Saturday , August 19 2017
Home / عرب دنیا / دہشت گردوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے ، ترک صدر کا عزم

دہشت گردوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیں گے ، ترک صدر کا عزم

ترکی کو دہشت گردی کیخلاف لڑائی میں امریکی تائید کا اعادہ ۔ کرد ٹھکانوں پر ترک طیاروں کی بمباری ۔ درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا گیا
انقرہ ، 14 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) ترکی کے دارالحکومت انقرہ میں اتوار کی شام کے دھماکے میں مہلوکین کی تعداد 37 تک پہنچ گئی اور صدر رجب طیب اردغان نے عزم ظاہر کیا ہے کہ حکومت دہشت گردوں کو ’گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دے گی۔‘ ترک صدر نے کہا کہ اس قسم کے حملوں سے ملک کی افواج کا عزم مزید مضبوط ہی ہوتا ہے۔ یہ دھماکہ شہر کے مرکزی اور مصروف حصے کیزیلے میں واقع گووین پارک میں ہوا اور ترک وزیر صحت کا کہنا ہے کہ اس میں 70 افراد زخمی بھی ہوئے ہیں، جن میں سے 19 کی حالت نازک ہے۔ وزیر داخلہ افقان علی نے کہا ہے کہ اس دھماکے کے بارے میں تحقیقات بہت جلد مکمل ہو جائیں گی اور اس کے ذمہ داران کے نام سامنے لائے جائیں گے۔ تاحال کسی گروپ نے اس کی ذمہ داری قبول نہیں کی ہے لیکن حکومتی ذرائع اس کارروائی کیلئے کردستان ورکرز پارٹی (پی کے کے) پر شبہ ظاہر کر رہے ہیں۔ کرد باغیوں نے حالیہ مہینوں میں ترک علاقے میں کئی حملے کئے ہیں جبکہ شدت پسند تنظیم دولتِ اسلامیہ بھی انقرہ کو نشانہ بنا چکی ہے۔ اس حملے کے بعد ترک طیاروں نے شمالی عراق میں کرد ملیشیا کے ٹھکانوں کو نشانہ بھی بنایا ہے جبکہ پولیس نے ملک کے جنوبی شہر ادانا میں درجنوں مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ صدر اردغان نے ایک بیان میں کہا کہ دہشت گرد گروہ ترک افواج کے خلاف جنگ ہارنے کے بعد اب عوام کو نشانہ بنا رہے ہیں۔ قومی اتحاد کی اپیل کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ ترکی مزید حملوں کی روک تھام کیلئے اپنے دفاع کا حق استعمال کرے گا۔ ترک صدر نے کہا کہ ’عوام کو فکرمند نہیں ہونا چاہیے۔ دہشت گردی کے خلاف یہ جنگ یقینا کامیابی پر ختم ہوگی اور دہشت گردوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا جائے گا۔‘ امریکہ اور شمالی بحر اوقیانوس کے ممالک کے اتحاد نیٹو نے بھی اس دھماکے کی مذمت کی ہے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے کہا : ’’ہم دہشت گردی کے مشترکہ خطرے سے لڑنے کیلئے اپنے نیٹو اتحادی ترکی سے مضبوط شراکت کا اعادہ کرتے ہیں‘‘۔ نیٹو کے سکریٹری جنرل نے کہا ہے کہ اس قسم کے پرتشدد اور خوفناک اقدام کی کوئی توجیح پیش نہیں کی جا سکتی۔ انقرہ میں  اس دھماکے کے بعد کسی دوسرے دھماکے کے خدشے کے پیشِ نظر علاقے کو خالی کروا لیا گیا تھا۔ ترک وزیر صحت محمد موذنوغلو نے آج  صبح صحافیوں کو بتایا کہ دھماکے کے نتیجے میں 30 افراد موقع پر ہی ہلاک ہوئے جبکہ 7 نے اسپتال میں دم توڑا۔ مہلوکین میں دو حملہ آور بھی شامل ہیں۔70 زخمیوں کا شہر کے مختلف اسپتالوں میں علاج جاری ہے جن میں سے 19 کی حالت تشویشناک ہے۔ انقرہ اس دھماکے سے قبل گزشتہ چند ماہ میں دو بڑے دھماکوں کا نشانہ بھی بن چکا ہے۔

TOPPOPULARRECENT