Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / دہشت گردوں سے لڑنے ’’گائو رکھشکوں‘‘ کو بھیج دو : ادھو ٹھاکرے

دہشت گردوں سے لڑنے ’’گائو رکھشکوں‘‘ کو بھیج دو : ادھو ٹھاکرے

پاکستان سے نمٹنے 56 انچ کا سینا چاہئے، حلیف شیوسینا کا بی جے پی کی مرکزی حکومت کو مشورہ، مودی کے انتخابی نعرے کا حوالہ
ممبئی۔12 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) شیوسینا نے آج وزیراعظم اور بی جے پی پر امرناتھ یاتریوں پر دہشت گرد حملے کے پس منظر میں تنقید کرتے ہوئے اپنی سینئر حلیف پارٹی سے کہا کہ ’’گائو رکھشکوں‘‘ کو دہشت گردی کے خلاف جنگ کے لیے وادی کشمیر بھیج دیا جائے۔ این ڈی اے کی حلیف پارٹی نے آج کہا کہ مرکزی حکومت صرف ایسے حولناک حملوں کی کاغذی مذمت کررہی ہے اور اعلان کررہی ہے کہ دہشت گردوں کو انصاف کے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا۔ شیوسینا نے کہا کہ حکومت کے پاس پاکستان سے موجودی حالت میں نمٹنے کے لیے 56 انچ کے سینے کی ضرورت ہے۔ شیوسینا وزیراعظم نریندر مودی کے عام انتخابات کے مہم کے دوران بار بار وزیراعظم مودی کے اس ادعا کا حوالہ دے رہی تھی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان سے نمٹنے کے لیے 56 انچ سینے کی ضرورت ہے۔ گجرات اور مہاراشٹرا کے 7 یاتری ہلاک اور 19 پیر کی رات دہشت گردوں کے حملے میں جو امرناتھ یاترا پر کیا گیا تھا، زخمی ہوئے تھے۔ مبینہ طور پر اس حملے کی سازش پاکستان میں مقیم عسکریت پسندوں کے لیڈر نے کی تھی۔ شیوسینا نے آج اپنی پارٹی کے ترجمان سامنا کے اداریہ میں کہا کہ مرکز کے پاس اس بے رحم حملے کا ایک ہی جواب ہے، وہ سوشل نیٹورکنگ سائٹ ٹوئٹر پر اس کی مذمت کرتی ہے۔ اداریہ میں کہا گیا ہے کہ کس کے پاس ہمت ہے کہ آج ایسی غیر انسانی کارروائیوں کو روک سکے؟ آپ مہلوکین کے ساتھ اظہار ہمدردی کرتے ہوئے یا صرف کاغذی مذمت کے ذریعہ دہشت گردوں کے خلاف جنگ کیسے کرسکتے ہیں۔

مرکزی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے کل کہا تھا کہ وہ جموں و کشمیر کے عوام کو سلام کرتے ہیں جنہوں نے امرناتھ یاتریوں پر حملے کی مذمت کی ہے اور کشمیریت کے جذبے کو زندہ رکھا ہے۔ انہوں نے اس حملے کو انتہائی بدبختانہ اور دردناک قرار دیا تھا۔ شیوسینا نے کہا کہ کشمیر میں حکومتی نظام آج بری طرح ناکام بلکہ مکمل طور پر منہدم ہوچکا ہے۔ شیوسینا نے کہا کہ کشمیر میں جو بحران آج پایا جاتا ہے وہ ملک کے اتحاد کے لیے خطرناک ہے۔ شیوسینا نے کہا کہ جموں و کشمیر میں آج کی حقیقت کا احساس رکھنے والی کوئی حکومت موجود نہیں ہے۔ حکومت پر دہشت اور تشدد کا غلبہ ہے جو وادی میں دہشت گردوں نے برپا کر رکھی ہے۔ ریاست کو دہشت گردوں کے خاتمہ کے لیے 56 انچ کے سینے کی ضرورت ہے۔ اگر پاکستان اور دہشت گردوں کو سخت پیغام دینا ہو تو دستور کی دفعہ 370 اندرون ایک ہفتہ حذف کردی جائے اور دنیا کو دکھادیا جائے کہ جموں و کشمیر ہندوستان کا اٹوٹ حصہ ہے۔ کل صدر شیوسینا اودھو ٹھاکرنے اپنی سینئر حلیف پارٹی سے کہا تھا کہ وادی کشمیر میں دہشت گردوں سے جنگ کے لیے ’’گائو رکھشکوں‘‘ کو روانہ کیا جائے۔ انہوں نے کہا تھا کہ وہ ’’بی جے پی‘‘ کہا کرتی تھی کہ وہ اسپورٹس اور تہذیب و ثقافت وغیرہ سیاسی مسائل میں احیاء نہیں کرے گی۔ آج مذہب اور سیاست دہشت گرد حملے کی شکل میں یکجا ہوچکے ہیں۔ کیا ہمیں سمجھ لینا چاہئے کہ یہ دہشت گرد آج بھی اس لیے زندہ ہیں کیوں کہ ان کے تھیلوں میں ہتھیار نہیں بلکہ بیف موجود ہے۔ ادھو ٹھاکرے نے آئندہ گنیش تہوار کے سلسلہ میں کہا کہ گائو رکھشکوں کا مسئلہ آج سب سے بڑا مسئلہ ہے۔ آپ ان کے مختلف گنیش منڈلوں کے نمائندوں کو اس مسئلہ کی یکسوئی کے لیے کیوں نہیں روانہ کردیتے۔ ٹھاکرے کی پارٹی کے بی جے پی کے ساتھ فی الحال کشیدہ تعلقات ہیں۔

TOPPOPULARRECENT