقی رائے دہی مشینوں میں خلل اندازی کا الزام ، عدالت سے رجوع ہونے کی دھمکی، پریس کانفرنس
لکھنو۔ 15 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی نے آج برقی رائے دہی مشینوں میں خلل اندازی کے خلاف عدالت سے رجوع ہونے کا فیصلہ کیا۔ انہوں نے فیصلہ کیا کہ ہر ماہ ایک یوم سیاہ منایا جائے جو بی جے پی کی جانب سے جمہوریت کے قتل کے خلاف احتجاج ہوگا۔ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ انتخابات میں بی جے پی کی کامیابی غیر دیانتداری اور دھوکہ دہی کی کامیابی ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہماری شکایت پر الیکشن کمیشن سے مناسب جواب حاصل نہیں ہوا۔  11 مارچ کو انتخابی نتائج کے فوری بعد شکایت درج کروائی گئی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ہم آئندہ اس قسم کی دھوکہ دہی کے انسداد اور جمہوریت کے تحفظ کے لیے عدالت سے رجوع ہوں گے۔ بی ایس پی قائد انتخابی ناکامی کا تجزیہ کرنے کے لیے پارٹی کارکنوں کے اجلاس سے قبل پریس کانفرنس سے خطاب کررہی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ سبکدوش ہونے والی اسمبلی میں بی ایس پی کے 80  ارکان تھے جبکہ حالیہ انتخابات میں  403 رکنی اسمبلی میں ہم صرف  19 نشستیں حاصل تھیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پارٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ پورے اترپردیش اور دیگر ریاستوں میں اس دھوکہ دہی کو بے نقاب کرنے کے لیے احتجاج کیا جائے گا اور پارٹی یوم سیاہ منائے گی۔ تمام ضلع ہیڈکوارٹرس پر یو پی اور دیگر ریاستوں میں ریاستی ہیڈکوارٹر پر ہر مہینے کی 11 یوم سیاہ منایا جائے گا کیوں کہ اسی دن جمہوریت کا قتل ہوا ہے۔ پہلا احتجاجی مظاہرہ 11 اپریل کو ہوگا۔ مایاوتی نے الزام عائد کیا کہ بڑے پیمانے پر برقی رائے دہی مشینوں میں خلل اندازی کی گئی اور 11 مارچ کو انتخابی نتائج کے اعلان کے بعد ایسا کیا گیا۔

اب بی جے پی نے یہ بہانہ بنایا ہے کہ ایسا نہیں ہوا وہ پنجاب، گوا اور منی پور میں ایسا ہی کرسکتے تھے۔ انہوں نے کہا کہ عوام کو سادہ لوح نہ سمجھیں اگر وہ دوسری ریاستوں میں ایسا کرتے تو وہ سوالات کے جو عوام کرتے مناسب جواب نہ دے سکتے۔ مایاوتی نے کہا کہ کسی وجہ سے انہوں نے چھوٹی ریاستوں میں برقی رائے دہی مشینوں میں خلل اندازی نہیں کی۔ انہیں اپنے دفاع کے لیے بھی کچھ نہ کچھ رکھنا ضروری تھا۔ مایاوتی نے کہا کہ یو پی میں انہوں نے ایسا اس لیے کیا کیوں کہ وہ کہا کرتے تھے کہ مرکز تک پہنچنے کے لیے یو پی کے راستے سے گزرنا پڑتا ہے۔ اسی وجہ سے انہوں نے اس پر توجہ مرکوز کی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی نے برقی رائے دہی مشینوں میں خلل اندازی کے ذریعہ بے دنیانتی، دھوکہ دہی اور جمہوریت کے قتل کے ذریعہ کامیابی حاصل کی۔ اگر ذرائع ابلاغ دیانتدار ہوتے تب وہ اس کوہضم نہ کرپاتے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی کے لوگ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے اپنی پارٹی کو ووٹ دیا تھا لیکن ان کے ووٹ ’’کمل‘‘ کو چلے گئے۔ وہ حیران ہیں کہ ایسا کیسے ہوا۔ مسلم اور دلت غالب آبادی والے علاقوں میں بھی بی جے پی کامیاب رہی۔ حالانکہ یہاں اسے کسی نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ بی جے پی کہہ رہی ہے کہ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر ان کے موقف کی وجہ سے بی جے پی کو مسلم خواتین کے ووٹ حاصل ہوئے۔ کیا کہ مذہب کی آڑ لینا نہیں ہے۔ جب بی جے پی مسلمانوں کو ایک بھی ٹکٹ نہیں دیتی تو ان کے ووٹ کیوں چاہتی ہے۔ اگر وہ مسلم خواتین کے بہی خواہ ہوتے تو 20 تا 25 ٹکٹ دیئے جاتے۔ بی ایس پی صدر نے الزام عائد کیا کہ عوام کی توجہ دھوکہ دہی سے ہٹانے کے لیے بی جے پی نے کہا کہ اس کی ذہنیت تبدیل ہوگئی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT